علامہ حبیب سرکار آمری نےجے ڈی ایس کی حمایت کی،مریدوں اور عام لوگوں میں بے چینی

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔عام طور پر یہ دیکھاجاتاہے کہ سیاسی قائدین آشرموں اور مٹھوں کو پہنچ کر وہاں کے سنتھوں اور پوجاریوں سے دعائیں حاصل کرتے ہوئے سیاسی کامیابی کیلئے درخواست کرتے ہیں اور کسی بھی مٹھ کے سوامی یا آشرم کے سنتھ کو کسی سیاستدان کی چوکھٹ پر جاتے ہوئے نہیں دیکھاگیاہے یہاں تک کہ مغلیہ دور سے لیکر ٹیپوسلطان کے دور تک صوفیوں،ولیوں کی چوکھٹ پر بادشاہوں ونوابوں کاسر جھکتے ہوئے دیکھا گیا ہےنہ کہ صوفیوں و ولیوں نے کسی محل کارخ کیاتھا، لیکن کرناٹک کےچکبلاپورکے سدلگٹہ میں  ایک ایسا واقعہ دیکھنے کوملاہے جہاں پر ایک سلسلے کے خلیفہ خود سیاستدان کے گھر پہنچ کر نہ صرف اُسے دعائوں سے نوازا بلکہ یہ بات بھی کہہ ڈالی کہ تم بے فکر ہوکر سوجائو،تمہاری کامیابی ہماری کامیابی ہوگی۔دراصل سلسلہ آمریہ کے خلیفہ کہہ جانے والے علامہ مولانا حبیب سرکارنے سدلگٹہ میں جے ڈی ایس پارٹی کےلیڈرروی کمارکی حمایت کی بلکہ بطور ترجمان نے انہوں نے اس کی ستائش کرتے ہوئے جیت کی یقین دہانی کروائی ہے۔اس بات کو لیکر علامہ کے چاہنےوالوں اور مریدوں میں ناراضگی دیکھی گئی ہے مگر علامہ حبیب سرکارنے راست طورپرجے ڈی ایس پارٹی کے لیڈرکی حمایت کرتے ہوئے اپنے آپ کو جے ڈی ایس کے ترجمان کے طور پر پیش کیا ہے ۔ غورطلب بات یہ ہے کہ علامہ حبیب سرکارنے اپنی بات میں کہاکہ وہ اگلے ایم ایل اے بن جائینگے،کسی بھی طرح کی پریشانی مول لینے کی ضرورت نہیں ہے،ایک سال کیلئے ان کی دعائیں ان کے ساتھ رہے گیں ۔ ایک سلسلے کے ساتھ جڑے ہوکر مخصوص سیاسی جماعت کی تائید کرنے کولیکر ان کے چاہنے والوں اور عام لوگوں میں سخت بے چینی دیکھی گئی ہے۔سوال یہ ہے کہ جو سلسلے شریعت،معرفت وعرفانیت کا پیغام دیتے ہیں وہ کس بنیادپر سیاست پر اُتررہے ہیں۔