آمدنی سے زیادہ ملکیت معاملے میں ہریانہ کے سابق سی ایم اوم پرکاش چوٹالہ کو 4 سال قید کی سزا

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ کو آمدن سے زیائد اثاثہ جات کیس میں 4 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دہلی کی راؤس ایونیو کورٹ کی خصوصی سی بی آئی جج وکاس دھول نے بھی ان پر 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ نیز عدالت نے چوٹالہ کی 4 جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ جائیدادیں دہلی کے ہیلی روڈ، گروگرام، اسولا اور پنچ کولہ میں واقع ہیں۔ 2006 میں سی بی آئی نے اوم پرکاش چوٹالہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ انڈین نیشنل لوک دل کے سربراہ چوٹالہ پر 1993 سے 2006 کے درمیان غیر متناسب اثاثے جمع کرنے کا الزام تھا۔ 16 سال کے مقدمے کے بعد، وہ 21 مئی کو اپنی آمدنی سے غیر متناسب 2.81 کروڑ روپے کے اثاثے حاصل کرنے کا مجرم پائے گئے۔انھیں انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 13(1)(ای) اور 13(2) کے تحت سزا سنائی گئی۔ ان دفعات میں 1 سے 7 سال تک قید کی سزا ہے۔ 87 سالہ اوم پرکاش چوٹالہ کے وکیل نے بڑھاپے اور خراب صحت کا حوالہ دیتے ہوئے رعایت کی درخواست کی تھی۔چوٹالہ کے وکیل نے بھی درخواست کی تھی کہ انھیں غیر متناسب اثاثہ جات کیس میں سزا کے ساتھ شمار کیا جائے ،لیکن عدالت نے اسے قبول نہیں کیا اور چوٹالہ کو 4 سال قید کی سزا سنائی، واضح ہوکہ ٹیچربھرتی گھوٹالہ میں چوٹالہ سزا کاٹ چکے ہیں۔عدالت نے 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ رقم جمع نہیں کرائی گئی تو چوٹالہ کو 6 ماہ کی اضافی سزا بھگتنی ہوگی۔