عدالتی فیصلے کو لیکر طلباء کو گمراہ نہ کیاجائے:جوائنٹ آیکشن کمیٹی شیموگہ

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔شیموگہ کے مختلف تنظیموں واداروں کی متحدہ تنظیم جوائنٹ آیکشن کمیٹی کی جانب سے آج پریس کانفرنس کا اہتمام کیاگیاتھا،جس میں میڈیا سیل کے نمائندوں نے پریس سے خطاب کیا۔مولانا شاہ الحمید نے بات کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں نفرت پھیلانے کیلئے حجاب کا مدعہ اٹھایاگیاہے،حجاب آج یا کل سے پہننا نہیں جارہاہے بلکہ اسلام کی آمدسے ہی حجاب کی روایت رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ کرناٹکا ہائی کورٹ میں حجاب کے تعلق سے جو مقدمات دائرکئے گئے ہیں اُن مقدمات کے تعلق سے عبوری فیصلے پر کرناٹکا حکومت غلط طریقے سے عمل کررہی ہے،جبکہ کورٹ نے ڈگری کالجوں اور غیر سی ڈی سی والے کالجوں میں ان احکامات کے تعلق سےعمل کرنے کیلئے کوئی شرط نہیں رکھی ہے۔اسی دوران اڈوکیٹ نیا زاحمدنے کہاکہ یہ پورامعاملہ سیاسی رنگ اختیارکرچکاہے،عدالتی احکامات کے مطابق طالبات کالج جارہی ہیں اور ان کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے۔عدالت نے واضح کہاکہ یہ احکامات سی ڈی سی کے ماتحت آنےو الے تعلیمی اداروں کیلئے ہیں ،لیکن عدالت کے فیصلے کے بعد بھی سرکاری محکمے طلباء کااستحصال کررہے ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ اس سازش سیاستدانوں کا بھی برابر کا ہاتھ ہے،کئی سیاستدان خود کیسری شال بانٹ کر سماج میں بدامنی پھیلانے کاکام کررہے ہیں،بھارت سیکولر ملک ہے لیکن یہاں اس کی سیکولرزم کو برباد کرنے کا کام کیاجارہاہے۔اس موقع پر اڈوکیٹ شہراز مجاہد صدیقی نے بات کرتے ہوئے کہاکہ بھارت میں تمام کو رہنےکا مساوی حق دیاگیاہے،لیکن حجاب کا معاملہ نکال کر جمہوری نظام کو پامال کیاجارہاہے جو مناسب نہیں ہے۔عدالتی فیصلے کا غلط مطلب نکال کر طلباء کوگمراہ کرتے ہوئے ان طلباء کو سڑکوں پر لایاجارہاہے،حجاب کو جان بوج کر ٹارگیٹ کیاگیاہےتاکہ مسلم بچے تعلیم سے محروم ر ہیں ، خصوصاً اگر مسلم لڑکیاں تعلیم سے محروم رہے جاتی ہیں تو ان کی نسلیں بھی پوری طرح سے برباد ہونگی۔جب نامہ نگاروں نے پوچھاکہ پی ایف آئی اور سی ایف آئی ان طلباء کو بھڑکارہے ہیں تو شہراز مجاہد صدیقی نے بتایاکہ قانون کے دائرے سے ہٹ کر کوئی بھی کچھ بھی کہے تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں،البتہ جن طلباء کو قانونی مددکی ضرورت ہے،اُس کی مددکرنے کیلئے کوئی بھی تنظیم آگے آتی ہے تو ہم اُس کی تائید کرتے ہیں۔اس موقع پر مفتی مجیب اللہ قاسمی ،اڈوکیٹ محمد عارف اور میڈیا کو آرڈینٹر کلیم پاشاہ کلیمہ موجودتھے۔