بھٹکل:۔ یوکرین پر روس کے حملے کی وجہ سے وہاں تعلیم حاصل کرنے والے جو ہندوستانی طلبہ واپس لوٹے تھے اب ان کا تعلیمی مستقبل دشواریوں کا شکار ہوگیا ہے ۔ خاص کرکے میڈیکل کورس کرنے والے ہزاروں طلبہ اس وقت اپنے تعلیم جاری رکھنے کے تعلق سے انتہائی پریشان کن صورتحال سے دوچار ہوگئے ہیں ۔ ان پریشان حال طلبا میں بھٹکل کی طالبہ رقیہ مہوش بھی شامل ہے جو ایم بی بی ایس سال دوم کا نصاب مکمل کر چکی ہے ۔ ان طلباء کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے لئے واپس یوکرین جا کر تعلیم جاری رکھنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی تو دوسری طرف ہندوستان میں اسی نصاب کے مطابق تعلیم آگے بڑھانا ممکن نہیں ہے ۔ اس طرح ان طلبا کا ڈاکٹر بننے کا خواب سچ ہونا دشوار ہوگیا ہے ۔بھٹکلی طالبہ رقیہ مہوش یوکرین کے بوکووینیا میڈیکل کالج میں زیر تعلیم تھی ۔ روس اور یوکرین کے بیچ کشدہ حالات کو دیکھتے ہوئے جنگ چھڑنے سے پہلے ہی والدین نے اسے واپس بلا لیا ۔ وہ 18 فروری 2022 کو بخیریت اپنے ملک پہنچ گئی ۔ جنگ ختم ہونے کے بعد یوکرین واپس لوٹ کر تعلیم جاری رکھنے کا منصوبہ بنایا ۔ لیکن یہ جنگ تو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے جس سے واپس یوکرین جانے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں ۔ رقیہ کے والدین کا کہنا ہے کہ رقیہ نے یوکرین میں دو سال کا نصاب مکمل کیا ہے ۔ ہندوستانی حکومت نے وہاں پھنسے ہوئے طلباء کو بہ سلامت ملک میں واپس لانے کا کام تو کیا مگر ان کی تعلیم کے اگلے مرحلہ پر ابھی تک کوئی رہنمائی نہیں کی ہے ۔ ہندوستان میں جو میڈیکل کالجس ہیں اس میں آدھا نصاب مکمل کرنے والوں کو اگلے حصے کے لئے داخلہ نہیں دیا جا رہا ہے ۔ ان کالجوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر داخلہ لینا ہے تو نصاب کے پہلے سال میں ہی داخلہ لینا ہوگا ۔”رقیہ مہوش کا کہنا ہے کہ ” جنگ شروع ہوتے ہی یوکرین کے کالج نے آن لائن پڑھائی کا سلسلہ شروع کیا تھا ۔ آن لائن ہی امتحانات بھی لیے گئے ۔ گزشتہ سال کا نصاب مکمل ہوگیا ہے ۔ اگلی پڑھائی آن لائن ممکن نہیں ہے ۔ اس لئے پولینڈ یا دوسرے ملک میں جا کر پڑھائی کرنے کے سلسلے میں کالج کی طرف سے تعاون کرنے کا تیقن دیا گیا ہے ۔ مہوش کی والدہ طیبہ نے بتایا :” ہندوستان میں ایم بی بی ایس کرنے کے لئے نجی کالجوں میں ایک کروڑ روپوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جبکہ یوکرین میں 40 لاکھ روپے کافی ہوتے ہیں ۔ وہاں پر کورس مکمل کرنے کے بعد ہندوستان میں ایک سال تک تربیت لینی ہوتی ہے جس کے بعد یہاں میڈیکل پریکٹس کی اجازت دی جاتی ہے ۔ اب یوکرین میں واپس جا کر تعلیم آگے بڑھانے کا ہمارے لئے موقع نہیں ہے ۔ اس لئے ان طلباء کو اپنے ملک میں ہی تعلیم جاری رکھنے کے لئے مرکزی سرکار کی طرف سے موقع فراہم کیا جانا چاہیے ۔
