بیجنگ:۔امریکہ اور اٹلی نے چین سے آنے والے مسافروں کے لیے لازمی کووڈ 19 ٹیسٹنگ کا اعلان کیا ہے۔یہ اعلان چین کی طرف سے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کو اچانک ختم کرنے اور کیسز میں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔چین کے ہسپتال کورونا وائرس سے متاثرہ افراد سے بھرے ہوئے ہیں جس نے خاص طور پر بزرگوں کو سخت متاثر کیا ہے۔امریکیوں کی صحت کے تحفظ کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے ’یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن‘ نے اعلان کیا ہے کہ ’پانچ جنوری سے چین میں آنے والے تمام فضائی مسافروں کو روانگی سے قبل ایئر لائنز کو ایک نیا منفی کووِڈ ٹیسٹ فراہم کرنا ہوگا۔ایک سینئرامریکی محکمہ صحت کے اہلکار نے صحافیوں کو بریفنگ میں بتایا کہ ’چین میں کورونا وائرس کی منتقلی میں حالیہ تیزی سے اضافہ نئے ویریئنٹ کے سامنے آنے کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔تاہم اہلکار کا کہنا تھا کہ ’بیجنگ نے عالمی ڈیٹا بیس کو محدود ڈیٹا فراہم کیا ہے، اور اس کی جانچ اور نئے کیسز کی رپورٹنگ بھی کم ہو گئی ہے۔امریکہ کا یہ اقدام اٹلی، جاپان، انڈیا اور ملائیشیا کی جانب سے چین سے کووڈ 19 کے نئے ویریئنٹ سے بچاؤ کے لیے اقدامات کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔اٹلی کے وزیر صحت اورازیو شلاسی نے کہا ہے کہ میں نے چین سے آنے والے اور اٹلی سے گزرنے والے تمام مسافروں کیلئے لازمی کوویڈ 19 ویکسین کا حکم دیا ہے۔تائیوان کا کہنا ہے کہ وہ بیجنگ سے آنے والے مسافروں کی ا سکریننگ کریگا۔بیلجیم کے دارالحکومت بروز کے میئر ڈرک ڈی فاؤ جو چینی سیاحوں میں مقبول ہیں، نے چینی مسافروں کیلئےکورونا ٹیسٹ یا ویکسی نیشن کی ضرورت پر زور دیا۔
