از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
بھارت میں پچھلے دنوں توہین رسالت کی مرتکب قرار دی گئی نوپور شرما کو لے کر ملک میں جس تیزی کے ساتھ حالات بدل رہے تھے ، ملکی اور بیرونی ممالک سے جس طرح سے بھارت سرکار کی سرزنش کی جارہی تھی اس سے بھارت سرکار ہل گئی تھی لیکن ہمیشہ کی طرح مودی حکومت نے نوپور شرما کے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ماسٹر مائنڈ کا استعمال کرتے ہوئے ایک زبردست کھیلا جو سب کے سامنے اگنی پتھ کے طورپر آگیا۔ چونکہ توہین رسالت ﷺ کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر گرمایا ہواتھا اور اس معاملے میں بھارت سرکار کو جواب دینے میں پریشانی ہورہی تھی ، انٹرنیشنل میڈیا مودی حکومت پر شدید تنقیدیں کررہا تھا اس وجہ سے سیدھے طورپر انٹرنیشنل مدعے کو کمزور کرنے کے لئے اگنی پتھ کا اعلان کیا گیا جس کی وجہ سے اب نہ صرف انٹرنیشنل اور نیشنل میڈیا اس معاملے کو کمزور کرچکا ہے بلکہ خود مسلمان بھی نوپور شرما کو بھولنے لگے ہیں اور اسکے خلاف احتجاج کی جو آوازیں اٹھ رہی تھیں وہ آوازیں اب کمزور ہوتی جارہی ہیں ۔جس سے سال 2019 میں پارلیمانی انتخابات سے قبل مودی جی نے پلوامہ معاملے کو پیش کیا تھا بالکل اسی طرح سے نوپور شرما کے معاملے اگنی پتھ کی آگ میں جھونک دیا ہے اور بھارت کے مسلمان چار سال کی فوج کے تعلق سے پریشان ہیں جبکہ انکے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والی نوپور شرما کو بھلا چکے ہیں ۔ وہیں دوسری جانب مہاراشٹرا حکومت نے نوپور شرما کو تحویل میں لینے کے لئے پولیس کو حکم دیا تھا اب وہ خود ہی سیاسی بحران کا شکار ہوچکی ہے ۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آخر مسلمان اپنے زخموں کو اتنی جلدی کیسے بھلادیتے ہیں ؟۔ ہر بار ظلم سہتے ہیں، خود ذلیل ہوتے ہیں ، رسواء ہوتے ہیں تب بھی چپ رہتے ہیں اور جب بات نبی ﷺ کی شان میں ہونے والی گستاخی کی ہوتب بھی چار دن ہائے ہائے ، ہوئے ہوئے کے نعرے لگاکر ، چند ایک جذباتی بیانات دے کر ، کسی کونے میں کھڑے ہوکر احتجاج کرکے خاموش ہوجاتے ہیں ۔ یہ مسلمانوں کے نزدیک انکے نبی ﷺ کی شان میں ہونے والی گستاخی کا غصہ اتنا ہی ہے ؟۔ مشہور قول ہےکہ ” معاشرے کے بدترین لوگ وہ ہیں جو کمزور کی غلطی پر شور پر مچاتےہیں اور طاقتور کی غلطی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرتے ہیں ” ۔ بالکل ایسا ہی معاملہ آج بھارت کے مسلمانوں کا ہے ، جب خود کبھی مسلمان کسی غلطی کو انجام دیتاہے تو اس پر طنز و طعنے کسنے کے علاوہ اسکے خاتمے تک کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں جبکہ غیر وں کی کھلی کوتاہیوں کے باوجود کچھ بحث و مباحثے کے بعد اپنی ذمہ داری سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ نوپور شرماکے خلاف ملک کے مختلف مقامات پر بعض لوگوں اور تنظیموںنے اپنی استطاعت کے مطابق یف آئی آر تو کروائے ہیں لیکن ان یف آئی آر پر کیا کرروائی ہوئی ہے اس پر توجہ دینے کے لئے مسلم قائدین کو آگے آنا ہوگا کیونکہ جتنی سکت ان یف آئی آر کروانے والوں کے پاس تھی اسکے مطابق انہوںنے کام کیا باقی مزید طاقت ڈالنے کے لئے بڑی تنظیموں ، بڑے لوگوں کو آگے آنا ہوگا ۔ اگر چھوٹی جدو جہد کو بڑی طاقت نہیں ملتی ہے تو ایسی تحریکیں اٹھنے سے پہلے ہی ختم ہوجاتی ہیں اور ایسے معاملات دب جاتے ہیں ۔
