بنگلورو:۔ساحلی کرناٹک کے شہر اُڈپی میں ایک ماہ سے بھی زائد عرصہ سے چھ طالبات حجاب کے ساتھ کالج جانے کی لڑائی لڑ رہی ہیں اور اتنے عرصے سے کلاسس سے باہر ہیں، اب اُڈپی کالج کا اسکارف کا معاملہ کنداپور پہنچنے کے بعد اور کنداپور میں بھی سرکاری کالج سمیت پرائیویٹ کالجوں میں مسلم بچیوں کو حجاب کے ساتھ کالج میں حاضر ہونے سے روکنے کی واردات کے بعد کانگریس قائد، حزب مخالف لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اپنی چپی توڑتے ہوئے اس طرح کی واردات پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہےکہ سرکاری کالجوں میں حجاب اور اسکارف کا مسئلہ پیدا کرکے مسلم لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کرنےکی سازش ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی بی جے پی سرکار دستور کےدئیے ہوئے تعلیمی اور مذہبی حق کو چھیننے کی کوشش کررہی ہے۔اُڈپی سرکاری کالج میں حجاب کا مسئلہ جاری رہتے کنداپور کی سرکاری کالج کے ساتھ اب کنداپور کی پرائیویٹ کالجوں میں بھی باحجاب طالبات کے داخلے کو ممنوع قرار دینے پر انہوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حجاب پہن کر کالج آنے والی مسلم طالبات کو کنداپور سرکاری کالج میں خود کالج پرنسپال نے ہی گیٹ بند کرکے داخلہ دینے سے انکار کرنے پرسخت ناراضگی ظاہر کی، انہوں نے کہا کہ مسلم طالبات حجاب پہن کر کالج میں داخل ہونےکی مخالفت میں اگر بعض طلبا کیسری شال پہن کر تنازعہ پیدا کررہے ہیں تو ظاہر بات ہے کہ کیسری شال کو اوڑھ کر داخل ہونے سے منع کرنے کے نام پر با حجاب طالبات کو کالج میں داخلہ دینےسے انکارکرنا اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ یہ مسئلہ اب مزید کئی کالجوں تک پھیل سکتاہے۔پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے سدرامیا نےکہاکہ حکومت نے کہیں بھی نہیں کہا ہےکہ یونیفارم لازمی کریں۔ پی یوسی کے مرحلےمیں یونیفارم لازمی نہیں ہے۔ اب کنداپور کالج کے پرنسپال گیٹ بند کرکے 29مسلم طالبات کو کلاس میں بیٹھنے پر روک لگائی ہے۔ یہ ان کےبنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔ وہ ایک سرکاری کالج ہے جہاں ایسا کیاگیا ہے۔ سدارمیا نے کہا کہ بی جےپی اسی پر تنازعہ پیدا کرنے کے لئےبچوں کو کیسری شال پہناتی ہے۔ اتنے دنوں تک کیسری شال نہیں تھی آج کہاں سے آئی۔ تعلیم بنیادی حق ہے۔ سدرامیا نے سوال کیا کہ اسکارف بہت برسوں سے پہنا جارہاہے تو اب اس پر پابندی لگانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے ؟ سدرامیا نےکہاکہ تعلیم دستور کے لحاظ سے بنیادی حق ہے۔ ذاتی طورپرکہوں تویہ دراصل لڑکیوں کے بنیادی تعلیمی حق کو چھیننا ہے۔ تاکہ مسلم طالبا ت کو تعلیم حاصل نہ ہو اور انہیں تعلیم سے محروم کئےجانےکی خفیہ کوشش ہے۔ تعلیم حاصل کرنا اور مذہب پر عمل کرنا ہر ایک کا بنیادی حق ہے۔ سرپر اسکارف پہنا، مذہبی عمل کاایک حصہ ہے، اب اس پر تنازعہ کیوں ؟یہ بہت ہی خراب ہونےکا سدارمیا نے خیال ظاہر کیا۔سدرامیا نے کہاکہ میں نے محکمہ تعلیم کی طرف سے جاری کردہ سرکلر کو دیکھا ہے، جس کے تحت یونیفارم لازمی نہیں ہے، ایک سرکاری کالج کا پرنسپال گیٹ کے سامنے کھڑے ہوکر طالبات کو داخلہ نہیں دینا، کیا غیر انسانی حرکت نہیں ہے؟ کیا اس طرح انہیں تعلیم سےمحروم نہیں کیاجارہاہے؟وہ رکن اسمبلی رگھوپٹی بھٹ میٹنگ کرتےہوئے یونیفارم لازمی کرنےکی بات کہنے والاکون ہے؟۔سدرامیانے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ رکن اسمبلی کے کہنے پر عوام کے پیسوں سے تنخواہ پانے والے سرکاری پرنسپال گیٹ بند کرتےہیں ۔انہوں نے کہا کہ دیکھئے اب کیسری شال پہنانےکا مقصد کیاہے؟ کیا وہ اس سے پہلے پہنا کرتے تھے؟کیا اس کا شعور کل پرسوں ہی پیدا ہوا کہ شال پہننا ہے؟ ۔یہ لڑکیاں کب سے اسکارف پہنا کرتی ہیں پتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ بے وجہ تعلیمی میدان میں دھرم کو شامل کرنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہئے۔ اس معاملےمیں بی جے پی سیاست کررہی ہے۔ وزیر داخلہ ارگا ادیانندرا کا بیان سیاسی ہےیہ سب نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ 8فروری کو ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سنوائی ہوگی اب ہائی کورٹ کیا فیصلہ کرتاہے دیکھنا ہوگا۔ لیکن بحیثیت ایک وکیل ، حزب مخالف لیڈر ہونے کے ناطے میرا کہنا ہے کہ کالجس میں جو کچھ ہورہا ہے یہ سب دستور کے خلاف ہے۔بتاتے چلیں کہ کنداپور کالج میں دوسرے دن بھی حجاب پہن کر کالج پہنچیں طالبات کو گیٹ کے باہر ہی روکا گیا تھا جبکہ بھنڈراکر کالج میں بھی طالبات کو گیٹ کے باہر روکا گیا تو ان کی حمایت میں مسلم طلبا بھی کالج گیٹ کے باہر ہی بیٹھ کر مسلم طالبات کی حمایت میں احتجاج میں شامل ہوگئے اور کلاسس کا بائیکاٹ کیا۔
