حجاب کا فیصلہ ہوگا آج؛عدالت سے طلباء پُر اُمید

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو:۔کرناٹکا میں پچھلے چند دنوں سے حجاب کا جو مسئلہ زیر بحث تھا ،اُس بحث کا اختتام آج یعنی15 مارچ کو ہونے جارہا ہے۔کرناٹکا ہائی کورٹ میں حجاب کے مسئلہ کو لیکر پچھلے تین مہینوں سے ،طلباء،والدین اور حکومت کے درمیان شدید بیقراری چل رہی تھی اور حجاب کو پہننے کیلئے اجازت دینے کامطالبہ کرتے ہوئے اُڈپی اور کنداپور کے کالجوں سے تعلق رکھنے والی قریب6 طالبات نے کرناٹکاہائی کورٹ میں عرضی دائرکی تھی اور مطالبہ کیاتھاکہ ہائی کورٹ انہیں کالجوں میں حجاب پہننے کا موقع فراہم کرے۔کرناٹکا میں پچھلے کچھ مہینوں سے طلباء کو کالجوں میں حجاب پہن کر آنے سے روکاجارہا تھا ، جس کی وجہ سے ریاست کے مختلف علاقوں میں طلباء کو پریشانیوں کا سامنا کرناپڑرہاتھا اور طالبات کو سنگھ پریوارکی پُر تشدد حرکتوں کا سامنا بھی کرنا پڑرہاتھا۔ریاست میں سنگھ پریوارنے حجاب کے معاملے کو سیاسی مدعہ بنا کر استعمال کرنے کی بھی کوشش کی ہے،جبکہ حجاب کے تعلق سے شرپسندوں نے بہت ساری جھوٹی افواہیں بھی پھیلانے کی کوشش بھی کی ہے۔اسی دوران کرناٹکا حکومت نے طالبات کو حجاب نہ پہننے کی ہدایت دی تھی جس کے خلاف طالبات نے سخت رُخ اختیار کرتےہوئے کرناٹکا ہائی کورٹ سے انصاف مانگا۔اس معاملے میں سب سے پہلی عرضی شتبیش شیونا نے دائرکی تھی،اس کے بعد مزید عرضی گذاروں نے کرناٹکا ہائی کورٹ میں حجاب کوبنیادی حق بتاتے ہوئےطالبات کو اس کااستعمال کرنے کیلئے اجازت دینے کا مطالبہ کیاتھا۔قریب25 گھنٹوں کی طویل سماعت کے بعد کرناٹکا ہائی کورٹ کے جسٹس ریتوراج اوستھی،کرشنا ایس ڈکشت، جے ایم قاضی نے اس معاملے کا فیصلہ محفوظ کررکھاتھا،کل یعنی15 مارچ کو اس معاملے کا فیصلہ عدالت سنانےجارہی ہے اور عدالت سے اُمید کی جارہی ہے کہ عدالت طالبات کو آئینی اعتبار سے انہیں اُن کاحق دیگی۔