کرناٹکا اسمبلی انتخابات میں بی جے پی سرگرم،کانگریس نرم نرم; اسمبلی انتخابات کیلئے کھرگےاپنی ہی ریاست سے دور،جبکہ مودی سے لیکر امیت شاہ تک کی کرناٹک میں ہورہی ہے دوڑ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو:۔کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کا اعلان ہونے کیلئے کچھ ہی دن باقی ہیں،ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے بی جے پی،کانگریس اور جے ڈی ایس سمیت مختلف سیاسی جماعتیں سرگرم ہوچکی ہیں۔کرناٹک میں بی جے پی کو اقتدارمیں دوبارہ لانے کیلئے بی جےپی کے قومی صدر جے پی نڈا،مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر اعظم نریندرمودی سمیت پوری بی جے پی کی ٹیم ریاست میں مسلسل دورے کررہی ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندرمودی کرناٹک کے انتخابات کو لیکر خود اس قدر سنجیدہ ہیں کہ وہ پچھلےچالیس دنوں میں کرناٹک کا دورہ کرچکے ہیں،اس کے علاوہ امیت شاہ بھی ہر دوسرے ہفتے کرناٹک کے دورے پر ہیں،جبکہ بی جے پی کارکنان گھر گھر جاکر ابھی سےووٹروں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں،کئی جگہوں پر ووٹروں کو لبھانے کیلئےتحفے وہدیہ بھی پیش کئے جارہے ہیں۔دوسر ی جانب جے ڈی ایس بھی پنچ رتن یاتراکرتے ہوئے آنےوالے اسمبلی انتخابات کا بگل بجا چکی ہے ، اسمبلی انتخابات کیلئے پہلی فہرست بھی جاری کرتے ہوئے اُمیدواروں کو انتخابات میں سنجیدگی سے مقابلہ کرنے کیلئے محنت کررہی ہے۔کمارسوامی اس دفعہ کے انتخابات کو لیکر بے حد سرگرم نظرآرہے ہیں۔مگر سب سے بُرا حال کانگریس کا ہے جس میں سدرامیا اور ڈی کے شیوکمارکی دو ٹیمیں الگ الگ مقامات پر دورے تو کررہی ہیں مگرکانگریس کے آل انڈیا صدر ملیکارجنا کھرگے اب تک پردے میں ہیں۔اپنی دہلی کی کُرسی چھوڑکروہ کرناٹک آنےکیلئے بالکل بھی تیارنظرنہیں آرہے ہیں۔ملیکارجنا کھرگے کا تعلق کرناٹک سے ہے ، لیکن وہ کرناٹک کے انتخابات کیلئے اپنے آپ کو پیش کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ کانگریس کے مداحوں میں ملیکارجنا کھرگے کا یہ قدم تشویش کا باعث بناہواہے ۔پارٹی نے اب تک اُمیدواروں کا اعلان بھی نہیں کیاہے،نہ ہی بوتھ سطح پر پارٹی کے کارکنان کام کررہے ہیں نہ انہیں کام کرنے کی ہدایت مل رہی ہے،البتہ کسی لیڈرکی آمدپر پارٹی کے مقامی لیڈران گروہ بندی کرتے ہوئے اپنی اپنی طاقتوں کا مظاہرہ کررہے ہیں،مانوکہ پارٹی کے امیدواروں کا مقابلہ بی جے پی ،جے ڈی ایس یا عام آدمی پارٹی سے نہیں بلکہ اپنی ہی پارٹی کے دوسرے امیدواروں کے ساتھ مقابلہ چل رہاہے،اگر ایساہی حال رہاتو کرناٹک میں کانگریس کا اقتدارمیں آنامشکل ہی نہیں ناممکن ہوگا۔