مہاراشٹر میں صدر راج نافذکیاجائے اوریم ای ایس پر پابندی عائدکی جائے: پروین کمارشیٹی

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ: ۔کنڑیوں کی خود اعتمادی کو چوٹ پہنچانے میں مرکزاورریاستی حکومت دونوں ہی شامل ہیں۔ مہارشٹرا میں ایم ای ایس پر پابندی عائد کرتے ہوئے صدرراج نافذ کیا جاناچاہئے۔ اس بات کامطالبہ کرناٹکا رکشناویدیکے نےکیا ہے۔ویدکےکے صدر پروین کمار شیٹی نےآج شہر کے شیوپانائک سرکل میں ضلعی یونٹ کے ذریعہ منعقدہ احتجاجی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اودھوٹھاکرےکا پتلا جلااور کرناٹک میں ایم ای ایس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا۔مظاہرین نے الزام لگایا کہ بیلگاوی میں فساد کے دوران جب پوراریاستی پولیس نظام وہاں موجود تھا اسکے باوجودایک پولیس جیپ کو آگ لگاتی ہے،سنگولی رائنا کے مجسمے کو توڑ دیا گیااور کنڑی پرچم کوجلادیا گیا ہےاتنا ہی نہیں بسونا کی تصویر کو داغدار کیا گیاہے۔ پولیس کی موجودگی میں ہی کنڑیوں پر حملہ اور مار پیٹ ہوئی ہے اوریہ بات ہم کنڑی کبھی برداشت نہیں کریںگے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ 31 دسمبر کو ہونےجارہے کرناٹک بند میں دلت، کسان اور کنڑ ی تنظیموں نے احتجاج کی حمایت کی ہے۔مرکزی اورریاستی حکومت کو خبردار ی کا پیغام دینے کیلئے بند کرنا لازمی ہے۔ فلم انڈسٹریس کی کمرشیل بورڈمیں بعض فلموں کواسی دن ریلیز کیا جارہا ہے اس وجہ سے صرف اخلاقی حمایت کی گئی تھی لیکن وہ بھی حقیقت سے واقف ہو چکے ہیں۔ ہمیں بند کرنے کا کوئی خیال نہیں تھا لیکن کنڑیوں کے عزت وقار کو دیکھتے ہوئے بند کرنا ضروری ہوچکا ہے۔ مزید بتایا کہ اس ضمن میں 28  لوک سبھا ممبران ،صدر اور وزیر اعظم سے ملاقات کرتے ہوئے کنڑیوں پر ہونے والے تشدد کے بارے میں متوجہ کروانے کی کوشش کی گئی اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ پر دبائوڈالاجائےکہ وہ ایم ای ایس پر پابندی عائد کردیں اور مہاراشٹر میں صدرراج نافذ کیا جائے لیکن کئی سیاسی پارٹیاںایم ای ایس کے ووٹوں کی خاطر انکی حمایت کرکے سیاست کررہی ہیں۔ تنظیم اس کی شدید مذمت کرتی ہے اورخبردار کرتی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ریاست میں اس پر پابندی عائد کردی جانی چاہئے۔اگر ایسا نہیں ہوتاہے تو اسکے  خلا ف شدید تحریکیں چلائی جائیںگی ۔احتجاج میں تنظیم کےمدھو، کیبل منجو، وجے کمار، امریش گوڑا، انیل، روی، دھننجے، راجو، لوہت وغیرہ موجود تھے۔