شدید مخالفت کے بعدبھی کرناٹک کے ودھان پریشد میں انسدادِ تبدیل مذہب قانون منظور

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کرناٹکا پروینشن آف ریلیجس رائٹس پروٹکشن آیکٹ (انسدادِ تبدیل مذہب قانون) کو آج ودھان پریشدمیں صوتی ووٹنگ سےمنظورکرلیاگیاہے۔ودھان پریشدمیں وقفہ سوال وجواب کے بعد وزیر داخلہ ارگا گیانیندرانے یہ آیکٹ پریشدمیں پیش کیا۔اس آیکٹ کی منظوری سے پہلے پریشدمیں اپوزیشن اور رولنگ جماعت کے درمیان شدید بحث ہوئی،اس کے بعد وزیر داخلہ ارگاگیانیندرانے کہاکہ یہاں کسی بھی طرح کی ووٹ کی سیاست نہیں ہورہی ہے،یہ سیکولر ملک ہے،یہاں سب کو قبول کرنے کی تہذیب ہے ۔دوسرے ملک کے مذہب کے لوگ بھی یہاں سکون سے جی رہے ہیں،اُن کے ممالک میں خونریزی اوربدامنی کا ماحول ہے،لیکن یہاں ایسانہیں ہے۔دوسرے مذاہب کے لوگ منظم طریقے سے جس طرح کی حرکتیں کررہے ہیں وہ سب جانتے ہیں۔ اس آیکٹ کو پیش کرتے وقت اپوزیشن جماعتوں نے شدید برہمی کااظہارکیااور جبکہ ودھان پریشدکے اپوزیشن لیڈر بی کے ہری پرسادنے مسودے کی نقل کو پھاڑکر اپنا احتجاج درج کروایا۔واضح ہوکہ سال 2021 کےدسمبرمیں بلگائوی کے سورناودھان سودھامیں ہونےو الی ایوانِ اقتدارکی کارروائی میں اس آیکٹ کو پیش کیاگیاتھا جہاں پرلیجسلیٹو اسمبلی نے منظوری دی تھی مگر ودھان پریشدمیں اراکین کی تعدادکم ہونے کی وجہ سے اس مسودے کو منظورنہیں کیاگیاتھا،اس وجہ سے مئی کے مہینے میں حکومت نے آرڈیننس پاس کیاتھا۔