از قلم : مدثر احمد شیموگہ۔ 9986437327
اس وقت کرناٹکا اردو اکادمی کی سرگرمیاں پوری طرح سے ٹھپ ہوچکی ہیں اور اکادمی صرف رجسٹرار کےبے ساکھیوں کے سہارے برائے نام چل رہی ہے اور اس وقت موجودہ حکومت سے اکادمی کے ذریعے کچھ مثبت فکر قائم کرنا بیکار بات ہے ۔ وہیں دوسری جانب جب یہ بات سامنے آئی کہ کرناٹکا میں انجمن ترقی اردو کی شاخ ریاستی سطح پر تشکیل پائی ہے اور اردو زبان کی ترقی و ترویج کے لئے یہ انجمن سرگرم ہونے جارہی ہے تو اردو دان طبقے میں کچھ جان آگئی تھی لیکن مختصر سے وقفے میں ہونے والے اعلانات ، فیصلوں اور سرگرمیوں سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس انجمن کو بھی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی کے طور پر استعمال کیا جارہاہے اور صرف نام کے لئے انجمن ترقی اردو کو ریاستی سطح پر تشکیل دی گئی ہے ۔ پہلے تو یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ کسی انجمن کو مخصوص اور محدود علاقوں کےافراد کے فیصلوں سے کیسے ریاستی سطح کا درجہ دیا جاسکتاہے ، جب اس انجمن کی تشکیل ریاستی سطح پر ہونے جارہی تھی تو سب سے پہلے اسے اڈہاک کمیٹی کی شکل دیتے ہوئے اس کمیٹی کے اراکین کو ریاستی سطح پر اردو کا اثر رکھنے والے اضلاع کا دورہ کرنے کی ضرورت تھی، پھر وہاں کے ادبا ء ، شعراء ، اہل علم اور دانشمندوں کے طبقے کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے ہر ضلع سے ایک سے چار نمائندوں کا انتخاب کرتے ہوئے آخر میں ریاستی کمیٹی کی تشکیل دینے کی ضرورت تھی مگر یہاں سب اُلٹا ہوا ۔ پہلے ریاستی کمیٹی کی تشکیل بعد میں ضلعی سطح پر صدور کی نامزدگیاں ہوئیں ۔ چار دیواری میں بند ہوکر جو فیصلے لئے جاتے ہیں وہ آمریت کی نشانی ہے اور فیصلے کھولے عام لئے جاتے ہیں وہ جمہوری نظام ہے اور جمہوری نظام ہی اب تک کامیاب نظام رہاہے ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ گلبرگہ میں انجمن ترقی اردو عرصہ دراز سے کام کررہی ہے اور اس انجمن کے ذریعے سے جو کام کئے جارہے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے ۔انکے پاس جتنے علمی و مالی وسائل موجود ہیں شاید اس انجمن کے پاس نہیں ہیں ۔جب گلبرگہ میں انجمن ترقی اردو کی شاخ پہلے سے قائم تھی تو اس شاخ کے ذمہ داروں کو اعتماد میں کیوں نہیں لیاگیا ؟۔ کس وجہ سے گلبرگہ کی انجمن کو علیحدہ رکھا گیا ؟۔ کیا گلبرگہ کسی اور ملک کا حصّہ ہے؟۔ اسکے علاوہ شیموگہ میں بھی انجمن ترقی اردو کئی سالوں سے کام کررہی ہے تو یہاں کے ذمہ داروں کو ریاستی کمیٹی سے کیوں دور رکھا گیا ہے ؟۔ ریاست کے معنی بنگلور میں مقیم ہونا ضروری نہیں بلکہ ساری ریاست کو شامل کرنا ضروری ہے ۔ کسی بھی انجمن کی سرگرمیوں کو چلانے کے لئے پیٹینٹ افراد کو ہی شامل کرنا افضل نہیں بلکہ سرگرم ، جوشیلے ، محنتی اور پر ذوق افراد کو شامل کرنا انجمنوں اور تنظیموں کے کام کو نکھارنے کے لئے کارآمد پہلو ہے ۔ اس وقت انجمن ترقی اردو کی تشکیل آمرانہ شکل میں ہے ۔ اسکے بعد دوسرا معاملہ یہ رہا کہ انجمن نے اعلان کیا کہ انجمن کے پرچم تلے قومی سمینار منعقد کیا جارہاہے جس میں اردو زبان کی ترقی پرمقالے پڑھے جائینگے ۔ یونیورسٹیوں اور مختلف تنظیموں میں بھی اب تک یہی ہوتا رہاہے کہ اردو زبان کی ترقی کے نام پر سمینار اور مشاعرے ہی ہوئے ہیں اسکے علاوہ اور کوئی قابل فکر کام نہیں ہواہے ۔ اسی سمینار کے تعلق سے ایک دعوت نامہ سوشیل میڈیا پر گردش کررہاہے جس میں یہ بات کااظہار کیاگیا ہے کہ آزادہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار دو روزہ قومی سمینار منعقد کیا جارہاہے ۔ سوال یہ ہے کہ آزادی کے بعد کیا کوئی سمینار منعقد نہیںہوا تھا، اب تک یونیورسٹیوں اور مختلف تنظیموں کے ذریعے سے جو سمینار کئے گئے تھے کیا وہ سب بکواس تھے ؟۔ کیا اس طرح کا جملہ استعمال کرتے ہوئے دوسرے سمیناروں اور تنظیموں کی توہین نہیں ہوئی ؟۔ کیا واقعی میں یہ تاریخ کا پہلا سمینار ہواہے ؟۔ اب تک یونیورسٹیوں میں جو سمینار منعقد کیے گئے تھے وہ سب فراڈ تھے ؟۔ کیا اُن سمیناروں کا اہتمام کرنے والے پروفیسران ، گائڈ ، منتظمین جھوٹے اور بے ایمان تھے جنہوںنے سمینار ہی منعقد نہیں کیا تھا اور صرف نام دیا تھا؟۔ ایک انجمن کے ذریعے دوسری انجمنوں اور یونیورسٹیوں کی توہین کرنا کہاں تک درست بات ہے؟۔اب آگے چلتے ہیں سمینار کے اس موضوع یعنی ٹاپک پر جس پر مقالہ لکھنا ہے ۔ عنوان ہے ” جنوبی ہند میں اردو کی ابتداء ، ارتقاء اور مسائل” ۔ جنوبی ہندمیں تو اردو کی ابتداء اور ارتقاء پر اس وقت روشنی ڈالنے سے زیادہ اردو کے مسائل پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے کیونکہ جن مقالہ نگار صاحبان کو ممکنہ طورپر اس سمینار میں شرکت کی دعوت دینے جارہے ہیں انہوںنے اردو کےتنزل ، زوال اور اناء پر بہت کام کیاہے ۔ اس وقت ریاست کے مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں کی حالت دیکھیں ۔ وہاں داخلے کس نہج پر لیے جارہے ہیں ۔ حکومت کی طرف سے پیش کردہ ضوابط جس میں یہ کہا گیا ہے کہ کم از کم 5 طلباء کی موجود گی ہوتو شعبہ بند نہیں کیا جاتا۔ اب اردو شعبے کے بیشتر پروفیسران ، صدر شعبہ پوری ایمانداری کے ساتھ محض پانچ طلباء کے داخلوں کے پابند ہیں اس سے زیادہ کے لئے نہ وہ محنت کرتے ہیں نہ ہی انکو ضرورت ہے ۔ کچھ ایسے صدر شعبہ بھی ہیں جو پانچ سے زائد طلباء کے داخلوں کو خود ہی روکتے ہیں ، جب ان سے سوال کیا جاتاہے کہ کیوں داخلوں کو روکا گیا تو جواب یہ ملتاہے کہ اردو پڑھنے سے کیا فائدہ ہے ؟۔ ہم نے تو اپنی زندگی گزار لی ہے ، اب ان بچوں کی زندگی کو تباہ کیوں ہونے دیں ؟۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف چھٹویں اور ساتویں بچے کی زندگی ہی تباہ ہورہی ہے اورجو پانچ بچے داخلہ لے چکے ہیں کیا وہ امر ہوجائینگے ؟۔ سب سے پہلےانجمنوں کو چاہئے کہ وہ اردو زبان کی ابتداء ،ارتقاء پر سمینار کرنے کے بجائے اردو دانوں کی ذہن سازی کے لئے کارگاہوں کا اہتمام کریں ۔ اردو کےتعلق سے امید جگائیں کہ اردو سے مستقبل بھی ممکن ہے اور اردو کا مستقبل بھی روشن ہے ۔ کچھ پروفیسران کا یہ بھی مانناہے کہ اردو ختم ہورہی ہے اور ختم ہوجائیگی اس لئے ہمیں اس پر زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، یہ لوگ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ وہ اب سبکدوش ہوچکے ہیں اور پنشن کی آڑ میں ہیں ۔آخر میں انجمن ترقی اردو کے ذمہ داروں کو یہی مشورہ ہے کہ انجمن کو ریاستی انجمن بنائیں نہ کہ ریجنل انجمن کا درجہ دیں اور نہ ہی سمیناروں اور مشاعروں سے توقع رکھیں کہ اردو کی بقاء اسی سے ممکن ہے ۔ اگر واقعی میں مشاعروں سے زبان کی بقاء ممکن ہوتی تو آج اسرائیل میں ہر دوسرے دن ہیبریو زبان کے مشاعرے ہوتے ۔ لیکن وہاں زبان سے محبت زبان کی بقاء کی ضامن ہوئی ہے۔
