ریاست کےمختلف بورڈاور کارپوریشن کیلئے نئے چیرمین نامزد; اردو اکادمی کو اس بار بھی نہیں ملا کوئی چیرمین،اکادمی بے سہارا،لاچارو بےبس

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کرناٹکا حکومت نے انتخابات کی آمدکے مدِ نظر اپنی پارٹی کے لیڈروں کو مختلف عہدوں سے نوازنے کیلئے ریاست کے جملہ46 بورڈ اور کارپوریشن پر نئے صدورکی تقرری کی ہے اور ان بورڈ اور کارپوریشنوں کیلئے نئے سے ترقیاتی کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیاہے۔لیکن کرناٹکاکی دوسری سب سے زیادہ بولی جانے والی اردو زبان کی کرناٹکا اردو اکادمی کیلئے حکومت نے دوسرے مرحلے میں بھی کمیٹی کی تشکیل نہیں دی ہے اورنہ ہی اس کیلئے کوئی چیرمین مقررکیاہے،جس سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ حکومت کو کرناٹکا اردو اکادمی سے کوئی لینادینانہیں ہے۔بی جے پی کے آنے کے بعد ریاست میں سوائے مائناریٹی کمیشن اور کے ایم ڈی سی کے چیرمین کی تقرری کے اکادمی کیلئے کچھ بھی پیش رفت نہیں ہے حالانکہ وقتاًفوقتاً اکادمی کے چیرمین بننے کیلئے کئی لوگوں نے دعویداری پیش کی ہے،مگر ان دعویداروں کو نظراندازکرتی رہی ہے جس کی وجہ سے کرناٹکااردو اکادمی بے بس،بے سہارا، لاچاراور ایک طرح سے یتیم بن چکی ہے اور رجسٹرار کو اکادمی کی ذمہ داریاں دیکر سوتیلی ماں کا درجہ دے دیاگیاہے اور اسی سوتیلی ماں کی نگرانی میں اکادمی پرورش پارہی ہے ۔ کرناٹکا حکومت نے آج شام جملہ46 بورڈ اور کارپوریشنوں کیلئےچیرمین اور صدور کی تقرری کی ہے،ان میں اہم شعبے جیسے کے ایس ایف ڈی سی،کے ایس ایس آئی ڈی سی،کے ایس آرٹی سی،بی ایم ٹی سی،کرناٹکا اومنس کمیشن، کرناٹکا اسٹیٹ چلڈرنس رائٹس پروٹکشن کمیٹی،ایم سی اے،میسور منرلرس کارپوریشن،میسورشوگر کارخانہ، کرناٹکا کوکونٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن،کرناٹکا مسالحہ بورڈ ، کرناٹکا ایگزبیشن بورڈ ،کرناٹکا سلک مارکیٹنگ بورڈ، کرناٹکا لیمن دیولپمنٹ بورڈ ، کرناٹکا فش ڈیولپمنٹ پرائیوئٹ لمیٹیڈ، کرناٹکا گریپس بورڈ وغیرہ شامل ہیں ،جبکہ کرناٹکا مائناریٹی کمیشن کے چیرمین کے عہدے پر فائز عبدالعظیم کوان کے عہدے پر برقرار رکھا گیاہے،اسی طرح سے کرناٹکا مائنارٹیس ڈیولپمنٹ کارپوریشن( کے ایم ڈی سی) کے چیرمین مختار حُسین پٹھان کو بھی ان کے عہدے سے ہٹایانہیں گیاہے اور اُنہیں مستقل موقع دیاگیاہے۔افسوس اس بات ہے کہ حکومت نے اپنی طرف سے تشکیل شدہ بورڈ وکارپوریشن کی فہرست سے دوسری مرتبہ بھی اردواکادمی کو کنارہ کردیاہے ،جس سے یہ سوال بھی اٹھ رہاہے کہ کیا کانگریس میں ہی اردو کے ادیب ،شعراء و شائقین ہیں ؟بی جے پی میں شائد کوئی اردو سے لگائو والے نہیں ہیں۔