عزیز مسلمانوں ، نمازیوں ۔۔۔ امید کہ آپ تمام کا رمضان بخیر گزررہاہے اور آپ تمام رمضان کی سعادتوں ، برکتو ں اور رحمتوں سے مالامال ہونے کیلئے پوری کوشش کررہے ہونگے ، پچھلے سال ہم نے پورے رمضان کو کورونا کی وباء کی آڑ میں گزارا تھا ، امسال ہماری امید تھی کہ ہم رمضان کو کورونا سے پاک گزارینگے ، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ امسال بھی کورونا وباء کی وجہ سے ہم مسلمانوں کو نائٹ کرفیو اور ویکنڈ کرفیو جیسے مرحلوں میں رمضان گزارنا پڑرہاہے اور ہمیں رمضان میں پوری طرح سے کھل کر عبادتیں کرنے کا موقع مل نہیں پارہاہے، اللہ سے دعا کریں کہ اللہ ہمارے رمضان کو سکون و اطمینان کے ساتھ گزارنے کا موقع دے اور اسکے بعد کی زندگی بھی امن ، سکون ، وباء سے پاک اور اسکے احکاماتوں پر چلنے کی زندگی گزارنے کی توفیق و طاقت دے ۔
عزیزو۔ پچھلے سال جب مجھے کورونا ہوا تھا اس وقت بھی ایک پیغام میں نے دیا تھاکہ کورونا کچھ بھی نہیں ہے اور ایک معمولی بیماری ہے ،بس اس بیماری سے بچنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ اس قدر خطرناک صورت اختیار کرلیتی ہے کہ اس سے بچنے کی امیدیں کم ہوجاتی ہیں اور ہمارے اپنے ہم سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ بظاہر اخبار پڑھنے والوں ، ٹی وی دیکھنے والوں اور چرچہ کرنے والوں کے لئے ہماری موت گنتی سے زیادہ کچھ نہیں اور کچھ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ کیا آج اتنے ہی لوگ مرے ، پھر تو کم اموات ہورہی ہیں ۔ آج وہی پیغام میں پھر سے دہرا رہا ہوں کیونکہ آج حالات پھر سے وہی ہوتے جارہے ہیں ، ہر طرف موت بکھری ہوئی ہے ، موت بہت سستے داموں میں مل رہی ہے اور کچھ لوگوں کو مر کر بھی بھاری قیمت ادا کرنی پڑرہی ہے ، ہر طرف نفسی نفسی کا عالم ہے ، جہاں دیکھو وہاں پر لوگوں میں ماتم مچا ہواہے اور ہم ان موتوں کا اندازہ نہیں لگارہے ہیں ۔ میں ایک صحافی ہوں لیکن اس سے پہلے انسان ہوں پھر مسلمان ہوں اور آخر میں صحافی ہوں ۔ مجھے بیک وقت تینوں شعبوں میں انصاف کرنا ہے اس لئے میں حالات کو بیان کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری کو ادا کرنا چاہ رہاہوں ۔ کورونا واقعی معمولی بیماری ہے لیکن اس معمولی بیماری سے نمٹنے کے لئے ہمارے پاس نہ تو سہولتیں ہیں نہ ہی حکومتوں کی کوئی تیاری ہے ، یہ بیماری بالکل اس مہمان کی طرح ہے جو اچانک ہی درجنوں کی تعداد میں گھر پر کھانے کے وقت آجا تے ہیں ، ایسے وقت میں گھر والوں کو انتظامات کیا کرنے ہیں کس طرح سے کرنا اور کیسے کرنا ہے سمجھ میں نہیں آتااور جب تمام تیاریاں کرتے ہوئے انکی مہمان نوازی کی جاتی ہے تو کہیں نہ کہیں کوئی چوک ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مہمان ناراض ہوکر چلے جاتے ہیں یا پھر میزبانی پر سوالیہ نشان لگاکر چلے جاتے ہیں بالکل کورونا اچانک مہما ن بن کر آتاہے اور اسکی میزبانی کے لئے منصوبہ بنانے تک ناراض ہوکر میزبان کوموت کے منہ سلاجاتا ہے ۔ اس لئے میزبانوں کو چاہئے کہ وہ مہمانوں کے لئے کم کھانا بنائیں لیکن میعاری کھانا بنائیں یعنی کہ کورونا جب آتاہے تو اسے زیادہ پھیلنے کا موقع نہ دیں بلکہ احتیاط برتیں اور اپنوں کو کورونا کی ناراضگی سے بچائیں ۔
اب رہی بات نمازوں کی ۔ میں بھی مسلمان ہوں اور مجھے بھی نمازو رمضان کی اہمیت معلوم ہے ،لیکن میں ساتھ میں کورونا کا مریض بھی رہ چکا ہوں اور میں نے اسپتال میں کیا ہوتاہے یہ بھی دیکھا ہے ، میں بغیر جنازوں ، بغیر غسل اور بغیر کفن کے کورونا کے مریضوںکو اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھاہے ، میں اسپتالوںمیں دیکھاہے کہ وہاں پر سفارش کی بنیاد پر بھی علاج کوترجیح دی جاتی ہے ، وہاں مذہب کی بنیاد پر بیڈ و طبی سہولیات ملتے ہوئے دیکھا ہے ، وہاں پر بچوں کے لئے تڑپتے ہوئے ماں باپ دیکھے ہیں ، ماں باپ کے لئے فکرمند بچے دیکھے ہیں ایسے میں ہمیں احتیاط برتنا ضروری ہے ، ہمیں گھر سے اسی وقت نکلنا چاہئے جب ضرورت پڑے ، ہمیں ماسک اس لئے لگانا نہیں چاہئے کہ ہم پر پولیس کہیں جرمانہ نہ عائد کرے بلکہ جو سانس ہم لیتے ہیں وہ سانس کم ازکم پاک ہو۔ ہماری عبادت گاہوں کو بند کرنے کے لئے اس لئے احکامات نہیں دئے جارہے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں بلکہ تمام مذاہب کے لوگوں کے عبادت گاہوں کو بند کرنے کے لئے احکامات دئیے گئے ہیں اور ہمارے لئے گھروں میں نماز پڑھنے کے لئے بھی تو گنجائش ہے ، ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں آندھی و بارش میں گھروں میں رہنے کی ہدایت دی ہے ، وباء میں باہر نہ نکلنے اور ایک دوسرے سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے ۔ ایک دوسرے سے فاصلہ برتنے کے لئے بھی حدیث ہے اور نماز کو گھر میں پڑھنے کے لئے بھی طریقہ ہے ، تراویح پڑھنا سنت ہے لیکن وباء میں خطرہ نہ مول لینا بھی تو سنت ہے ، ایک سنت چھوڑ رہے ہیں تو دوسری سنت کا ثواب بھی تو مل رہاہے ۔ جس ملک میں رہ رہے ہوں اس ملک کے قانون کو ماننا صرف سنت ہی نہیں بلکہ فرض بھی ہے بشرطیکہ وہ شرک نہ ہو۔ ہمارے لئے ہرطرف سے ثواب ہی ثواب ہے بس اسے تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر اتنی لمبی تحریر میں کیوں لکھ رہاہوں ۔ عزیز مسلمانوں ، میں دیکھ رہاہوں کہ ہم مسلمان حکومت کے اس قدم سے ناراض ہیں کہ ہمیں نماز پڑھنے سے روکا جارہاہے ، لیکن حکومت نے کہیں بھی آپ کو نماز پڑھنے سے نہیں روکا بلکہ گھروں میں نماز پڑھنے کے لئے روکا ہے جو ہمارے لئے ہی مفید ہے ، ہم کنبھ کے میلے سے کمپیر کررہے ہیں کہ انہیں کنبھ کا میلہ منعقد کرنے کے لئے سہولت دی گئی لیکن مسلمانوں کے لئے سہولت نہیں دی جارہی ہے ۔ میں بتادوںکہ اگر حکومت بغیر کسی ٹھوس وجہ کہ مسجدوں کو بند کرنے کا حکم دیتی تو سب سے پہلے میں مخالفت کرتا اور کوشش کرتا کہ حکومت کے خلاف جاکر ہی کیوں نہ مسجدوں کو کھلواتا ، لیکن عزیز دوستوں ۔ یہاں کورونا جیسی مہلک بیماری ہے جس سے بچنا ہمارے لئے بے حد ضروری ہے ، کئی ایسے بزرگ جویہ کہتے ہیں کہ وہ بھی تو باجماعت نماز پڑھنا چاہتے ہیں اسلئے مسجد کا رخ کرتے ہیں لیکن اسلام میں مسجد کے اندر ہی باجماعت پڑھنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے اگر حالات ا س بات کی اجازت نہیں دیتے ہیں کہ لوگ مسجد میں اکھٹا نہیں ہوسکتے تو نہ اکھٹا ہوں ، گھر وں کی چھت پر ، گھروں کے دالان میں ، گھروں کے آنگن میں بھی دس -بارہ لوگ با جماعت عبادت کرسکتے ہیں اسمیں برائی کیا ہے ؟ ۔
مسلمانوں کے لئے انکا دین آسان ہے اور مسلمانوںنے دین کو مشکل بنا لیاہے ، کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم منسٹر کے پاس جائینگے ، وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرینگے اور ڈی سی یا یس پی سے ملاقات کرتے ہوئے نماز کے لئے اجازت لے آئینگے تو یہ لوگ ایک طرح سے سیاست کررہے ہیں ، ہمیں ہمارے دین نے ایسی زبردستی کی عبادت کرنے کا حکم نہیں دیا ہے خاص کر وباء یعنی پینڈمک کے موقع پر ، ایسے میں اجازت کی بھی ضرورت نہیں ہے ، اگر اجازت لے بھی آئیں ، مسجدوں میں نمازیں شروع بھی ہوجائیں تو کون وہ لوگ ہیں جو کورونا سے بچنے کے ضوابط پر عمل کرتے ہوئے مسجد میں داخل ہونگے ،کتنے بزرگ قانون کو مان کر گھروں میں رہیںگے ؟۔ کتنے باپ اپنے بچوں کو چھوڑ کر مسجد کو آئینگے اور ساتھ میں بچوں کو لائینگے تو منع کرنے پر کون کون خاموش رہے گا ؟۔ کوئی قانون کو ماننے والانہیں ہے کیونکہ سب کے لئے موت کھلونا بن چکی ہے ،ہم مرتے ہیں تو کاندھا دینے والوں کو کوئی اثر نہیں پڑیگا نہ ہی حکومت کو ، بلکہ اثر ہمارے ماں باپ ، بیو ی ، بچوں پر پڑیگا کیونکہ ہم ہی انکا آسرا ہیں ، یہ الگ بات ہے کہ موت کبھی بھی آسکتی ہے لیکن اسکے لئے وباء میں جاکر موت کوگلے لگانا خود کشی ہی ہے۔ یہ بات صرف مسجد وں تک ہی محدود نہیں بلکہ بازاروں اور دیگر سرگرمیوں کے لئے بھی عائد ہوتی ہے ۔
کچھ لوگ کنبھ کے میلے ، تہوار، دیوالی کی مٹھائی کو بنیاد بناکر یہ شکوہ کررہے ہیں کہ یہ حکومت کی چال ہے کہ وہ غیر مسلموں کو کھلا چھوڑرہی ہے اور مسلمانوں کے تہوار کے موقع پر پابندی لگارہی ہے ۔ مثال مشہور ہے کہ جب اونٹ اپنی کھجلی والی جگہ پر آگ سے جلالے بھی تو اسکوکوئی اثر نہیں پڑتا وہی کام مکوڑا کرے تو جل جاتاہے ، اسی طرح سے اگر وہ موت کے منہ میں جانا چاہتے ہیں تو انہیں جانے دیں ہم کیوں انکے ساتھ جائیں ۔ ویسے بھی عذاب بری قوموں پر ہی آتے ہیں اور ہوسکتاہے کہ یہ انکے لئے عذاب ہواور اس عذاب میں وہ ہلاک ہوجائیں اور ہمیں اس عذاب سے بچنے کے لئے تو اللہ اور اسکے رسول نے روحانی و عملی علاج بتایا ہے اس پر عمل کریں ۔ ہم مقابلہ صحت مند ہوکر کرینگے نہ کہ بیماری میں جاکر ، اگر وہ بیمار ہونگے تو انہیں بچانے کے لئے انکی قوم کے لئے سفارش کرنے آگے آئینگے لیکن مسلمان بیمار ہونگے تو کون بچائیگا اور کون سفارش کریگا۔وہ مرتے ہیں تو مرنے دو ۔ ہمیں جینا ہے ، ہمارے لئے ، اپنوں کے لئے اور اپنی قوم کے لئے ۔
از:۔مدثر احمد شیموگہ
9986437327
