امراوتی:۔آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے 8 آئی اے ایس افسران کو توہین عدالت کیس میں سزا سنائی۔ توہین عدالت کیس کی سماعت کرتے ہوئے آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے آئی اے ایس افسران کو قصوروار پایا اور انہیں دو ہفتے کیلئے جیل بھیجنے کا حکم دیا۔عدالت کے اس حکم کے بعد آئی اے ایس افسران نے ہائی کورٹ سے معافی مانگ لی، جس کے بعد ہائی کورٹ نے نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں ترمیم کی۔ عدالت نے 8 آئی اے ایس افسران کو ایک سال تک فلاحی اسپتالوں میں سماجی خدمات انجام دینے کی ہدایت دی۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد ان افسران کو اسپتالوں میں سماجی خدمات انجام دینا ہوں گی۔قبل ازیں عدالت نے اسکول کے احاطے میں وارڈ اور گاؤں کے سکریٹریٹ کی تعمیر کو چیلنج کرنے والی ایک پی آئی ایل کی سماعت کے دوران اس طرح کی تعمیرات نہ کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔اس معاملے میں درخواست گزاروں نے عدالت میں توہین عدالت کی کارروائی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عدالت کے احکامات کو نظر انداز کیا ہے۔ درخواست گزاروں نے سرکاری سکول کے احاطے میں سیکرٹریٹ کی تعمیر کے شواہد بھی جمع کرائے۔سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے آئی اے ایس افسران وجے کمار، شیاملا راؤ، جی کے دویدی، بدھتی راج شیکھر، سری لکشمی، گریجا شنکر، چناویربھدردو اور ایم ایم نائک پر عدالت کے حکم کو نظر انداز کرنے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ، مجرم پائے جانے پر عدالت نےبیوروکریٹس کو سزا دینے کا حکم دیا۔
