احمد آباد:۔ گجرات ہائی کورٹ نے پیر کو ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو ایک مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) میں نوٹس جاری کیا ہے جس میں ریاستی محکمہ تعلیم کی طرف سے آنے والے تعلیمی سال میں چھٹی اور بارہویں جماعت کے طلباء کے لیے بھگوت گیتا کو لازمی قرار دئیے جانے کی تجویز کو چیلنج کیا گیا تھا۔چیف جسٹس اروند کمار اور جسٹس آشوتوش جے شاستری کی بنچ نے جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے دائر عرضی پر حکومت سے جواب طلب کیا ہے لیکن عدالت نےبھگوت گیتا کی تعلیم کو لازمی قرار دئیے جانے والی تجویز پر پابندی لگانے کےلیے عرضی گزاروں کی درخواست پر غور کرنے سے انکار کردیا ہے۔ جمعیۃ کی طرف سے دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ سیکولرازم اور آئین میں دی گئی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عرضی میں کہاگیا ہے کہ قرارداد نے آئین کے آرٹیکل ۲۸کی خلاف ورزی کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی ایسے تعلیمی ادارے میں مذہبی تعلیم نہیں دی جائے گی جو مکمل طور پر ریاستی فنڈز سے چل رہے ہوں۔ اس سلسلے میں کہا گیا کہ ’’یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ گیتا ہندوؤں کی مذہبی کتاب ہے اور گیتا میں مذکور تمام اقدار ہندومت کے اصولوں سے جڑے ہوئے ہیں۔‘‘درخواست گزاروں نے اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ طلباء کو صرف ایک مذہب کی تعلیم دینے سے نوجوانوں میں ایک مذہب کی برتری کا احساس ہوگا، جس کے نتیجے میں آرٹیکل ۲۱ اور ۲۵کے تحت عقل سلیم کے استعمال کی جو آزادی و حق دیاگیا ہے وہ متاثر ہوگا۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھگوت گیتا کی تجویز ایک مذہب کو دوسرے مذہب پر ترجیح دیتی ہے اور یہ آئینی اخلاقیات کے خلاف ہے۔اس کے ساتھ درخواست گزاروں نے اس تجویز پر روک لگانے کی درخواست کی تھی۔ ڈویژن بنچ نے معاملے کی مزید سماعت ۱۸ اگست ۲۰۲۲کو کرے گی۔
