دیوار کی گھڑی بنانے والی کمپنی کوگجرات کےمور بی پل کی مرمت کا ٹھیکہ کیسے ملا؟ جانچ شروع

نیشنل نیوز
احمد آباد:۔گجرات کے موربی شہر میں ایک کیبل برج کے گرنے کے بعد جانچ کی زد میں آنے والے اوریا گروپ کو سی ایف ایل بلب، دیوارکی گھڑی اور ای با ئک بنانے میں مہارت حاصل ہے لیکن ابھی تک اس بات کا پتہ نہیں چل سکا ہے کہ آیا اسے 100 سال سے بھی زیادہ پرانے پل کی مرمت کا ٹھیکہ کیسے ملا؟گجرات کے موربی شہر میں مچوندی پر کیبل پل کے حادثہ میں منگل کو مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 135 ہوگئی۔ تقریبا 5 دہائی قبل اودھاوچی راگھوبی پٹیل کی طرف سے قائم کی گئی یہ کمپنی مشہور اجنتا اور آر پیٹ برانڈز کے تحت وال کلاک یعنی دیوار کی گھڑیاں بناتی ہے۔ پٹیل کا اس ماہ کے شروع میں 88 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا۔ 1971 میں 45 سال کی عمر میں کاروبار میں ہاتھ آزمانے سے پہلے وہ ایک اسکول میں سائنس کے استاد تھے۔ تقریبا800 کروڑ روپے کی آمدنی والا اجنتا گروپ اب گھر یلو اور برقی آلات، الیکٹرک لیمپ، کیلکولیٹر، چینی مٹی کی مصنوعات اور ای بائک بناتا ہے، تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ فیٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیرہی پل کو عوام کے لئے کھول دیا گیا۔ میچوندی پر کیبل پل 7 ماہ قبل مرمت کے لیے بند کر دیا گیا تھا اور اسے 26 اکتوبر کو گجراتی نئے سال کے موقع پر دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔ یہ جھولتا پل کے نام سے مشہور تھا۔ اس سال مارچ میں اوریوا گروپ کوموربی شہری ادارہ نے پل کی مرمت اور دیکھ بھال کا ٹھیکہ دیا تھا۔الزام ہے کہ پل کو فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر کھولا گیا۔ کمپنی کی انتظامیہ سے تبصرہ کے لیے رابطہ نہیں ہوسکا لیکن گروپ کے ترجمان نے حادثہ کے فوراً بعد کہا کہ پل اس لیے ٹوٹ گیا کیونکہ پل کے درمیان  کئی لوگ اسے ایک طرف سے دوسری طرف جھلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ موربی میں پل حادثہ کے بعد کئی سوال اٹھ رہے ہیں۔ معاملے کی تفتیش جاری ہے اور یقیناً چند روز بعد تحقیقات کے کچھ نتائج سامنے آئیں گے۔ میچوندی پر بنے اس پل میں 100-150 لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ حادثے کے دن یعنی اتوار کو اس پل پر گنجائش سے 5 گنا زیادہ لوگ موجود تھے۔ آخر 100 افراد کی گنجائش والے پل پر 400-500 لوگ کیسے آئے، کس نے اجازت دی؟ اس پل پرجانے کے لیے17 روپے کی ٹکٹ دی گئی تھی۔ تو کیا کسی نے جان بوجھ کر دیوالی کے بعد و یک اینڈ پر بغیرفٹنس چیک کیے اس پل کو کھول دیا تھا، کمائی کے لالچ میں اور اتنے لوگ پل پر جمع ہوگئے۔ بتایا جارہا ہے کہ ایک پرائیویٹ فرم کی جانب سے 7ماہ تک مرمت کے کام کے بعد دیوالی کے اگلے دن اس سسپنشن پل کو دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا۔یہ بات سامنے آرہی ہے کہ اس پُل کے مرمتی کام میں 2 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ موربی میونسپالٹی کے عہدیدارسندیپ سنگھ جالانے میڈیا کو بتایا کہ اسے تزئین وآرائش کا کام مکمل ہونے کے بعد عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا لیکن مقامی میونسپلٹی نے ابھی تک تزئین کاری کے کام کے بعد فٹنس سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا ہے۔