بٹ کوائن کو مزید گراوٹ کا سامنا،چینی جھٹکا

انٹرنیشنل نیوز سلائیڈر

بیجنگ :۔چین نے سال 2019 میں کرپٹو کرنسی کو غیر قانونی قرار دے چکا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس پابندی کی بنیادی وجہ بیجنگ حکومت کے نزدیک منی لانڈرنگ کے عمل میں تیزی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس پابندی کے باوجود چینی باشندوں میں کرپٹو کرنسی حاصل کرنے کے شوق میں کمی نہیں ہوئی۔ نئی حکومتی اعلان امکانی طور پر اسی تناظر یعنی منی لانڈرنگ کی حوصلہ شکنی کے تناظر میں ہو سکتا ہے۔ چینی حکومت کے اعلان کے بعد بدھ کو انٹرنیشنل کاروباری منڈیوں میں بٹکوائن کی قدر میں مزید کمی دیکھی گئی۔کرپٹو کرنسی کی دنیا میں سب سے معتبر کرنسی بٹکوائن قرار دی جاتی ہے۔ چینی حکومتی اعلان سے قبل ایک بٹکوائن کی قدر پینتالیس ہزار چھ سو ڈالر تھی اور بیجنگ کی نئی پابندی کے بعد اس کی قدر میں قریب سات ہزار کی کمی ہوئی۔ اس کی اب قدر اڑتیس ہزار پانچ سو ستر ڈالر ہے۔رواں برس فروری کے بعد بٹکوائن کی یہ سب سے کم قدر ہے۔ بدھ انیس مئی کو اس کی قدر گر کر چونتیس ہزار پر بھی پہنچ گئی تھی لیکن بعد میں تجارتی سرگرمیوں میں تھوڑی تیزی پیدا ہونے سے اس کی قدر میں اضافہ ہوا تھا۔بٹکوائن کی قدر میں کمی سے پیدا ہونے والے منفی رجحان نے دوسری کرپٹو کرنسیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس باعث دوسری کرپٹو کرنسیوں ایتھریم اور ڈوجیکوئین نے بھی قدر گنوائی۔ ایتھریم کی قدر میں پچیس فیصد کی کمی ہوئی جب کہ ڈوجیکوئین کی قیمت میں انتیس فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ اس گرواٹ نے کاروباری حلقے کو بھاری نقصان پہنچایا۔کرپٹو کرنسیوں کی قدر میں کمی کا رجحان دو ہفتے قبل ایلون مسک کے اعلان کے بعد سے جاری ہے۔ الیکٹرک کار ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلون مسک نے اپنے کاروبار میں ان کرنسی کا استعمال روک دیا ہے اور اس باعث کرپٹو کرنسیوں کی قدر میں دس فیصد کی کمی ہو گئی تھی۔کرنسیوں کی قدر کے نگران چینی ادارے نے مفروضوں کی بنیاد پر کرپٹو کرنسی بٹکوائن کے لین دین کو ایک ایسا فعل قرار دیا جو ملکی مالیاتی نظام کے لیے شدید نقصان کا باعث ہو سکتا ہے۔ پیپلز بینک نے اپنے بیان میں کہا کہ بٹکوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کی کیفیت ملکی اقتصاد کے لیے بھی سود مند نہیں ہے اور یہ لوگوں کے اثاثوں کے لیے بھی ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔چینی مرکزی بینک کے بیان میں بٹکوائن کی جانب راغب افراد کو متنبہ کیا گیا اس کے لین دین میں ہونے والے نقصان کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے اور ملکی ادارے کسی ذمہ داری کو قبول نہیں کریں گے۔پیپلز بینک نے یہ بھی واضح کیا کہ ورچوئل کرنسی کسی بھی طور پر حقیقی کرنسی قرار نہیں دی جا سکتی اور نا ہی وہ اس کا متبادل ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ کاروباری حلقوں یعنی مارکیٹ میں کرپٹو کرنسی ایک حقیقی کرنسی کے طور پر بھی قبول نہیں کی جا سکتی۔