بنگلورو:۔ریاست کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں17 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ آج ریاستی حکومت نے لیاہے۔اس سلسلے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کہاکہ این پی ایس کے حوالے سے دوسری ریاستوں میں کیا ہوا ہے،اس تعلق سے تفصیلات اکٹھاکی جائینگی جس کیلئے اے سی ایس کی سربراہی میں ایک کمیٹی دو ماہ میں رپورٹ پیش کریگی۔ اب حکومت نے تنخواہوں میں 17 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر بسواراج بومئی نے اعلان کیا ہے کہ حکومت اس سلسلے میں ایک سرکاری حکم جاری کریگی۔واضح ہوکہ ریاست بھر میں سرکاری ملازمین نے پہلے ہی ساتویں پے کمیشن کو نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسٹیٹ گورنمنٹ ایمپلائز یونین کی طرف سے دی گئی کال کے مطابق غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کر دی ہے۔اس پس منظر میں ایس ایس ایل پری پریپریٹری امتحانات اور منگلور یونیورسٹی کے ڈگری امتحانات کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔دراصل ریاست کے وزیر اعلی بسواراج بومئی نے ہولی سے پہلے ریاست کے لاکھوں ملازمین اور پنشنرز کو بڑا تحفہ دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے عبوری ریلیف کے طور پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 17 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔بومئی نے کہا کہ ایڈیشنل چیف سکریٹری (فنانس) کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو نئی پنشن اسکیم، مالی معاملات اور دیگر ریاستوں میں دیگر مسائل کا مطالعہ کرے گی اور پھر تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔کرناٹک میں سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے جیسے مطالبات پر حکومت کی طرف سے یقین دہانی کے بعد اپنی غیر معینہ مدت کی ہڑتال ختم کر دی ہے۔ اس سے قبل بھی حکومت اور ملازمین یونین کے درمیان کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں جن کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ ریاستی سرکاری ملازمین نے بھی بدھ کو بنگلورو میں بروہت بنگلورو مہانگرا پالیکے (BBMP) کے احاطے میں احتجاج کیا اور ساتویں تنخواہ کمیشن کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔
