نوجوان سائنسدان آویز احمد کاخواب پوراہوا ;آسمان کو چھونے لگے سیٹلائٹ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں نیشنل نیوز
چکمگلورو:۔کہتے ہیں کہ کڑی محنت ومشقت اورلگن کے درمیان مذہب و ذات پات کی دیواریں حائل نہیں ہوسکتیں اور نہ ہی کامیابی کوکوئی روک سکتی ہیں۔ایسی ہی ایک مثال چکمگلوروضلع کے آلدور سے تعلق رکھنے والے نوجوان سائنسدان جنہوں نے محض اپنی جدوجہد اور کوششوں سے دُنیامیں اپنا نام روشن کیاہے۔آویز احمد کا تعلق سے چکمگلورو ضلع کے آلدور سےہےاور انہوں نے کل انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کی جانب سے خلاء میں داغے گئے سیٹلائٹس میں آویز احمدکی کمپنی پکسل کی جانب سے بنائے گئے وہ سیٹلائٹ بھی ہیں جو آنے والے دنوں میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچانے والے ہیں ۔ آویز احمدنے اسپیس ایکس پروگرام کے تحت یہ منصوبہ خلاء میں بھیجاہے اس منصوبے کو انہوں نے” شکنتلا "نام د یا ہے،ان کی کمپنی کا دوسرا منصوبہ "آنند”بھی تیار ہورہاہے جو اپریل 2022  کے آخرمیں خلاء میں بھیجا جائیگا ۔ آویزاحمدنے اس موقع پر کہاکہ جو سیٹلائٹ انہوں نے بھیجا ہے وہ زمین سے520 کلومیٹرکی دوری پر ہوگا،ابتدائی دو ہفتوں تک اس سیٹلائٹ کا ٹیکنیکل ٹیسٹ کیا جا ئیگا ،پھر اسکے بعد مئی کے آواخرمیں اسی سیٹلائٹ کے ذریعے سے کمپنی کے صارفین کو ڈیٹا مہیا کیا جا ئیگا۔ آویزاحمدنے مزیدبتایاکہ سال 2022 میں دو سیٹلائٹ پروگرام لانچ کرنا چاہ رہے ہیں اور سال 2023 میں مزید 6 سیٹلائٹس لانچ کئے جائینگے اور 2023 کے آخرتک جملہ 12 سیٹلائٹ بھیجنے کا پروگرام ہے۔اس وقت کمپنی 25 ملین ڈالرکے سرمائے کے ساتھ کام کررہے ہیں،آنے والے دنوں میں یہ مزید ترقی کریگی۔