گجرات فسادات کے 20 سال مکمل، برطانیہ کی پارلیمنٹ میں معاملہ گونجا

سلائیڈر نیشنل نیوز
لندن:۔گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات کے 20 سال مکمل ہونے پر اس سے متعلق معاملہ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں گونجنے لگا۔ لیبر ایم پی کم لیڈ بیٹر نے کہاہے کہ فسادات میں دو برطانوی شہری مارے گئے تھے اور بھارت کو ان کی باقیات واپس کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہاہے کہ حکومت برطانیہ کو یہ معاملہ بھارت کے ساتھ اٹھانا چاہیے اورپوچھنا چاہیے کہ ان کی موت کن حالات میں ہوئی ہے۔وزیر خارجہ امانڈا ملنگ نے کہاہے کہ برطانوی حکومت بھی ہلاک شدگان کی باقیات کے مطالبے کی حمایت کرے گی۔ برطانوی پارلیمنٹ میں اس بحث کا جواب دیتے ہوئے وہاں موجود ہندوستانی ہائی کمیشن نے کہاہے کہ اس حوالے سے معلومات لی گئی ہیں۔ تاہم متوفی کے اہل خانہ نے ابھی تک اس بارے میں رابطہ نہیں کیاہے۔ ہندوستانی ہائی کمیشن کے انچارج وشویس نیگی نے کہاہے کہ جس رکن پارلیمنٹ نے یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھایا، اس نے کبھی ہائی کمیشن سے رجوع نہیں کیا۔ انہوں نے کہاہے کہ متوفی کے اہل خانہ نے بھی ایسی کوئی اطلاع یا مطالبہ نہیں کیا۔ایم پی نے اپنی تقریر میں کہا کہ 2002 کے فسادات میں برطانیہ کے تین شہری اور ان کا ہندوستانی ڈرائیور مارا گیا تھا۔ ان تین شہریوں میں سے دو کا تعلق داؤد خاندان سے تھا اور وہ اپنے علاقے کے رہائشی تھے۔ انہوں نے کہاہے کہ 28 فروری کو وہ تاج محل دیکھ کر واپس آرہے تھے۔ جب وہ گجرات کی سرحد پر پہنچے تو ان کی جیپ روک دی گئی اور ہجوم نے ان کا مذہب جاننے کی کوشش شروع کر دی۔ جب اس نے بتایاکہ وہ مسلمان ہے تو ہجوم نے اسے مار ڈالا۔