پی ایف آئی کی ٹاپ لیڈرشپ سلاخوں کے پیچھے اب کیا ہے مودی حکومت کا منصوبہ؟
دہلی:۔این آئی اے اور ای ڈی نے جمعرات کو 11 ریاستوں میں پی ایف آئی کے دفاتر اور ریاستی اور ضلعی سطح کے 100سے زائدرہنماؤں کے گھروں کی تلاشی لی تھی،جس کے دوران پارٹی کے کئی سرکردہ لیڈروں کو گرفتار کیاگیاتھا،سوال اٹھنے لگاہے کہ کیا مودی حکومت کے پاس ایسا کوئی ثبوت ہے جس بنیاد پرکارکنوں کوغداروطن قراردے اورانہیں دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اس پرپابندی لگادے؟۔ اتنی لمبی اور تاریخی چھاپے ماری کے بعد بھی اگر مودی کی ایجنسیاں ثبوت پیش کرنے میں ناکام ثابت ہوتی ہیں تو کیاہوگا؟کیا مودی حکومت ملک سے معافی مانگے گی؟اب مودی سرکارکا اگلامنصوبہ کیاہے؟اس سے قبل پی آئی ایف کے خلاف جتنی بھی سازشیں رچی گئیں سب کے سب ناکام ہوئیں،تو کیا اب مودی حکومت اپنے مذموم مقصد میں کامیاب ہوجائے گی؟۔خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، این آئی اے حکام نے تلاشیوں کو اب تک کا سب سے بڑا تفتیشی عمل قرار دیا۔انگریزی پورٹل مکتوب انڈیانے تفصیلی رپورٹ میں بتایاکہ ٹاپ لیڈر شپ سلاخوں کے پیچھے پہنچادی گئی ہے، اب وہ تفتیش کے مرحلے میں ہے۔ یہ گرفتاریاں آندھرا پردیش (5)، آسام (9)، دہلی (3)، کرناٹک (20)، کیرلا(25)، مدھیہ پردیش (4)، مہاراشٹر (20)، پڈوچیری (3)، راجستھان (2) تمل ناڈو (10)اور اتر پردیش (8)کارکنوں کی ہوئیں۔پی ایف آئی کے قومی صدر او ایم اے سلام، نائب صدر ای ایم عبدالرحیم، قومی سکریٹری نصرالدین المرام اور کیرلا یونٹ کے صدر سی پی محمد بشیر کو کیرلا کے مختلف حصوں سے حراست میں لیا گیا۔ان کے علاوہ پی ایف آئی کے سابق صدراور ایس ڈی پی آئی کے بانی صدر ایراپنگل ابوبکرسینئر صحافی اور نیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن (این سی ایچ آر او)کے جنرل سکریٹری پروفیسر پی کویا کو بھی انسداد دہشت گردی ایجنسیوں نے کیرلا سے گرفتار کیاہے۔دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) دہلی یونٹ کے صدر پرویز احمد، جنرل سکریٹری محمد الیاس اور آفس سکریٹری عبدالمقیت کو پوچھ گچھ کے لیے سات دن کی تحویل میں دیا ہے۔پی ایف آئی کے رہنماؤں پر مالی عطیات کی آڑ میں منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔تینوں ملزمان سے اب تک برآمد ہونے والی دستاویزات کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جائیگی۔ اس کے گھر سے برآمد ہونے والے فون کا فرانزک معائنہ بھی اس کے سامنے کیا جانا ہے۔ ای ڈی ان ملزمان سے سات دنوں میں پوچھ گچھ کرے گی۔ای ڈی نے جمعہ کو تینوں ملزمین کے ریمانڈ کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ پرویز احمد، جو 2018 تک دہلی پی ایف آئی کے صدر تھے۔وہ مجرمانہ سازش میں ملوث تھے۔ انہوں نے دہلی میں چندہ جمع کرنے کا اعتراف کیا ہے۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) نے پٹنہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ریلی کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس کے لیے پی ایف آئی حساس مقامات پر حملے کرنے کے لیے دہشت گردوں کے ماڈیولز، مہلک ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کو جمع کرنے میں مصروف تھے۔ای ڈی نے جمعرات کو پی ایف آئی ممبر شفیق پیتھ کو کیرالہ سے گرفتار کیا تھا۔ شفیق پیتھ کے خلاف اپنے ریمانڈ نوٹ میں ای ڈی نے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ اس سال 12 جولائی کو وزیر اعظم نریندر مودی کے پٹنہ دورے کے دوران پی ایف آئی نے حملے کے لیے ایک تربیتی کیمپ کا اہتمام کیا تھا۔ ای ڈی کو پی ایف آئی کی طرف سے گزشتہ برسوں میں جمع کیے گئے 120 کروڑ روپے کی تفصیلات ملی ہیں۔ یہ رقم زیادہ تر نقد رقم میں جمع کی گئی تھی اور ملک بھر میں فسادات اور دہشت گردانہ کارروائیاں پھیلانے کے لیے کی گئی تھی۔ای ڈی کو پی ایف آئی کی طرف سے گزشتہ برسوں میں جمع کیے گئے 120 کروڑ روپے کی تفصیلات ملی ہیں۔ یہ رقم زیادہ تر نقد رقم میں جمع کی گئی تھی اور ملک بھر میں فسادات اور دہشت گردانہ کارروائیاں پھیلانے کے لیے کی گئی تھی۔
