پی ایس آئی تقررات کا معاملہ قتل کے معاملے سے بڑھ کر ہے:کرناٹکا ہائی کورٹ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کرناٹکا ہائی کورٹ نے آج پی ایس آئی تقررات کے معاملے میں ملوث ملزمان کی ضمانت کی عرضی پر شنوائی کرتے ہوئے گہرے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ یہ معاملہ صرف معاملے کی حدتک نہیں بلکہ گھوٹالہ ہے اور یہ قتل سے بڑھ کر معاملہ کہاجاسکتاہے۔قتل کی واردات میں ایک شخص کی زندگی دائو پر لگتی ہے لیکن یہاں 50 ہزار امیدواروں کی زندگی دائو پر لگی ہوئی ہے۔جسٹس ایچ پی سندیش نے اس معاملے کی شنوائی کرتے ہوئے کہاکہ غیر قانونی تقررات کا معاملہ سماج کیلئے ایک منفی پیغام دے رہا ہے ،ہر تقررات میں اس طرح کےگھوٹالے ہوتے رہیں گے تو عدالتیں آنکھ بندکرکے بیٹھی رہی گیں؟۔20جولائی تک اس معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ عدالت کو سونپنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔پی ایس آئی گھوٹالے کے ملزمان نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے دوران اپنی ضمانت کیلئے درخواست کی ،اس پر عدالت نے کہاکہ بغیر عرضی دائرکئے ہوئے مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔عدالت کو اسپیشل پبلک پرواسکیوٹر (ایس پی پی)نے وی ایس ہیگڈےنے بتایاکہ سی آئی ڈی ڈی آئی جی پی کی قیادت میں اس معاملے کی تحقیقات ہورہی ہے ، ملزمان کے فون کالس کی تحقیقات ہورہی ہے،اس لئے ملزمان کو ضمانت نہ دی جائے۔پی ایس آئی تقررات کے اہم ملزم مانے جارہے آئی پی ایس افسر امرتھ پوال کوآج عدالت میں پیش کرتے ہوئے مزیدانہیں تین دن کی پولیس کسٹڈی میں دینے کا مطالبہ کیاگیا،جس سے عدالت نے منظورکیاہے۔پی ایس آئی گھوٹالے میں معائون ملازمین کے ذریعے کروڑ روں روپیوں رشوت لینے کا الزام امرتھ پوال پر ہے۔اس معاملے کی تحقیقات سی آئی ڈی کے ڈی ایس پی کررہے ہیں،اس پر عدالت نے کہاکہ ایک اے ڈی جی پی سطح پر افسرکی تحقیقات کو ڈی وائی ایس پی سطح کے افسر کررہے ہیں تو یہ تحقیقات کیا موڑ اختیار کرسکتی ہے یہ بھی سوچنے کی بات ہے۔اس پر سرکاری وکیل نے بتایاکہ ہم نے پوری ایمانداری کے ساتھ اس تحقیقات کو جاری رکھاہے اور کسی بھی حال میں گھوٹالے کی تحقیقات کو غلط رُخ میں نہیں لے جائینگے۔عدالت نے کہاکہ یہ محض گھوٹالہ نہیں بلکہ دہشت گردی کی کارروائی ہے اور اس سے پورے سماج میں خوف کا ماحول پیداہواہے۔سرکاری وکیل نے تصدیق کی کہ گھوٹالے کے ذریعے اکٹھا کئے گئے5.2کروڑ روپئے ضبط کئے گئے ہیں او رمزید تحقیقات جاری ہے۔