شیموگہ:۔رکن پارلیمان پرتاپ سمہاہر بات پرپاکستان جانے کی بات کہتے ہیں پرتاپ سنہاخود پاکستان کیوں نہیں جاتے؟۔یہ سوال کے پی سی سی ترجمان کمنے رتناکر نے کیا ہے۔ انہوں نےاتوار کو کے پی سی سی کے صدر ستیش جارکی ہولی کے شیموگہ کے دورے کے دوران کانگریس دفتر میں پارٹی کارکنوں کی میٹنگ میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ حجاب اور زعفرانی شال کے بارے میں بی جے پی کا نقطہ نظر اب بین الاقوامی سطح پر پہنچ گیا ہے۔عوام کو بہترین پالیسیوں کے ذریعہ اورترقیاتی کاموں کی بنیاد پر بی جے پی ووٹ نہیں مانگ رہی ہے بلکہ عوام کےجذبات کو چوٹ پہنچاکر کسی ایک فرقے کی مکمل تائید اوردوسرےفرقوں سے نفرت کے ذریعہ ووٹ مانگنے پر آچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندرا گاندھی نے بہترین پالیسیوں کی بنیاد پر ووٹ لیاتھا۔ جبکہ اندرا گاندھی بینک کونیشنل بینک کادرجہ دیتے ہوئے غریبوں کو بینک تک لےجانے کا کام ہواہےوہیں اسکے برعکس وزیر اعظم مودی نے اس بات کو یقینی بنارہے ہیں کہ غریبوںکو بینک کے قریب ہی آنے نہ دیا جائے۔حجاب کا مسئلہ مرکز اور ریاستی حکومت کی اگلی انتخابی تعلیم بتاتے ہوئےانہوں نے کہا کہ بی جے پی جانتی ہے کہ وہ ریاست اورملک میں نہیں جیت سکتی۔لہٰذا یہ ایک حربہ تھا کہ اس تنازعہ کو اسکول میں پھیلایا جائے اور اقتدار میں واپس آجائیں۔مزید کہا کہ سی ٹی روی، وزیر ایشورپا، ایم پی پرتاپ سنہا کےبیانات ہر کسی کو پریشان کرنے والے ہوتے ہیں۔ پرتاپ سنہا جب بھی بات کرتے ہیں تو پاکستان چلے جانے کی بات کہتے ہیں اگروہ پاکستان کو اتناہی پسند کرتے ہیں تو وہ دوسروں کو مشورہ دینے کی بجائے انہیں خود ہی پاکستان چلے جانا چاہئے ۔ آرگا گیانیندر بنگلور اور تیر تھ ہلی تک محدود وزیر داخلہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے ہیںکہتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔
