مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کیلئے آریس یس سے بڑھ کر کام کررہاہے میڈیا

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
 کرناٹک میں بھی بلڈوزر چلانے کیلئے اکسا نے کی ہورہی ہے کوشش؛ اب مولویوں کی جانچ کاہورہاہے مطالبہ
شیموگہ:۔لگتاہے کہ ملک میںمسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کیلئے آر ایس ایس،بجرنگ دل اور وی ایچ پی سے بڑھ کر میڈیا کام کررہاہے،اس کی تازہ مثال آج یہاں ہونے والے پریس کانفرنس کے دوران دیکھنے کوملی ہے۔وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی شیموگہ کے دو روزہ دورے پر ہیں،ایسے میں آج جب نامہ نگاروں سے وہ بات کررہے تھے،اُس دوران میڈیاکے نمائندے ہبلی کے معاملے کو لیکر باربار یہ سوال کررہے تھے کہ کیا حکومت فرقہ وارانہ فسادات کے دوران ہونے والے نقصانات کی بھرپائی کیلئے فسادات میں ملوث ملزمان سے پیسہ وصول کریگی؟۔کیا حکومت ملزمان کے گھروں پر بلڈوزر چلانے کیلئے آگے آئیگی؟اسی طرح کے مسلسل سوالات کے بعد وزیر اعلیٰ نے بلآخر اس بات کااظہارکیاکہ فسادات میں ملوث ملزمان سے ہی حرجانہ وصول کیاجائیگا۔دوسری ایک پریس کانفرنس سابق ریاستی وزیر کے ایس ایشورپاکی تھی جس میں انہوں نے ہبلی واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ہبلی فسادات میں اہم رول ایک مولوی کا رہاہے،جنہوں نے اپنی تقریرکے دوران گردن کاٹنے ،قتل کرنے،پتھرائو کرنے کیلئے لوگوں کوبھڑکایاتھا اور اسپتالوں میں مندروں اور پولیس تھانوں پر پتھرائوکرنے کی ہدایت دی تھی،ایسے شر پسند عناصرکے خلاف کارروائی ضرور کی جائیگی ۔ کےایس ایشورپاکے اس بیان کے بعد پریس کانفرنس میں موجود گودی میڈیاکے نمائندوں نے ایشورپاکو ترغیب دینے کے لہجے میں یہ کہاکہ کیوں نہیں مولویوں کے تعلق سے ریاست میں پوچھ تاچھ نہیں ہورہی ہے؟۔اُن کے پس منظرکو کیوں نہیں کھنگالاجارہاہے؟۔ایک ٹی وی چینل کے نمائندے نے تو یہاں تک بات رکھ دی کہ بیشتر مولویوں کا تعلق دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ہے،اس سلسلے میں تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔بات یہی نہیںرُکی بلکہ یہ کہاگیاکہ کرناٹک میں بھی فسادپھیلانے والے عناصرکےخلاف کارروائی کرتے ہوئے یوپی اور ایم پی کے طرز پر بلڈوزر چلانے کی ضرورت ہے،اس پر ایشورپانے کہاکہ وہ اس ضمن میں حکومت کو بآور کرینگے۔ان تمام باتوں سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ فرقہ پرستی کے اس کھیل میں سنگھ پریوارسے زیادہ میڈیا کا رول اہم ہوچکاہے اور یہ بات واضح ہورہی ہے کہ ریاست میں امن وامان بحال رکھنے کیلئے میڈیا کا کوئی کردار نہیں ہے،یہ صرف مسلمانوں کا استحصال کررہاہے اس لئےمسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان ٹی وی چینلوں کا مکمل بائیکاٹ کریں۔