دہلی:۔صدر کے خطاب پر تحریک شکریہ پیش کرنے پی ایم مودی آج پارلیمنٹ پہنچے۔ اس دوران پی ایم مودی کے لباس کو لے کر کافی بحث ہو رہی ہے۔ درحقیقت اس دوران وزیر اعظم نے جو جیکٹ پہنی تھی وہ پلاسٹک کی خراب بوتلوں کو ری سائیکل کرکے بنائی گئی تھی۔اسے پیر کو بنگلورو میں انڈیا انرجی ویک میں انڈین آئل کارپوریشن نے پی ایم مودی کو پیش کیا۔ اسی طرح کمپنی نے خراب پلاسٹک کی بوتلوں سے کپڑے بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اسے’اَن بوتلس انیشیاٹیو‘ کا نام دیا گیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں پی ایم مودی کی اس خصوصی جیکٹ کے بارے میں سب کچھ۔درحقیقت، انڈین آئل کارپوریشن نے ہر سال 100 ملین پی ای ٹی بوتلوں کو ری سائیکل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان ری سائیکل شدہ بوتلوں سے کپڑے بنائے جائیں گے۔ آزمائش کے طور پر انڈین آئل کارپوریشن کے ماہرین نے جیکٹ تیار کی تھی۔ جسے پی ایم مودی کو پیش کیا گیا ہے۔ انڈین آئل کے مطابق، ایک یونیفارم بنانے کے لیے کل 28 بوتلوں کو ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ کمپنی ہر سال 10 کروڑ پی ای ٹی بوتلوں کو ری سائیکل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔اس سے ماحولیات کے تحفظ میں مدد ملے گی اور پانی کی بھی کافی بچت ہوگی۔کپاس کو رنگنے کے لیے پانی کی ایک بڑی مقدار استعمال کی جاتی ہے جبکہ پولیسٹر کے لیے ڈوپ ڈائینگ کی جاتی ہے۔ اس میں پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں ہوتا۔ آئی او سی پی ای ٹی بوتلوں کا استعمال کرتے ہوئے مسلح افواج کے لیے غیر جنگی یونیفارم بنانے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔ تمل ناڈو کے کرور میں ایک کمپنی سری رینگا پولیمر نے پی ایم مودی کے لیے ایک جیکٹ تیار کی ہے۔کمپنی کے منیجنگ پارٹنر سینتھل شنکر نے دعویٰ کیا کہ اس نے پی ای ٹی کی بوتلوں سے بنے نو رنگ کے کپڑے انڈین آئل کو دیے تھے۔ انڈین آئل کو یہ جیکٹ ملی ہے جو گجرات میں وزیر اعظم کے درزی نے بنائی تھی۔ری سائیکل بوتل سے بنی جیکٹ کی پرچون مارکیٹ میں قیمت 2000 روپے ہے۔ یہ کپڑے مکمل طور پر گرین ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں۔ یہ بوتلیں رہائشی علاقوں اور سمندر سے جمع کی جاتی ہیں۔ کپڑوں پر ایک کیو آر کوڈ ہے جسے اسکین کرکے اس کی مکمل تاریخ معلوم کی جاسکتی ہے۔ ٹی شرٹس اور شارٹس بنانے کے لیے پانچ سے چھ بوتلیں استعمال کی جاتی ہیں۔ قمیض بنانے کے لیے 10 بوتلیں اور پینٹ بنانے کے لیے 20 بوتلیں استعمال ہوتی ہیں۔
