بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ نے پاپولر فرنٹ آف انڈیاپر مرکزی حکومت کے ذریعہ پابندی لگائے جانے کو چیلنج کرنے والی عرضی خارج کردی ہے ۔ یہ عرضی پی ایف آئی کے ریاستی صدر ناصر پاشا نے دائر کی تھی ۔ ملک میں تخریبی سرگرمیاں انجام دینے اور عالمی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مبینہ تعلقات کی وجہ سے انسداد دہشت گردی ایکٹ یو اے پی اے کے تحت پی ایف آئی اور اس سے وابستہ تنظیموں پر گزشتہ 28 ستمبر کو پابندی عائد کردی گئی تھی ۔پی ایف آئی کی آٹھ ایسوسی ایٹ تنظیموں ریہیب انڈیا فاونڈیشن، کیمپس فرنٹ آف انڈیا، آل انڈیا امام کونسل، نیشنل کنفیڈریشن آف ہیومن رائٹس آرگنائزیشن، نیشنل ویمن فرنٹ، جونیئر فرنٹ، امپاور انڈیا فاونڈیشن اور ریہیب فاونڈیشن کیرالہ کے نام بھی یو اے پی اے کے تحت ممنوعہ تنظیموں کی فہرست میں شامل ہیں ۔حکام کے مطابق یہ الزام لگایاہے کہ پی ایف آئی ملک کے فرقہ وارانہ اور سیکولر تانے بانے کو نقصان پہنچانے میں ملوث تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ پی ایف آئی اپنے بنیاد پرست نظریے کو آگے بڑھا کر اور ہندوستان میں اسلامی غلبہ قائم کرنے کی کال دے کر قومی سلامتی کیلئےسنگین خطرہ پیدا کر رہی تھی ۔سال 2006 میں بننے والی یہ تنظیم 2010 سے سیکورٹی ایجنسیوں کے رڈار پر تھی، جب کیرالہ میں ایک پروفیسر کا ہاتھ کاٹنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس معاملہ میں قصوروار قرار دئے گئے کئی ملزمین تنظیم کے رکن تھے ۔وہیں دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ نے پی ایف آئی کے آٹھ ملزمان کو رہاکرنے کے احکامات سُنائے ہیں۔
