یو اے پی اے کے تحت جرم ثابت ہونے کی شرح صرف3 فیصد

نیشنل نیوز
دہلی:۔ ان الزامات کے درمیان کہ مودی سرکار اپنے خلاف آواز بلند کرنے والے سماجی کارکنان اور شہری سماج کے اراکین کا منہ بند کرنے کیلئے ان پر یو اے پی اے عائد کرکے جیل میں ٹھونس دیتی ہے، تازہ اعدادوشمار  سے انکشاف ہو اہے کہ گزشتہ ۶؍ برس میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کئے گئے افراد میں سے صرف ۳؍ فیصد پر ہی جرم ثابت ہوسکا ہے۔کانگریس کے سینئر لیڈر ملکارجن کھرگے نے اپنے ایک ٹویٹ میں حوالہ دیا ہے کہ ۲۰۱۵ء سے ۲۰۲۰ء کے درمیان ۸؍ ہزار ۳۷۱؍ افراد کو گرفتار کیاگیا جس میں سے ۲۳۵؍ ہی ایسے ہیں جن پر جرم ثابت ہوسکا ہے۔ انہوں  نے نشاندہی کی کہ جتنے مقدموں  کے فیصلے ہوئے ہیں ان میں سے ۹۷؍ فیصد مقدموں میں  جوملزمین بری ہوئے ہیں  وہ وہ افراد ہیں  جنہوں  نے حکومت  کے  خلاف آواز بلند کی تھی۔ کھرگے نے الزام لگایا کہ انہیں  انتقامی جذبے کے تحت کام کرنے والی مودی حکومت نے جھوٹے الزام میں گرفتار کیاتھا۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ظالمانہ طریقے سے ہونے والی ان گرفتاریوں کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اصل ملزمین آزاد گھومتے رہیں گے۔ ملکارجن کھرگے نے جن اعدادوشمار کا حوالہ دیا ہے وہ نیشنل کرائم بیورو  کی تازہ رپورٹ سے حاصل کئے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں پیپلز یونین فار سو ِل لبرٹیز(پی یو سی ایل)نے  جو رپورٹ جاری کی ہے اس  کے مطابق یو اے پی اے کے تحت ماخوذ کئے گئے افراد کے بری ہونے کی شرح ۹۷ء۲؍فیصد ہے مگر تب تک ملزم بنائے گئے افراد طویل عرصہ قید وبند میں اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا کے طورپر گزار چکے ہوتے ہیں۔ پی یو سی ایل  نے اپنی رپورٹ ’’یو اے پی اے: اختلاف رائے کو جرم بنانا اور ریاستی دہشت گردی‘‘ میں کہا ہے کہ دہشت گردی مخالف قانون کے طورپر مشہور یو اے پی اے میں ’’ظالمانہ اور غیرجمہوری التزامات ‘‘کو شامل کردیا گیاہے۔