مسلمانوں کا4فیصد ریزرویشن ختم کرنا ناانصافی: تنویر ہاشمی

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

بنگلورو:۔موجودہ حکومتِ کرناٹکا کا مسلمانوں کا 4% ریزرویشن ختم کرنے کا فیصلہ نا انصافی اور کھلی اسلام دشمنی کا اظہار ہے۔ کئی سالوں سے مسلمانوں کو حاصل 4% ریزرویشن کو ریاستی اسمبلی انتخابات کے قریب ختم کرنا اور دوسرے غیر مسلم طبقات کو خوش کرنایہ ایک منصوبہ بند سازش ہے اور حکومت کی بدنیتی اور مسلمانوں کے تئیں نفرت وعداوت کی غماز ہے۔ ان خیالات کا اظہار جماعتِ اہل ِ سنت کرناٹکا کے صدر مولانا سید تنویر ہاشمی اور جنرل سکریٹری مفتی محمد علی قاضی نے ایک مشترکہ اخباری بیان کے ذریعہ کہاکہ 4% مسلمانوں کے ریزرویشن کا خاتمہ پوری ریاست کے مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ مولانا تنویر ہاشمی نے مزیدفرمایا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی واقتصادی پسماندگی سچر کمیٹی رپورٹ میں درج ہے جو جگ ظاہرہے کہ ہندوستان کا مسلمان کس قدر پسماندہ ہے بلکہ مسلمانوں کی حالتِ زار دلتوں سے بھی زیادہ خراب ہے۔ اس پسماندگی کو دور کرنے کے لیے ریاستِ کرناٹکاکی سابقہ سیکولر حکومت نے 4% ریزرویشن مختص کیا تھا تاکہ اس ریزرویشن کی بدولت صوبہ کرناٹکا کے مسلمانوں کی تعلیمی، اقتصادی و معاشی پسماندگی دور کی جاسکے۔ مگر افسوس کہ موجودہ ریاستی حکومت تعصب وفرقہ پرستی میں اس قدر اندھی ہوگئی ہے کہ راتوں رات مسلمانوں کو حاصل 4% ریزرویشن ختم کر کے دوسرے غیر مسلم طبقات کو محض اس لیے خوش کیا تاکہ اس کا فائدہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں انہیں بھرپور مل سکے۔مفتی محمدعلی قاضی نے مزید فرمایا کہ حکومت کا یہ اقدام ہمارے وطن کی جمہوریت کے منافی ہے اور ہر جہت سے غیرآئینی اور مظلوم وپسماندہ طبقات کے دستوری حق کو چھیننے کی ایک غلط کوشش ہے۔ حکومت کے اس اقدام سے صوبہ کرناٹکا کے ایک کروڑ سے زائد مسلمان ناراض ہیں بالخصوص وہ طبقہ جو اس 4% ریزرویشن سے فائدہ اٹھا کر نوکری حاصل کرتا تھا اور تعلیمی واقتصادی مسائل کو حل کرنے میں مدد لیتا تھا، اب وہ طبقہ اس سے محروم ہوگیا ہے۔ مفتی صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ کیا اس طرح کے فیصلوں سے صوبہ کرناٹکا اور ہمارے ملک کی ترقی ممکن ہے، ہر گز نہیں۔ ہم اس دیش میں برابر کے حقدار ہیں، ہمیں ہمارے حق سے محروم نہ کیاجائے۔ جماعتِ اہلِ سنت کرناٹکا نے مسلمانانِ کرناٹکا سے خصوصی اپیل کی ہے کہ وہ صبر وتحمل سے کام لیں۔ اس ضمن میں جوبھی قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے اس کے لیے اتحاد کے ساتھ پیش رفت کی جائے گی تاکہ عدلیہ کے ذریعہ پھر سے 4% ریزرویشن کی بحالی ہوسکے۔ اس مشکل ترین اور آزمائش کے وقت جماعتِ اہلِ سنت کرناٹکا ہر ممکن کوشش کرے گی اور قانون کے دائرے میں رہ کر مناسب اقدام بھی کرے گی۔ ماہِ رمضان ہمارے درمیان ہے ۔ ریاستی مسلمانوں کو خوب دعا کا اہتمام کرنا ہے ہر قدم پر صبر کا مظاہرہ بھی کرنا ہے۔ اس طرح کے اسلام دشمنی کے فیصلوں سے فرقہ پرستوں کی یہ چال بھی ہوسکتی ہے کہ ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی وفسادات ہوںتاکہ اس کا فائدہ فرقہ پرستوں کو براہِ راست پہنچے۔ لہٰذا ہم مسلمانانِ کرناٹکا سےاپیل ہےکہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں ، کسی طرح کی کوئی جلدبازی نہ کریں، اکابر علماء کرام کی سرپرستی میں اقدام کریں اور فرقہ پرستوں کی ہر چال کو ناکام کریں۔