کرناٹکا بجٹ ؛ مسلمانوں کے قبرستانوں ، جھونپڑپٹیوں،ٹھیلہ گاڑیوں کیلئے سوغات

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
دلتوں،مٹھوں کیلئے خصوصی امداد،تعلیم کیلئے بھی 31 ہزار کروڑروپئے خرچ کریگی حکومت
بنگلورو:کر ناٹک میں آج وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا ، جسے65.2 لاکھ کروڑ روپیوں کابجٹ بتایا گیاہے۔بسوراج بومئی نے زراعت،آبپاشی،دیہی ترقیات،سوشیل ویلفیر،تعلیم اور صحت کے شعبے کو اہمیت دیتےہوئے سال23-2022 کا بجٹ پیش کیا ہے ۔ سال رواں کیلئے72 ہزار کروڑ روپیوں کا قر ضہ ، 72089 کروڑ ر کا سرما یہ ، 189888کروڑ روپئے کی آمدنی سے 261977کروڑ روپیوں کا جملہ بجٹ پیش کیا ہے ۔ اس میں سے2604587 کروڑ روپئے 204587 کروڑ روپئے ریونیو اخراجات اور46955 کروڑ روپئے سرمایہ کےطور پر خرچ کئے جائینگے۔وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے اپنے بجٹ کی تقریرمیں کہاکہ ہم نے تعلیم اور صحت کیلئے اہمیت دی ہے جس میں کرناٹکا کے معروف ادیبوں کی تشہیر کیلئےبھی فنڈس جاری کئے ہیں،جبکہ محکمہ غذائیا ت کیلئے2288 کروڑ روپئے،ہائوزنگ ڈیپارٹمنٹ کو 3594کروڑ روپئے،اومنس اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ کیلئے 4713کروڑ روپئے،زراعت اور باغبانی کیلئے 9389کروڑ روپئے،پی ڈبلیو ڈی کیلئے 10447کروڑ روپئے،ڈی پی اے آرکیلئے 11222کروڑ روپئے، آبپاشی کیلئے 20601کروڑ روپئے،ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کیلئے 31980کروڑ روپئے ، رورل اور پنچایت راج ڈیپارٹمنٹ کیلئے 17325کروڑ روپئے،اربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کیلئے 16076 کروڑ روپئے،ریونیو ڈیپارٹمنٹ کیلئے 16388کروڑ روپئے ،ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیر ڈیپارٹمنٹ کیلئے 13982کروڑ روپئے،پائورڈیپارٹمنٹ کیلئے 12655کروڑ روپئے کے امداد کا اعلان کیاگیا ہے ۔ بجٹ میں جو اہم منصوبے جاری کئے گئے ہیں اُسے میکے داٹو منصوبے کیلئے1 ہزار کروڑ روپئے،یتینا وڑے منصوبے کیلئے  3 ہزار کروڑ روپئے،بھدرا اپر پروجیکٹ کیلئے3ہزارکروڑ روپئے،کلسا بنڈوری پروجیکٹ کیلئے 1ہزار کروڑ روپئے، کاسرگوڈو اکلکوٹی اور گوامیں کرناٹک بھون کی تعمیر،آشا کاریاکرتائوں کو1ہزارروپئےکی افزود تنخواہ،کنسٹرکشن لیبرس کے بس کے پاس کو ریاست گیر سطح پرتوسیع،کنسٹرکشن لیبرس کیلئے 100 ہائی ٹیک موبائل کلینک کا ہوگا آغازاور ساحلی علاقوں اور بندرگاہوں کی ترقی کیلئے1880 کروڑ روپئےکا منصوبہ،شمالی کینراکے ماجاڑی میں نئے بندرگاہ کا قیام ، 350 کروڑ روپئے کی لاگت سے منگلوروبندرگاہ کی توسیع،کھلاڑیوں کو کھیلوں میں آگے آنے کیلئے ہمت افزائی ، بنگلورومیں میگا جیولری پارک کا قیام جس میں 10 ہزار افراد کو مل سکتا روزگار،میسورو،منگلورو اور ہبلی میں اسٹاٹپ کیلئے دیا جائیگا تعائون،تمام کیلئے گھر کا منصوبہ کی خاطر 6612 کروڑ روپئے کئے جائینگے منظور،5 لاکھ مکانات کی ہوگی تعمیر ، یشسوینی منصوبے کیلئے300 کروڑ روپئے،ایس سی ایس ٹی بورڈس کیلئے800 کروڑ روپئے،ایس سی ایس ٹی مٹھوں کیلئے خصوصی مالی تعائون ، ہیلتھ سیکٹر کیلئے ائیر ایمبولنس،ہبلی میں250 کروڑ روپئے کی لاگت سے جئے دیوا اسپتال میں سائونورمیں آریوویدیک اسپتال کاہوگا قیام،30 آئی ٹی آئی کالجوں کو اپ گریڈکیاجائیگا ، 7 نئے یونیورسٹیوں کا کیاجائیگاقیام ، تالابوںکی ترقی کیلئے 500 کروڑ روپئے،بنگلوروکی ترقی کیلئے8409کروڑ روپئےمنظورکئے گئے ہیں۔لیکن اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کیلئے کسی بھی طرح کی نئے منصوبے کا اعلان نہیں ہواہے،نہ ہی مسلمانوں کے تعلیمی و اقتصادی حالات کو بہتربنانے کیلئے کسی منصوبہ کا اعلان کیا گیاہے،سوائے وقف بورڈ جو قبرستانوں ،مزاروں کی دیکھ بھال کرتاہے،اس کی ترقی کی بات کہی گئی ہے ۔بجٹ میں کہاگیاہے کہ وقف املاک کے تحفظ کیلئے خصوصی منصوبہ رائج کیا جائیگا،جس سےوقف املاک کا سروے کرنے کیلئے ڈرائون ٹیکنالوجی کا استعمال ہوگا۔اردواکادمی کے ذریعے شاستریا زبانوں میں موجود کتابوں کو اردومیں ترجمہ کرنے اور اشاعت کیلئے فنڈس جاری کئے جائینگے۔مائناریٹی ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت لائسنس رکھنے والے ٹھیلہ گاڑی مالکان،پھول فروش ،سبزی فروش،پھل فروش،فٹ پاتھ کے تاجروں کیلئے،آٹو ڈرائیوروں کو راشٹریہ جیونااُپایہ ابھیان کے تحت مالی امداددی جائیگی۔جن سلم علاقوں میں اقلیتوں کی قیام گاہیں ہیں اُن علاقوں کو ترقی میں لایا جائیگا ۔ جن کے پاس گھرموجودہیں انہیں گھردینے کیلئے اقدامات اٹھائے جائینگے ۔اس کے علاوہ حکومت نے اعلان کیاہے کہ آنگن واڑی رضاکاروں کو ایک ہزار روپئے کی ماہانہ تنخواہ میں اضافہ کیاجائیگا،ساتھ ہی ساتھ مختلف منصوبوں کے تحت محکمہ اقلیتی بہبودی کے ماتحت آنے والے ریسڈینشیل اسکولس جیسے مولاناآزاداسکول،مرارجی دیسائی اسکول ان تمام کو ملا کر ایک ہی شعبے میں منتقل کیاجائیگا اور ہر ضلع میں کم ازکم ایک پی یو کالج کا قیام کیاجائیگا،جس میں اعلیٰ سطحی اسمارٹ کلاس،کمپیوٹر اور سائنس لیاب بنایاجائیگا۔اقلیتی محکمے کے ماتحت آنے والے تمام اسکولوں کو اے پی جے عبدالکلام ریسڈینشیل اسکول کانام دیاجائیگا۔اقلیتی طلباء،پسماندہ طبقات کے طلباء اور ایس سی ایس ٹی طلباء کیلئے سرکاری روزگار حاصل کرنے کیلئے دئیے جانے والے مسابقاتی امتحانی کی تربیت کیلئے سالانہ50 ہزار طلباء کا انتخاب کرتے ہوئے انہیں تربیت دی جائیگی۔