چامراج پیٹ عید گاہ معاملہ میں وقف بورڈ کا حکومت کے خلاف سپریم کورٹ جانا مہنگا پڑیگا وقف بورڈ کو ’سوپر سیڈ کرنے حکومت کی تیاری؟
بنگلورو:۔بنگلوروکے چامراج پیٹ عیدگاہ میدان میں گنیش چتروتی کےا نعقادکی مخالفت کرتے ہوئے کرناٹکا وقف بورڈنے سپریم کورٹ میں جو عرضی دائرکی تھی اُس عرضی پرسپریم کورٹ میں شنوائی ہوئی جس میں عدالت نے کہاکہ گنیش اتسو کو عیدگاہ میں نہ منایاجائے بلکہ دوسری جگہ پر یہ تہوار منایاجائے اور ساتھ ہی ساتھ دونوں فریقین کو اسٹیٹس کو اختیارکرنے کا حکم دیاہے۔قریب دوگھنٹوں کی طویل بحث کے بعد عدالت نے یہ فیصلہ سُنایاہے۔گنیش اتسو منانے کیلئے کرناٹکا ہائی کورٹ اور حکومت کےفیصلے کے خلاف کرناٹکا وقف بورڈنے سپریم کورٹ میں عرضی دائرکی تھی جس میں وقف بورڈنے بتایاکہ یہ املاک عیدگاہ کی ہے جو وقف بورڈ کے ماتحت ہے،اس تعلق سے سپریم کورٹ میں فوری شنوائی شروع کی گئی جس میں چیف جسٹس یویو للت اور جسٹس ایس رویندربھٹ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے معاملے کو سنجیدگی سے سُنا اور کہاکہ گنیش اتسوعیدگاہ میدان میں نہ منایاجائے۔اڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت کو بتایاکہ1965 کے قانون کے مطابق یہ عیدگاہ وقف املاک ہے جبکہ میسوروریاست کے دوران اسے عیدگاہ کا مقام قرار دیاگیاتھا۔واضح ہوکہ کرناٹکا ہائی کورٹ کے پہلے فیصلے میں اس عیدگاہ پر نمازاداکرنے کاحکم صادرکیاگیاتھا ،اس کے ساتھ ہی دوسرے دن کے فیصلے میں ہائی کورٹ کی ہی ایک اور بینچ نے گنیش اتسومنانے کیلئے اجازت دی تھی،جسے لیکر کرناٹک کے مسلمانوں میں شدید تشویش پائی گئی تھی ساتھ ہی ساتھ کرناٹکا وقف بورڈکے ریاستی صدر شفیع سعدی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں یہ معاملہ لے گئے جسے ایک بڑی کامیابی کہی جارہی ہے۔
کیا حکومت ریاستی وقف بورڈ کو سوپرسیڈ کریگی؟
ایک طرف چامراج پیٹ عید گاہ معاملہ کو لے کر ایسا لگتا ہے کہ ریاستی بی جے پی حکومت اور کرناٹکا اسٹیٹ بورڈآف اوقاف آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ وقف بورڈ کے باخبر ذرائع کی اطلاع کے مطابق جس طرح وقف بورڈ کی طرف سے چامراج پیٹ عید گاہ معاملہ میں بی بی ایم پی کی طرف سے جاری حکم نامہ کو چیلنج کرتے ہوئے پہلے ہائی کورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف چیلنج کیا گیا وہ ریاست کے سرکاری حلقوں میں ہلچل کا سبب بن گیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت سے واضح اشارہ دئیے جانے کے بعد بھی کہ بورڈ اس عیدگاہ کو لے کر حکومت کے خلاف نہ جائے۔ اس کے باوجود بھی بورڈ کی طرف سے پہلے ہائی کور ٹ اور بعد میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ریاستی حکومت کے ایک سینئر وزیر کی طرف سے وقف بورڈ چیر مین شافع سعدی سے بار بار کہا گیا تھاکہ اس معاملہ میں و قف بورڈ ریاستی حکومت کے موقف کے خلاف نہ جائے ورنہ حکومت کو وقف بورڈ کے متعلق سوچنا پڑے گا۔ سمجھا جا رہا ہے کہ سینئر وزیر کی طرف سے دبے الفاظ میں جو بات کہنے کی کوشش کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر وقف بورڈ نے حکومت کی بات نہ مانی تو اسے برخاست بھی کیا جاسکتا ہے۔وزیر اور چیرمین کے درمیا ن ہوئی اس گفتگو کے حوالے سے یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے وقف بورڈ کو برخاست کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔اس تعلق سےریاستی وقف بورڈ کے چیرمین سافع سعدی نے ان خبروں کی تردید کی کہ وقف بورڈ پر حکومت کی طرف سے چامراج پیٹ عید گاہ کے معاملہ کو لے کر کسی طرح کاد باؤ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ چامراج پیٹ عید گاہ کے معاملہ میں جو موقف اپنا رہا ہے وہ اس کی ذمہ داری ہے۔ چونکہ وقف بورڈ بھی ایک سرکاری ادارہ ہے اس لئے وہ بھی اپنی سرکاری ذمہ داری کو پورا کر رہا ہے اس لئے حکومت کے خلاف جانے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دباؤ بھی ہے تو وقف بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وقف املاک کی حفاظت کی جائے اور اس ذمہ داری سے وقف بورڈ کے غافل ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ اس سوال پر کہ ایسی صورت میں اگر وقف بورڈ کو حکومت کی طرف سے سوپر سیڈ کر دیا جائے تو؟ شافع سعدی نے کہا کہ اس کا امکان نہیں ہے۔
