سنٹرل وِسٹا ایونیو کا مودی نے کیا افتتاح; راج پتھ ’کرتویہ پتھ ‘ ہوگیا

سلائیڈر نیشنل نیوز

دہلی:۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو نئی دہلی میں سینٹرل وسٹا ایونیو کا افتتاح کیا۔ افتتاح کے ساتھ ہی برسوں پرانا راج پتھ کرتویہ پتھ بن گیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں وزیرداخلہ امت شاہ بھی موجود تھے۔اس کے ساتھ انہوں نے نیتا جی سبھاش چندر بوس کے مجسمے کی بھی نقاب کشائی کی ہے۔ خیال رہے کہ کرتویہ پتھ راشٹرپتی بھون سے انڈیا گیٹ تک کا راستہ ہے۔ اس سڑک کے دونوں جانب لان اور ہریالی کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں کے لیے سرخ گرینائٹ پتھروں سے بنا ہوا راستہ اس کی رونق میں اضافہ کرتا ہے۔نیتا جی کے مجسمے کی نقاب کشائی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے سینٹرل وسٹا ایونیو اور مجسمہ بنانے والے کارکنوں سے ملاقات کی۔ان میں باغبان، الیکٹریشن اور معمار شامل ہیں۔ نیتا جی کے مجسمے کی مجسمہ سازی کرنے والی ٹیم کا حصہ بننے والے کاریگروں کا بھی وزیر اعظم نے استقبال کیا۔ واضح رہے کہ نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) نے ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت سے موصول ہونے والی ایک قرارداد کو منظور کرتے ہوئے راج پتھ کا نام بدل کر کرتویہ پتھ کر دیا ہے۔ اب انڈیا گیٹ پر نیتا جی سبھاش چندر بوس کے مجسمے سے لے کر راشٹرپتی بھون تک کا پورا علاقہ کرتویہ پتھ کہلائے گا۔ کرتویہ پتھ کے دونوں طرف آٹھ پل بنائے گئے ہیں، تاکہ پیدل چلنے والوں کو لان پر نہ چلنا پڑے ۔نئی دہلی میں راشٹرپتی بھون سے انڈیا گیٹ تک 3.2 کلومیٹر طویل علاقے کو سینٹرل وسٹا کہا جاتا ہے۔اس علاقے کی کہانی 1911 سے شروع ہوتی ہے۔ اس وقت ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت تھی۔ کلکتہ ان کا دارالحکومت تھا لیکن دسمبر 1911 میں شاہ جارج پنجم نے بنگال میں بڑھتے ہوئے احتجاج کے درمیان ہندوستان کے دارالحکومت کو کلکتہ سے دہلی منتقل کرنے کا اعلان کیا۔ ایڈون لوٹینز اور ہربرٹ بیکر کو دہلی میں اہم عمارتوں کی تعمیر کی ذمہ داری ملی۔ان دونوں نے سینٹرل وسٹا کو ڈیزائن کیا۔ یہ پروجیکٹ واشنگٹن کے کیپٹل کمپلیکس اور پیرس میں شانز لیسی سے متاثر تھا۔ لوٹین اور بیکر نے پھر گورنمنٹ ہاؤس (اب راشٹرپتی بھون)، انڈیا گیٹ، کونسل ہاؤس (اب پارلیمنٹ)، نارتھ بلاک، ساؤتھ بلاک اور کنگ جارج کا مجسمہ (اب وار میموریل) بنایا۔ آزادی کے بعد سینٹرل وسٹا ایونیو جانے والی سڑک کا نام بھی بدل دیا گیا اور کنگس وے راج پتھ بن گیا۔ آج سے اس کا نام بھی کرتویہ پتھ ہوگیا ہے۔اس وقت راشٹرپتی بھون، پارلیمنٹ، نارتھ بلاک، ساؤتھ بلاک، ریل بھون، وایو بھون، کرشی بھون، صنعت بھون، شاستری بھون، تعمیر بھون، نیشنل آرکائیوز، جواہر بھون، اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار آرٹس، نیشنل میوزیم، وگیان بھون، رکشا بھون، حیدرآباد ہاؤس، جام نگر ہاؤس، انڈیا گیٹ، نیشنل وار میموریل اور بیکانیر ہاؤس وغیرہ سینٹرل وسٹا کے اندر آتے ہیں۔سینٹرل وسٹا کے پورے علاقے کو دوبارہ تیار کرنے کے منصوبے کا نام سینٹرل وسٹا ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ ہے۔ اس میں کچھ موجود عمارتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، کچھ کو کسی اور کام کے لیے استعمال کیا جائے گا، کچھ کی تزئین و آرائش کی جائے گی، کچھ کو گرا کر ان کی جگہ نئی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔سینٹرل وسٹا ایونیو کی تعمیر نو کے مکمل ہونے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے آج اس کا افتتاح کیا۔اس علاقے میں واقع چھ عمارتوں میں اس ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ ان میں راشٹرپتی بھون، حیدرآباد ہاؤس، انڈیا گیٹ، ریل بھون، وایو بھون اور وار میموریل شامل ہیں۔ وہیں نارتھ بلاک اور ساؤتھ بلاک دونوں کو نیشنل میوزیم میں تبدیل کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کی موجودہ عمارت کو آثار قدیمہ کے ورثے میں تبدیل کیا جائے گا۔ موجودہ جام نگر ہاؤس کو اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار آرٹس میں تبدیل کردیا جائے گا۔اس ری ڈویلپمنٹ کے لیے کچھ عمارتیں بھی گرائی جائیں گی۔ ان میں موجودہ نیشنل میوزیم، اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار آرٹس، نائب صدر بھون، وانجیہ بھون، نرمان بھون، جواہر بھون، وگیان بھون، کرشی بھون، شاستری بھون اور رکھشا بھون جیسی عمارتیں شامل ہیں۔سینٹرل وسٹا ایونیو سینٹرل وسٹا ماسٹر پلان کا حصہ ہے۔ راشٹرپتی بھون سے انڈیا گیٹ کے درمیان کی سڑک اور اس کے دونوں طرف کا علاقہ سینٹرل وسٹا ایونیو کہلاتا ہے۔ سینٹرل وسٹا کی ویب سائٹ کے مطابق بھاری ٹریفک، ضرورت سے زیادہ عوامی رسائی، پیدل چلنے والوں کے لیے دوستانہ سہولیات کا فقدان، دکانداروں کے لیے ناکافی سہولیات، اور زمین اور پانی کی آلودگی کی وجہ سے اس تبدیلی کی ضرورت تھی۔حکومت نے 4 اگست2022 کو لوک سبھا کو بتایا تھا کہ اس ماسٹر پلان کے تحت پانچ پروجیکٹوں پر کام جاری ہے۔ ان میں پارلیمنٹ کی نئی عمارت، سینٹرل وسٹا ایونیو کی تعمیر نو، کامن سینٹرل سیکریٹریٹ کی تین عمارتیں، نائب صدر کا انکلیو اور ایگزیکٹو انکلیو شامل ہیں۔