حیدرآباد:۔صحافت جمہوریت کاچوتھاستون ہے۔اس کی ذمہ داری بہت بڑی اور اہم ہے۔صحافت قوم کو سنوارسکتی ہے،اسے ترقی دلاسکتی ہے۔قوم و ملت کوصحیح راستے پرلانے کی ذمہ داری صحافیوں پر ہے۔ حیدرآباد میںکئی اخبارات گزشتہ کئی سالوں سے اس فریضہ کو انجام دے رہے ہیں۔ان اخبارات میں منصف، سیاست،رہنمادکن، تاریخ دکن وغیرہ نے تلنگانہ تحریک میںحصہ لیا۔ان خیالات کا اظہار اردو صحافت کے دو سوسالہ جشن کے پہلے دن پہلے سیشن کے موقع پرذیمریس ادبی فورم حیدرآباد،آل انڈیااردو ماس کمیونی کیشنل سوسائٹی فار پیس حیدرآباد اور نوبل میڈیا لنکس بنگلور کے زیراہتمام منعقدہ ورلڈ اردو سمیٹ سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی وزیر داخلہ محمد محمودعلی نے کیا۔انہوں نے کہا کہ صحافی پوری زندگی جدوجہد کرتے ہیں۔اگر وہ چاہیں تومعاشرہ میں انقلاب برپاکرسکتے ہیں۔صحافت ایک اہم پیشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اردو ہماری زبان ہے اورہماری آنکھ ہے۔ ہم اردو کا چشمہ لگاکر ہی دوسروںکودیکھناچاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعلیٰ کے سی آر سکیولرہیں۔انہیں اردوبہت لگاؤہے۔ وقتاً فوقتاًوہ اپنے خطاب میں اردو کے اشعار کا استعمال کرتے ہیں۔انہوںنے اردو کی ترقی کے لئے 66؍اردو آفیسرس کا تقرر کیا ہے جو ڈی سی،کلکٹر وغیرہ کے ساتھ کام کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اردوزبان کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے۔وزیراعلیٰ نے 7سال میں تلنگانہ کو گولڈن تلنگانہ بنادیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج 2000اقلیتی اقامتی اسکولس ہیں جہاں دو لاکھ سے زیادہ بچے تعلیم پارہے ہیں۔انہوں نے منتظمین جشن ڈاکٹر مختار احمدفردین ، ڈاکٹر ایم اے ساجد اور جناب سیدتاج الدین کاشکریہ ادا کیا کہ انہوں نے یہ محفل سجائی اور انہیں اس محفل میں شرکت کا موقع عطا کیا۔ آخرمیں انہوں نے کہا کہ مسلمان اپنے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاق بھی سکھائیں۔کیونکہ ہمارے بچے موجودہ پر فتن دور میں اخلاق سے دور ہوتے جارہے ہیں۔اخلاق و کردار سے ہی ہم غیروںکواپنابناسکتے ہیں۔ بنگلور سے تشریف لائے مہمان خصو صی روزنامہ سالار کے سابق مدیرپروفیسر کے افتخاراحمد شریف نے کہا کہ ہندوستان میں آزادی ٔ ہندکے بعد اردو کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہر ریاست میں اسے نظرانداز کیاگیامگر اردو نے سارے ہندوستان کو اپنا بنالیا۔ہر حکومت نے یہی کوشش کی کہ اردو کاسہارا لیاجائے اور سیاسی فائدہ اٹھایاجائے۔انہوںنے اندراگاندھی کے دور میں یوم غالب منائے جانے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے ساحرلدھیانوی نے حکومت کے خلاف اشعار پیش کئے اور یہ بتایا کہ تم نے غالب اور اردو کا استعمال صرف سیاسی فائدہ کے لئے کیا ہے۔ڈاکٹر مختاراحمد فردین نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ہم نے صحافیوں کوایوارڈ دے رہے ہیں۔ آگے بھی یونہی مختلف بزرگ صحافیوں کے نام سے ایورڈ پیش کریں گے اور اس میں نقدانعام بھی شامل کریں گے۔اس موقع پر مختلف صحافیوں کوریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے ایوارڈ پیش کئے۔ ان ایوارڈ یافتہ گان میں خصوصی طور پر پروفیسرکے افتخار احمد شریف کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ’’شہنشاہ قلم و ادب‘‘ اور نوبل میڈیا لنکس بنگلور کے اڈمنسٹریٹر سیدتاج الدین کو ’’طرۂ امتیاز‘‘ ایوارڈ پیش کیا گیا۔ صحافتی خدمات کیلئے کرناٹک کے رامنگرم ضلع کے چن پٹن سے شائع ہونے والے ’’آواز کرناٹک‘‘کے سید عبدالکریم کو’’ اردو انمول رتن ایوارڈ‘‘ پیش کیا گیاجسے سید اکرم نے قبول کیااوراس کے علاوہ ادبی خدمات کیلئے کائنات ادب بنگلورکے معتمد شاہ عبد الرشید سہیلؔ نظامی کو بھی ’’اردو انمول رتن ایوارڈ‘‘پیش کیاگیا۔اس پرپروگرام میں جناب محمد عبدالجلیل، مدیر اعلیٰ روزنامہ منصف، حیدرآباد، پروفیسر مسعود احمد، پرنسپل میسکو کالج آف فارمیسی، حیدرآباد، شبیر علی شاہد قادری ، سرپرست اعلیٰ، ذیمریس ادبی فورم، حیدرآباد، شوکت علی صوفی ، سینئرصحافی و ایڈیٹر، ٰئی این این چینل، حیدرآباد، ڈاکٹر شیخ نعمان، سابق صدر نشین، آندھرا پردیش اردو اکادمی، پروفیسر عبد القدوس، صدر شعبۂ اردو، حسینی علم ڈگری کالج حیدرآباد، عائشہ روبینہ، ماہر تعلیم و سابق کونسلر مجلس حیدرآباد وغیرہ نے بھی خطاب کیا اور ڈاکٹر مختار احمد فردین کے شکریہ پریہ پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔جشن کے دوسرے دن سمینار و تقریب انعامات میں مختلف اسکولس، کالجس اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و اسکالرس نے اپنے مضامین و مقالے پیش کئے۔ پروفیسر کے۔افتخار احمد شریف(سابق مدیر روزنامہ سالار بنگلور)، ڈاکٹر محامد ہلال اعظمی(مدیر اعلیٰ صدائے شبلی،حیدرآباد)،مقصود علی خان (مدیر نور ولایت، حیدرآباد)، سید تاج الدین(ایڈمنسٹریٹر، نوبل میڈیا لنکس، بنگلور)، شاہ عبد الرشید سہیل نظامی (معتمد، بزم کائنات ادب، بنگلور)، سید عرفان اللہ قادری(بانی و سرپرست، بزم امید فردا، بنگلور) وغیرہ مہمانان خصوصی کے حیثیت سے شرکت کی اور اپنے خطاب میں افسوس کا اظہار کیا کہ اردو صحافت کیلئے آج کا دن تاریخی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آج اردو صحافت دو سو سال تکمیل کررہی ہے، لیکن ریاست تلنگانہ، آندھرا پردیش، کرناٹک، تملناڈو میں کہیں بھی کسی بھی سرکاری یا نجی بڑے ادارے کی جانب سے کوئی بڑی تقریب منعقد نہیں ہوئی۔ لیکن ذیمریس ادبی فورم، آل انڈیا اردو ماس کمنیوکیشنل سوسائٹی فار پیس اور نوبل میڈیا لنکس بنگلور نے اس جانب توجہ کی جو قابل ستائش ہے اور ان اداروںکے ذمہ داران ڈاکٹر ایم اے ساجد، ڈاکٹر مختار احمد فردین، سید تاج الدین، محسن خان ،نصر اللہ خان اور سید اصغر کو مبارکباد پیش کی کہ انہوں نے اس باوقار جشن کا اہتمام عمل میں لایا ۔ سمینار و تقریب تقسیم اسناد کا آغاز عائشہ فاطمہ(سینٹ مریم ہائی اسکول) کی قرأت کلام پاک سے ہوا اور حامد حسین، محمد شہباز اور سہیل نظامی(بنگلور) نے نعت شریف پیش کی۔ ڈاکٹر مختار احمد فردین، صدر آل انڈیا اردو ماس کمیونیکینشل سوسائٹی فار پیس نے خیر مقدمی خظاب کیا اور ڈاکٹر ایم اے ساجد، پروگرام کوآرڈینیٹر و صدر، ذیمریس ادبی فورم نے ہدیۂ تشکر پیش کیا۔ محسن خان نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ بعد ازاں تحریری مقابلے میں حصہ لینے والے اسکالرس و طلبہ میں رقمی انعامات تقسیم کیا گیا۔ تحریری مقابلوں میں ڈاکٹر نجمہ سلطانہ کو انعام اول، تجمل تاج فاطمہ کو انعام دوم اور محمد شہباز کو انعام سوم حاصل ہوا جبکہ عائشہ فاطمہ اور ثناء فاطمہ کو ترغیبی انعامات دیئے گئے اور بہترین مضمون سنانے والے طلبہ و اسکالرس کو پروفیسر کے۔ افتخار احمد شریف، ڈاکٹر محامد ہلال اعظمی، مقصود علی خان اور دیگر کی جانب سے رقمی انعامات بھی پیش کیا گیا۔
