از قلم : مدثر احمد شیموگہ۔9986437327
ملک کی مختلف ریاستوں میں مدارس اسلامیہ کے سروے کے لئے حکومتیں سرگرمیاں شروع کرچکی ہیں اور اس سروے کو لے کر ملک کے کئی دانشوران ، اہل علم حضرات اور مسلم نمائندہ تنظیموںنے استقبال کیاہے، اس سلسلے میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیموںنے کہا کہ ہم اہل مدارس اس بات سے خوفزدہ نہیںہیں کہ مدارس کا سروے ہورہاہے کیونکہ ہمارے پاس کسی بھی طرح کی غیر قانونی سرگرمی نہیں ہورہی ہے اور تمام مدارس قانون کے دائرے میں ہیں ۔ ممکن ہے کہ بھارت کے کئی مدارس قانون کے دائرے میں ہوں اور وہ کسی بھی طرح کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں ہیں ۔ یہاں سوال یہ ہے کہ غیر قانونی سرگرمی سے کیا مراد ہے ؟۔ کیا دہشت گردی کی تربیت دیناہی غیر قانونی سرگرمی ہے ؟۔ کیا جہاد کی تعلیم دینا ہی غیر قانونی سرگرمی ہے ؟۔ کیا چندے کا حساب نہ دینے ہی غیر قانونی سرگرمی ہے ؟۔ یہ وہ کیٹگیریز ہیں جس کا مدارس اسلامیہ سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ لیکن ان تمام نکات کو چھوڑ کر اور بھی کئی غیر قانونی مدرسے قرار دینے کے لئے حکومتوں کے پاس جوابات ہیں جو آنے والے دنوں میں واضح ہونگے ۔ ملک کے بیشتر مدرسوں کا رجسٹریشن سوسائٹی ایکٹ یا ٹرسٹ ایکٹ میں ہواہے ۔70 فیصد سے زیادہ مدرسوں کی زمینی ریویینو یعنی غیر رجسٹر شدہ زمینیں ہیں ۔ 90 فیصد مدارس کارپوریشن ، گرام پنچایت یا پھر میونسپل کائونسل سے غیر لائسنس شدہ ہیں ۔ یہاں تک کے میونسپل ایکٹ کے مطابق جونکات ہیں ان نکات پر مدارس کی عمارتیں پورے نہیں ہوتے ۔ ایسے میں مدرسے تو سوسائٹی یا ٹرسٹ ایکٹ میں بنالیے جاتے ہیں لیکن ان مدرسوں کا نہ توسالانہ آڈیٹ ہوتاہے نہ ہی رینیویل کروایا جاتاہے ۔ اسی طرح سے کئی زمینیں روینیو ہونے کے باوجود ان زمینوں کے اصل مالکان سے مدرسے کے نام پر کسی نے رجسٹریشن کروانے کی کبھی کوشش نہیں کی ہے ۔ کس مدرسے میں کتنے چندے کی کتابیں جاری ہوئی، اس سے کتنی رقم آئی ، کون اسے وصول کررہاہے اس کا حساب کتاب بھی بہت کم مدرسے ہی رکھتے ہیں ، ایسے میں مدرسوں کے سروے کے لئے استقبال کرنا کہاں تک درست ہے یہ سمجھ نہیں آرہاہے ۔ ساتھ ہی ساتھ جن لوگوں نے استقبال کیاہے انہوںنے حکومتوں کے سامنے یہ سوال کیوںنہیں کیا کہ صرف مدرسے ہی کیوں ؟۔ اسکولوں کالجوں ، مٹھوں ، آشرموں کے سروے کے لئے حکومت سے مطالبہ کیوں نہیں کیا گیا ہے ؟۔ ایک طرف بیرسٹر اسدالدین اویسی نے مدارس کے سروے کی مخالفت کرتے ہوئے مدرسوں کے وجود کو بحال رکھنے کی بات کررہے ہیں تو وہیں دوسری جانب مسلم دانشوران اور اہل علم حضرات حکومتوں کے سامنےگھٹنے ٹیک رہے ہیں ۔ آج مدرسوں پر سوال اٹھ رہے ہیں تو وہ دن دور نہیں کہ کل مسجدوں کے سروے کے لئے بھی حکومت کی طرف سے پیش رفت کی جائیگی ، کیا تب بھی ایسے ہی حکومت کے فیصلے کا استقبال کیاجائیگا ؟۔ جس طرح سے مدرسوں کے دستاویزات ، آمدنی کےوسائل اور ملکیت سوالیہ گھیرے میں ہے اسی طرح سے مسجدوں کی بھی حالات ہے ۔ کئی مسجدوں کی تعمیر قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کی گئی ہے اور کئی مسجدوں کے دستاویزات نہ کہ برابر ہیں ، ایسے میں اہل علم حضرات کو چاہئے تھا کہ وہ پہلے بنیادی دستاویزات، حالات کو درست کریں پھر استقبال کریں ۔ یہاں بات یہ ہوئی کہ خود مسلمان یہ کہہ رہے ہیں کہ آ بیل مجھے مار۔ بڑ ے مسجدوں ، بڑے مدرسوں کے لئے استقبال کرنے سے کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن جو چھوٹے مدرسے ہیں انکا کیا حال ہوگا یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے ۔
