رازِ کائنات

سلائیڈر مضامین
از:۔ کمال پاشاہ دبئی
یہ کائنات مرقع نور ہے اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے کہکشاؤں کے عظیم اور وسیع سلسلے شمس و قمر کے جلوے چمکنے والے ستاروں کی حسین کائنات اتنی منور ہے کہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اس کو تخلیق کرنے والاخود زمین اور آسمان کا نور ہے اتنی روشن کائنات ایک روشن دلیل ہے اپنے خالق کی!
اگر ذوق نظر میسر ہو تو یہ کائنات ایک عجب تماشہ ہے کرنوں میں آفتاب ہیں، قطروں میں بحر ہیں، دریا حباب میں ہیں، ذروں میں دشت ہیں دیکھنے والی نظر ہوتو نظاروں کی کمی نہیں۔اس کائنات کی وسعتوں کے بارے میں جو کچھ کہ دیا جائے بلامبالغہ ہوگا، ہم ایک سورج سے وابستہ ہیں اور اس کائنات میں ایسے کڑوڑوں سورج موجود ہیں ایسے سیارے اور ستارے دریافت ہوچکے ہیں جن کا زمین سے فاصلہ ہزاروں لاکھوں سال نور ہیں۔ یعنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار فی سکینڈ کی رفتار سے چلنے والی روشنی ایک ستارے سے زمین پر آنے میں لاکھوں سال لیتی پے۔۔
 اللہ اللہ یہ وسعت انسان سوچ کرہی سہم جاتا ہے اس وسیع کائنات میں زمین کی کیا حیثیت ہے اور اس زمین میں ایک ملک کی کیا اہمیت ہے اور ملک میں ایک شہر اور شہر میں ایک مکان اور مکان میں ایک انسان کی کیا اہمیت ہے اور پھر انسان میں چھوٹا سا دماغ کیا جسارت کریگا اس وسیع کائنات کی عظیم خالق کے بارے میں لب کشائی کرنے کی۔۔مقام تحیر اور مقام سکوت ۔
اس کائنات میں ایسے مقامات ایسے علاقے ہیں جہاں اتنی سردی کے بس اگر انسان ذکر کرے تو خیال منجمند ہو جائے اور کہیں اتنی حدت کے سورج بھی پناہ مانگے یہ کائنات عجب ہے  تخلیق اپنے خالق کی مظہر ہے جس خالق نے اس کائنات کو تخلیق کا حیران کن مظہر بنایا  اسی خالق نے انسان کو بڑے دعوے اور وثوق کے ساتھ اشرف المخلوقات پیدا فرمایا یہ ایک عظیم احسان ہے عظیم محسن کا۔ انسان کو بینائی عطا فرمانے والابے مثال حسن کے پرتو میں اس کائنات کی ہمہ رنگ نیر نگینوں میں جلوہ گر ہے۔
 یہی وہ راز ہے جو انسان کو جاننے والابنایا انسان ظاہر سے باطن و باطن سے ظاہر کا سفر کرنے کیلئےپیدا کیا وجوہ سے نتائج اور نتائج سے وجوہات تلاش کرتا ہے وہ ہر شئے کے اندر پنہاں اس جوہر کو ڈھونڈتا ہے جو اس شئے کی پہچان ہے۔ اس شئے کا راز ہے۔پہاڑوں کو انسان نے اپنے عزم کا مظہر کیا، نہ بدلنے والا اٹل ارادہ پہاڑکی طرح اپنی جگہ سے نہ ہلنے والا، اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ پھر تمہارے دل سخت ہو گئے جیسے وہ پتھر ہو اور حالانکہ میں نے پتھروں سے نہریں جاری کیں ہیں وہاں پتھر سے دریا کا نکلنا ایسے ہے جیسے سخت دل انسان کا دل بھر آنا ہو یا آنکھ سے آنسو کا بہانا۔
 دریا زندگی کا دریا کہا گیا جو موت کے سمندر میں ڈوبتا ہے یہ دریا آخرکار تاریک سمندر میں گر جاتا ہے وقت دریا ہے اور لوگ تنکوں کی طرح اس میں بڑھتے چلے جارہے ہیں سمندر کو ہستی کا آغاز و انجام کہا گیا انسان بادلوں کی طرح سمندر سے آتا ہے اور واپس سمندر میں چلا جاتا ہے۔ سمندر سے بڑے معنی وابستہ ہیں بڑی علامتیں ہیں سمندر روح ہےجو  نصف شب کو جاگتا ہے طوفان میں کناروں کواڑادیتا   ہے پرسکون ہو تب بھی گہرائی کی وجہ سے پر خوف لگتا ہے سمندر رازوں کو باہر نکال پھینکتا ہے اس کے باطن میں خزانے  ہیں موتیوں، کی زندگی کے، اور اس کے اندر انسان کیلئے بڑے علوم ہیں جبکہ سمندر زندہ ہے زندگی ختم نہیں ہوسکتی سمندر گہرا ہے کڑوا ہے نا قابل تسخیر ہے فیاضی اور علم کے پیکر کو سمندر کہا گیا ۔۔
 آئیے دیکھیں انسان اپنے گرد رہنے والے جانداروں سے کیا حاصل کیا انہیں کیسے معنی دیے ان سے کیاکیا سبق وعبرت اور نتیجے نکالے مثلا پرندوں کی دنیا میں شاہین کو لے لیں مرد مومن ہی شاہین ہے پرندوں کی دنیا کا درویش ہے وہ اشیانہ نہیں بناتا ، بلند پرواز ہے بلند نگاہ پہاڑوں کی چٹانوں میں رہتا ہے قصر سلطانی سے گریز کرتا ہے ایک مرد حر کی صفات عالیہ ہیں ایک آزاد قوم کے لئے شاہین ایک بہت بڑا استعارہ ہے سورج کو نگاہ میں لیتا  ہے مر جائے تب بھی زمین پر نہیں گرتا اس کی نگاہ آسمان پہ ہوتی ہے اس کا رزق صالح اور پاکیزہ ہے یعنی زندہ کبوتر شکار کرتا ہے شاہین مانگ کر نہیں کھاتا ہے، قانع ہے،نگاہ تیز رکھتا ہے درویشی میں بادشاہی کرتا ہے اور بادشاہی میں درویشی کرتا ہے۔
 اقبال نے جوانوں میں عقابی روح کے بیدار ہونے کی دعا کی ہے۔۔۔عقابی روح کا کام ہے آسمانوں کی طرف پرواز کرنا اور شہباز لامکان، شہباز طریقت وخطابت، اور پھر ہمارے شاہین ۔۔۔
یہ کائنات آئینہ ہے انسان کی اپنی کائنات کا ۔۔ ہر طرف انسان کی اپنی صفات پھیلی ہوئی ہیں۔ انسان غور کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ یہی کائنات انسان کا باطن ہے اور یہ  کائنات کھلی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حقیقت در حقیقت،  علامت در علامت غرضکیہ لامحدود جلوہ کائنات میں موجود ہے انسان کی تلاش کیلئے تلاش ذات کیلئے اسی کائنات میں ایک مخفی اور حسین کائنات موجود ہے ۔
یعنی کائنات جلووں کی کائنات ۔۔انسان غور تو کرے۔۔۔