بنگلورو:۔کرناٹک کی بی جے پی حکومت نے مسلمانوں کو ای ڈبلیو ایس زمرے میں شامل کرنے کیلئے احکامات جاری کئے ہیں،مگر ان احکامات کو جاری کرنےکیلئے حکومت نے جن باتوں کا تذکرہ کیاہے وہ تین بڑے جھوٹ ہیں۔ پہلا جھوٹ۔مسلمانوں کو2Bزمرے میں شامل کرتے وقت کسی بھی طرح کی تحقیق یا سفارش نہیں ہوئی تھی۔ Whereas at the time 2B category was created and the members of Muslim Community were included/ classified as Backward Classes for the purpose of resetvation, there was neither any recommendation by anybody, nor was there any empirical data nor any material for granting them the said status. لیکن سال1994 میں اس کیٹگیری کو تشکیل دینے کیلئے جسٹس چنپا ریڈی کی قیادت والی تیسرے اوبی سی کمیشن کی سفارشات لی گئی تھیں،اس کیلئے وینکٹ سوامی کمیشن کی رپورٹ کو بھی بنیاد بنائی گئی تھی۔وینکٹ سوامی کمیشن نے دوسرے پسماندہ طبقات کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو بھی اوبی سی میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی تھی،اس بنیادپر یہ کہاجاسکتاہے کہ بی جے پی حکومت نے یہ جھوٹ کہاہے کہ 2B کیٹگیری کیلئے کسی بھی طرح کی سفارش نہیں ہوئی ہے،نہ ہی اس کیلئے مطالعہ کیاگیاتھا۔دوسرا جھوٹ:۔حکومت کا کہناہے کہ اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنےو الے تعلیمی اداروں نے اقلیتی طلباء کو داخلے لینے کیلئے رضامندی ظاہرکی ہے،اس وجہ سے2Bریزرویشن کو ہٹانے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ Whereas the members of the Minority community have adequate protection under the Constitution for establishment and admission of Minority Institution/ Students. حکومت نے یہ جو حوالہ دیاہے وہ آئین میں تو نہیں ہے ،البتہ بسواراج بومئی کی حماقت کہی جاسکتی ہے،کیونکہ اگر یہی بات ہے تو حکومت کو دوسرے اقلیتی طبقے جن میں کرسچن،بوئودھ،جین اور سکھ سماج کے طبقوں کو بھی اوبی سی یا2Bزمرے سے ہٹانے کی پہل کی جانی تھی،کیونکہ اقلیتی اداروں میںان مذاہب کے اداروں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔یہاں صرف مسلمانوں کو نشانہ بنایاگیاہے۔چنپا ریڈی کمیشن کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ دوسرے پسماندہ طبقات کے مقابلے میں مسلمانوں کو دیاگیا ریزرویشن سب سے کم ہے،اس وجہ سے انہیں مزید ریزرویشن کی ضرورت تھی۔تیسرا جھوٹ:۔ آندھرا پردیش کے مسلمانوں کو دئیے گئے ریزرویشن کے احکامات کو آندھراپردیش ہائی کورٹ نے مستردکیاتھا،جس کیلئے سپریم کورٹ میں اس معاملے کی شنوائی چل رہی ہے، اسی فیصلے کی نسبت سے ہم نے ای ڈبلیو ایس میں مسلمانوں کو شامل کیا ہے اور2Bزمرے سے ہٹایاہے۔Against the said order of the Hon’ble Andhra Pradesh High Court, Civil Appeal No. 7513/2005 is pending before the Hon’ble Supreme Court of India.جہاں بسواراج بومئی نے آندھراپردیش ہائی کورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مسلمانوں کےریزرویشن کو ہٹادیاہے،اب وہیں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ بسواراج بومئی نے اس سلسلے میں بھی جھوٹ کہاہے،کیونکہ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ زیر سماعت تو ہے ہی لیکن کورٹ نے آندھراپردیش ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگائی ہے اور اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ جب تک عدالت سے حتمی فیصلہ نہیں آتا اُس وقت تک مسلمانوں کو ریزرویشن بحال رکھاجا ئے ۔ اس طرح سے بسواراج بومئی کی حکومت نے تین پوائنٹس کے جھوٹ کا حوالہ دیکر مسلمانوں کو 2Bکیٹگیری سے ہٹایاہے،وہ جھوٹ اب لوگوں کے سامنے واضح ہوچکے ہیں ۔حالانکہ بسواراج بومئی نے وکلیگا اور لنگایت سماج کو خوش کرنے اور مسلمانوں کے ساتھ کھلی دشمنی کا ثبوت پیش کرنے کی کوشش کی، مگر اس کوشش میں وہ کافی حد تک ناکام ہوئے ہیں۔
