شیموگہ میں ویکینڈ کرفیو کا پڑا بھاری اثر،شہرکی مختلف سڑکیں رہیں سنسان

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

شیموگہ :ریاستی حکومت کے احکامات کے مطابق ویکینڈ کرفیو میں شیموگہ شہر میں سب سے زیادہ اثر دکھائی دیاہے۔ پہلی مرتبہ صبح 10 بجے کے بعد میڈیکل، دودھ اور اسپتالوں کے علاوہ بقیہ تمام کاروبار مکمل طورپر بند دکھائی دیا۔ 10بجے کے بعد لوگوں نے رضاکارانہ طور پر دکانیں بند کرتے ہوئے کرفیو کو کامیاب بنایا ہے۔ چند اہم سڑکوں میں اورشہر کے متعدد علاقوں میں بھی کرانہ دکانیں سمیت چائے کی دکانیں ، پھل ، پھولوں کی دکانیں بند نظرآئیں۔ راستوں پر لوگوں کا ہجوم بھی کافی کم دکھائی دے رہا ہے۔ چند نجی بسیں جو صبح کے وقت نقل وحمل کرتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں دوپہر کے بعد وہ بھی بند ہوگئیں۔ آٹو رکشا کی تعداد بھی نہ کے برابر رہی ہے۔ کچھ لوگ جو اسپتال، دفتر یا ایمرجنسی کاموں کی وجہ سے باہرنکلے ہیں انہیںکی سواریاں اورکاریں سڑکوں پر دوڑتی ہوئی نظرآئی ہیں۔ضلع انتظامیہ اور محکمہ پولیس نےمل کر ضروری کارروائی کی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ لوگوں نے پولیس کو یہ کہنے کا موقع ہی نہیں دیا کہ "کرفیو لگاہوا ہے آپ لوگ گھر چلے جائیں "بلا ضرور باہر نہ نکلیں "لیکن پھر بھی پولیس کی گاڑیاں مختلف علاقوں میں گھومتی ہوئی عوام کو ہوشیار کرتی ہوئی دکھائی دیں۔ سنیما، شاپنگ مال، جم سنٹرس، پارک، خالی پڑے ہوئے ہیں، شراب کی فروخت بھی مکمل طور پر بندہوئی ہے۔ صبح کے وقت کچھ دودھ کی دکانوں، گوشت اور کرانہ دکانوں پر لوگ قطاربنائے ہوئے خریداری کرتے ہوئے دکھائی دئے اسکے علاوہ کہیں بھی لوگوں کا ہجوم دکھائی نہیں دیا ہے۔ اے پی ایم سی مارکٹ بھی عام دنوں میں جسطرح بروز ہفتہ بند رہتا ہے آج بھی بند ہی رہا۔ہمیشہ ہی عوام کا ہجوم رہنے والاعلاقہ گاندھی بازار میں دور دور تک عوام کی چہل پہل تک نظرنہیں آئی ، یہاں تمام دکانیں بند ہوچکی تھی ۔اسکے علاوہ امیر احمد سرکل،نہرو روڈ ، بی ایچ روڈ، کوئمپوروڈ، درگی گڑی ، سولنگا روڈ، آلکولہ روڈ، اولڈ تیرتھ ہلی روڈ سمیت تمام اہم سڑکوں پر واقع اہم کاروباری مراکز آج پوری طرح بند ہوچکے ہیں۔ جملہ طور پر کہا جائےتو شیموگہ شہر میں ویکینڈ کرفیو کیلئے عام لوگوں نے اورتاجروں نے مکمل تعاون دکھایا ہے۔یہ اس حقیقت کی بھی ایک مثال ہے کہ لوگ کرونا کے خوف سے لوگ باہر نکلنا ہی نہیں چاہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بغیر ماسک کے گھومنے والے کچھ لوگوں پر پولیس جرمانہ عائد کررہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے بتائے گئے اعداد وشماریات کے مطابق 178 لوگ کورونا کے انفیکشن سے متاثر ہوئے ہیںاور ایک مریض کی موت ہوچکی ہے۔ اب تک ضلع کے قریب 359افراد کی اموات ہوچکی ہے اورسرکاری اسپتال ، نجی اسپتالوں میں کل 1305 لوگ زیر علاج ہیں۔ بتایا جارہا ہے اس بار تبدیل شدہ کورونا نے اپنا نشانہ زیادہ تر نوجوانوں کو بنایا ہے۔ گذشتہ روز 10 طلباء کورونا مثبت پائے گئے ہیں۔ لہٰذا عوام کو چاہئے کہ رضاکارانہ طور پر احتیاطی تدابیر کا استعمال کریں اور اپنا تحفظ خود کریں۔