بنگلورو:۔ ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی نے بڑے ہی جوش و خروش سے یہ اعلان کردیا کہ یکم مئی سے ملک بھر میں 18سال اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو کورونا ویکسین دے دی جائے گی لیکن کرناٹک میں اس اعلان کی قلعی اس وقت کھل گئی جب خود ریاست کے چیف سکریٹری روی کمار نے یہ اعتراف کر لیا کہ ریاست میں ویکسین کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔ ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا سے ملاقات کے دوران انہوں نے یہ مانا کہ کرناٹک میں اب کورونا ویکسین کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے، اس لئے اب حکومت کی طرف سے سابقہ اعلان کے مطابق یکم مئی سے18سال اوراس سے زیادہ کی عمر کے لوگوں کو ویکسین دینا ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیا اسٹاک آتے آتے مئی کا تیسرا ہفتہ گزر سکتا ہے۔ سدارامیا نے اس ملاقات کے دوران چیف سکریٹری سے دریافت کیا کہ یکم مئی سے18سال اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ویکسین دینے کیلئے حکومت کی طرف سے کیا انتظام کیا گیا ہے۔ اس مرحلہ میں سی ایس نے سدارامیا کو بتایا کہ ریاست میں اب کورونا ویکسین نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے ایک کروڑ ویکسین کی نئی کھیپ منگوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کیلئے متعلقہ کمپنی کو آرڈر بھی دیا جا چکا ہے لیکن اس بات کی توقع نہیں کہ مئی کے تیسرے ہفتہ سے پہلے یہ اسٹاک حکومت کو مل سکے گا۔ اس کے بعد ہی حکومت ویکسین دینے کے سلسلہ کو آگے بڑھا سکتی ہے۔ اس دوران حکومت نے یکم مئی سے18سال اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ویکسین دینے کا جو پروگرام بنایا تھا اسے منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے اور بتایا ہے کہ جب ویکسین کا ذخیرہ موصول ہو گا اس کے بعد ہی ویکسی نیشن کا کام شروع کیا جائے گا۔بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں نے ویکسین کا پہلا ڈوز لے لیا ہے اوران کے دوسرے ڈوز کی تاریخ آچکی ہے ا ن کو بھی بتادیا گیا ہے کہ وہ ویکسین کے آنے تک کا انتظار کریں۔اس دوران عوامی حلقوں میں حکومت کے اس رویے پر سخت برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے اورکہا جا رہا ہے کہ ایسے مرحلہ میں جبکہ کورونا کا شکار ہو کر سینکڑوں لوگوں کی مو ت ہو رہی ہے حکومت نے ویکسین کا کافی مقدار میں ذخیرہ طلب کرنے کی بجائے محدود مقدار میں ویکسین منگوائے اور جب صورتحال قابو سے باہر ہے تو اس کی قلت کا رونا رو رہی ہے۔
