اکابرین کے روزے اور تلاوت قرآن کریم

مضامین

محمد ہاشم القاسمی (خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال) ۔9933598528


روزہ اور تلاوت قرآن یہ دو ایسے عظیم الشان اعمال ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارگاہ میں بندوں کے حق میں شفاعت کریں گے، چنانچہ اس کے متعلق حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرما تے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا” روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندہ مومن کے لئے شفاعت کریں گے، روزہ عرض کرے گا اے اللہ ! دن کے وقت میں نے اس کو کھانے اور شہوت سے روکے رکھا پس اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما اور قرآن کہے گا میں نے رات کو اسے جگائے رکھا پس اسکے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ پس دونوں کی شفاعت قبول کرلی جائے گی”۔
قرآن پاک کو رمضان المبارک کے مہینے سے خاص نسبت رہی ہے، کیونکہ پورا قرآن پاک سماء دنیا پر اللہ تعالیٰ نے اسی رمضان المبارک مہینے کی قدر کی رات میں نازل فرمایا، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان المبارک میں حضرت جبریل علیہ السلام سے قرآن کریم کا دور فرمایا کرتے تھے، عہد فاروقی میں تراویح باجماعت کا سلسلہ شروع ہوا تو قرآن کریم کا یہ تعلق اور گہرا اور پائیدار ہوگیا، اور الحمدللہ اب پوری دنیا میں صرف رمضان المبارک کے مہینے میں جس قدر قرآن پاک پڑھا جاتا ہے، اور تلاوت کی جاتی ہے شاید ہی سال بھر میں اتنا پڑھا جاتا ہو، اہل اللہ اور شب زندہ دار لوگوں کے لئے یہ مقدس مہینہ موسم بہار بن کر آتا ہے، ہر کوئی چاہتا ہے کہ رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت ذکر و اذکار، تلاوت قرآن اور عبادت میں گزار دیں، اور ان بابرکت مصروفیات میں دنیا کی کوئی مصروفیت حائل نہ ہو، اور جب یکسوئی اور توجہ کے ساتھ انسان اللہ کی عبادت میں لگ جاتا ہے تو حیرت انگیز طور پر عبادت کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے۔ تمام اہل اللہ کا تجربہ ہے کہ دل کی صفائی، ایمانی کیفیات میں زیادتی اور انسان میں استقامت کی صفات پیدا کرنے میں سب سے زیادہ اثر انگیز عمل قرآن کریم کی تلاوت ثابت ہوئی ہے، اس لئے اکابرین کی زندگی میں تلاوت میں استقامت بہت زیادہ نظر آتا ہے۔ سیر و تاریخ کی کتابوں میں اہل مکہ کے معمولات رمضان المبارک کے باب میں ان کے نماز تراویح ادا کرنے کا تزکرہ بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، ان کا معمول یہ تھا کہ وہ ہر چار رکعت ادا کرنے کے بعد خانہ کعبہ کا طواف کرتے اور ہر طواف کے سات چکروں کے دوران تسبیحات پڑھتے اور طواف مکمل کرنے کے بعد مقامِ ابراہیم پر دوگانہ نفل ادا کرتے۔ اس طرح بیس تراویح کی رکعتوں کے ساتھ اضافی طور پر پانچ مرتبہ طواف و تسبیحات کے علاوہ دس رکعت نفل زائد ادا کرتے تھے. اور اہل مدینہ کے معمولات رمضان کا تذکرہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے بطور خاص کیا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق وہ ہر چار رکعت کے بعد کمال ذوق و شوق اور اطمینان و یکسوئی سے تسبیح و استغفار پڑھتے اور ہر ترویحہ کے اختتام پر چار رکعت نفل کا اضافہ کر لیتے۔ اس طرح وہ تراویح کی بیس رکعتوں کے علاوہ سولہ رکعت نفل اضافی طور پر ادا کر کے کل چھتیس رکعت ادا کرتے تھے، کتبِ تاریخ میں ان کے اس عمل کو "ستہ عشریہ” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اہل مدینہ کے ان معمولات پر ایک طویل عرصہ تک آئمہ امت اور ان کے متبعین عمل پیرا رہے۔ وہ کتنا پر کیف اور بصیرت افروز منظر ہو گا، جب لوگ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ اطہر کے سامنے حضوری قلب اور والہانہ انہماک سے دیر رات تک عبادت اور ذکر و اذکار میں مشغول رہتے ہوں گے. تاریخ شاہد ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ رمضان المبارک میں ایک دن رات میں دو ختم قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے۔ (المتطرف)، یہی معمول حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی نقل کیا گیا ہے۔(الفتاویٰ الحدیثیہ)، حضرت امام مالک رحمۃاللہ علیہ اور حضرت سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ دونوں حضرات بھی رمضان میں اپنی دیگر دینی مصروفیات کو ترک کر کے سارا وقت تلاوت قرآن میں گزارتے تھے۔(المتطرف) امام ابوبکر بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ۳۰ سال سے ہر روز ایک قران کریم پڑھنے کا معمول بنا رکھا ہے۔(نودی علی مسلم)، تلاش وتحقیق کرنے پر سینکڑوں ایسے واقعات اکابر و اسلاف کے ملتے ہیں جن کا رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا نزول ہوتے ہی عبادت و ریاضت میں کثرت ہوجاتی تھی ، اور معمولات زندگی کو ترک کر کے اس خاص مہینے کا پورا پورا لطف اٹھاتے تھے، اسی کے تحت ذیل میں چند اکابرین کے رمضان المبارک میں خاص عمل کیا تھا، جو ہمارے لئے مشعل راہ ثابت ہوسکتے ہیں ۔
واضح رہے کہ صلحاء امت اور بزرگان دین کے یہ سب واقعات کوئی خواب نہیں بلکہ واقعہ ہیں اور محض کرامت نہیں بلکہ حقیقت ہیں، اور ہاں اکابر کے معمولات اس وجہ سے نہیں لکھے جاتے کہ سرسری نگاہ سے ان کو پڑھ لیا جائے، یا کوئی تفریحی فقرہ کہ کر ان کو ٹال دیا جائے، بلکہ اس لئے لکھے جاتے ہیں تا کہ اپنی ہمت کے موافق ان کا اتباع کیا جائے، اور حتی الوسع پورا کرنے کی کوشش کیا جائے چونکہ ان حضرات کے افعال و اعمال حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف احوال کا پرتو ہیں۔
سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃاللہ علیہ خاص کر رمضان المبارک کی راتوں میں شب بیداری کا زبردست اہتمام فرماتے تھے، ان کا معمول تھا کہ مغرب کے بعد دو حافظ اوابین میں قرآن پاک سناتے، عشاء کے بعد تراویح میں نصف شب تک تین حافظ قرآن سناتے، اس کے بعد نوافل تہجد میں دو حافظ قرآن پاک سناتے تھے، اسی طرح پوری رات قرآن کی سماعت کے دوران گزرجاتی تھی۔ حجتہ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃاللہ علیہ نے رمضان المبارک ۱۲۷۷ھ میں سفر حجاز کے دوران روزانہ ایک ایک پارہ یاد کر کے حفظ قرآن مکمل فرمایا تھا، پھر بکثرت قرآن پاک کا ورد رکھتے تھے اور تراویح میں بڑی مقدار میں قرآن پاک پڑھا کرتے تھے۔
قطب عالم ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃاللہ علیہ کا رمضان المبارک میں مجاہدہ اس قدر بڑھ جاتا تھا کہ دیکھنے والوں کو رحم آجاتا، ۷۰ سال کی عمر میں بھی عبادت کا یہ عالم تھا کہ دن بھر کے روزہ کے بعد اوابین کی چھ رکعتوں میں کم از کم دو پارے تلاوت فرماتے، تراویح بھی نہایت اہتمام اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا فرماتے، بچے ہوئے وقت میں زبانی تلاوت جاری رہتی، تہجد میں بھی دو ڈھائی گھنٹے صرف ہوتے، نماز فجر کے بعد اشراق تک وظائف و درود شریف میں مشغول رہتے، دن کے اکثر اوقات بھی تلاوت و اذکار اور مراقبہ میں گزارتے، اس میں بھی یومیہ کم از کم ۱۵ پارے قرآن کریم پڑھنے کا معمول تھا۔
حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوری رحمۃاللہ علیہ، حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوری رحمۃاللہ رمضان المبارک شروع ہوتے ہی اپنی تمام مصروفیات (مجالس ومکاتیب وغیرہ)ختم کر کے پورے طور پر خلوت نشیں ہو کر مصروف عبادت و ریاضت ہو جاتے، رات دن کے ٢٤ گھنٹے میں صرف ایک گھنٹہ آرام فرماتے، تلاوت قرآن کریم سے بے انتہا شغف تھا، آپ حافظ قرآن بھی تھے، اس لئے شب کا قریب قریب سارا وقت تلاوت میں صرف ہوتا تھا، جب خود تراویح میں قرآن کریم سناتے تو دو ڈھائی بجے فراغت ہوتی اور اخیر عمر جب خود سنانا موقوف ہو گیا تو تراویح میں پورے مہینہ میں تین چار ختم سن لیا کرتے تھے، عصر ومغرب کے درمیان کا وقت عام دربار اور سب کی ملاقات کیلئے مخصوص ہوتا، اس کے علاوہ بغیر کسی خاص ضرورت کے آپ کسی سے نہ ملتے، اور حجرہ شریف کا دروازہ بند فرما کر خلوت کے مزے لوٹتے اور اپنے مولائے کریم سے راز و نیاز میں مشغول رہتے، اس لئے عشاق و زائرین نماز میں آتے جاتے آپ کی زیارت پر اکتفا کرکے طبعی سکون حاصل کرتے تھے، ماہ رمضان میں تو اس قدر مجاہدہ بڑھ جاتا تھا کہ دیکھنے والوں کو ترس آتا تھا، افطار و سحر دونوں وقتوں کا کھانا بمشکل دو پیالی چائے اور آدھی یا ایک چپاتی ہوتا تھا۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃاللہ علیہ کی رمضان المبارک میں خاص حالت ہوتی اور دن رات عبادت خدا وندی کے سوا کام ہی نہ ہوتا، آپ اگر چہ خود حافظ نہ تھے لیکن نہایت اشتیاق کے ساتھ دیگر حفاظ کرام سے تراویح اور تہجد کے نوافل میں ساری ساری رات کلام پاک سنتے تھے، بعض تراویح میں آپ کا چھ چھ اور دس دس پارے سننے کا معمول بھی نقل کیا گیا ہے، ساری ساری رات آپ متعدد حفاظ سے کلام پاک سننے میں گزار دیتے، تہجد کی جماعت میں دیگر اہل خانہ اور متعلقین بھی شرکت کرتے، مسلسل کھڑے ہونے کی بنا پر آپ کے پائوں پر ورم آجاتا تو دل میں خوش ہوتے کہ اس سنت کی ادائیگی کی بھی سعادت حاصل ہوگئی، ایک مرتبہ کم کھانے اور طول قیام سے رمضان المبارک میں نہایت کمزور ہوگئے، پائوں کا ورم بھی بہت زیادہ ہوگیا، مگر قلبی شوق تھا کہ چین نہ لینے دیتا تھا، کثیر مقدار میں قرآن مجید سننے کے لئے مستعد تھے، آخر لاچار ہوکر گھر کی عورتوں نے حافظ کفایت اللہ صاحب (جن سے آپ کثر قرآن سنا کرتے تھے)کو کہلا بھیجا کہ آج کسی بہانے سے تھوڑا سا ہی پڑھا کر بس کر دیجئے، مولوی صاحب نے تھوڑا سا پڑھا کر اپنی طبیعت ناساز ہونے کا عذر پیش کیا، چونکہ حضرت کو دوسروں کی راحت کا بہت خیال رہتا تھا، خوشی سے منظور کرلیا، اندر حافظ صاحب لیٹ گئے اور باہر خود حضرت آرام فرمانے لگے، مگر تھوڑی دیر کے بعد وہ دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص آہستہ آہستہ پاؤں دبا رہا ہے، انہوں نے جب دیکھا کہ خود حضرت شیخ الہند پاؤں دبا رہے ہیں تو ان کی حیرت اور ندامت کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا، حافظ صاحب اٹھ کھڑے ہوئے تو مولانا نے فرمانے لگے کہ نہیں بھائی کیا حرج ہے، تمہاری طبیعت اچھی نہیں، ذرا راحت آجائے گی (سوانح شیخ الہند) محدث کبیر حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری رحمۃاللہ علیہ باوجود کثیر علمی مصروفیات اور تصنیفی مشغولیات کے رمضان المبارک کا نہایت اہتمام فرماتے،جب تک طاقت رہی کبھی تراویح میں قرآن پاک سنانا نہیں چھوڑا، عموماََ تراویح میں قرآن پاک سوا پارہ پڑھنے کا معمول رہا، جو انتہاہی ترتیل کے ساتھ پڑھا جاتا، رات میں تہجد کی نوافل میں انہماک بھی رہتی، دن کے اوقات اکثر تلاوت اور علمی انہماک میں گزارتے تھے اور جوں جوں عمر بڑھتی گئی اس اہتمام میں اضافہ ہوتا گیا۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃاللہ علیہ رمضان المبارک میں کیا لطف حاصل کیا کرتے تھے، رمضان میں اکثر خود قرآن شریف سناتے اور بلا عذر کبھی قرآن سنانا نہیں چھوڑ تے، نصف رمضان تک سوا پارہ، پھر ایک پارہ روزانہ پڑھتے، ستائیسویں شب کو اکثر ختم کرتے، یادداشت اتنا اچھا تھا کہ کہیں متشابہ نہیں لگتا، قرآن شریف سے طبعاََ حضرت والا کو ایسی مناسبت تھی کہ گویا از اول تا آخر نظر کے سامنے ہے، کوئی آیت پوچھی جائے کہ کہاں آئی ہے تو بغیر کسی دیر جواب حاضر ہوتا، آپ کی تراویح کی جماعت میں اس قدر مجمع ہوتا کہ کوئی مغرب کے بعد پھرتی سے کھانا کھا کر پہونچ گیا تو جگہ ملی ورنہ محروم ہوتا، اعتکاف میں بھی تصنیف وتالیف کا سلسلہ جاری رہتا، آپ کی مشہور کتاب "قصد السبیل” اعتکاف ہی میں صرف آٹھ دن میں لکھی گئی ہے، اکثر تہجد کی نماز میں ایک پارہ روزانہ پڑھنے کا معمول رہا، بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ، جب حکیم الامت تہجد کی نماز پڑھتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ ایک نور مثل صبح صادق اوپر کو اٹھتا اور سفید رنگ کے شعلے حضرت کے جسم سے بار بار اوپر اڑتے(معمولات اشرفی) شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمۃاللہ علیہ کو تلاوت سے اس قدر شغف تھا کہ رمضان کے علاوہ بھی ایک ایک دن میں دسیوں پارے پڑھنے کا معمول تھا، ایک تبلیغی اجتماع میں (جو صرف ایک رات اور ایک دن کا تھا)۳ قرآن کریم ختم کئے، علاوہ ازیں رمضان المبارک میں میں یومیہ ۳۰ پارے پڑھنے کا عرصہ تک (تقریباََ بیالیس سال تک)معمول رہا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃاللہ علیہ کے یہاں رمضان المبارک کا مہینہ باغ وبہار کا زمانہ ہوتا تھا، آپ اپنے تمام دینی و سیاسی اسفار موقوف فرما کر ایک جگہ پورے ماہ قیام فرماتے اور تشنگان معرفت کو اپنے فیوض عالیہ سے پوری طرح سے مستفیض ہونے کا موقع فراہم کرتے تھے، ملک کی تقسیم سے قبل تک سلہٹ(بنگلہ دیش)میں قیام رمضان کا معمول رہا اور تقسیم کے بعد ناقدہ اور بانسکنڈی(آسام) میں قیام فرماتے رہے، دن میں زیادہ تر وقت تلاوت ،اصلاح اور ارشاد میں گزارتے، عصر کے بعد قرآن کریم کا دورفرماتے، اس کے بعد افطار تک استغراق کی حالت میں رہتے، مغرب کے بعد ۲رکعت نفل نہایت طویل ادا فرماتے، تراویح کی امامت عموماََ خود ہی نہایت اطمینان کے ساتھ فرماتے اور ہر تراویح میں کافی دیر توقف فرما کر ذکر و اذکار میں مشغول رہتے، تراویح کے بعد مختصر واعظ ہوتا جس میں بہت بڑا مجمع شریک ہوتا، آپ کے یہاں
تہجد کی باجماعت ادائیگی کا معمول تھا، ایک قرآن پاک آپ خود پڑھتے، دوسرا مولانا جلیل صاحب پڑھا کرتے تھے، ہر سورۃ کے شروع میں جہرا بسم اللہ پڑھنے کا بھی معمول تھا۔ اخیر عمر تک آپ کے مجاہدات میں کوئی فرق نہیں آیا، ٹانڈہ کے قیام کے زمانہ میں گرمی سخت تھی، پھر ضعف اور مرض کی وجہ سے خشکی کی بنا پر آپ کے لئے پڑھنا دشوار ہوتا تھا، لیکن اس حال میں بھی آپ نے پورا کلام پاک اسی شان کے ساتھ سنایا جو آپ کا امتیاز تھا، رمضان میں متوسلین کے جھرمٹ میں رہنے کے باوجود آپ کا انقطاع عن الخلق قابل رشک تھا اور وہ کیفیت رہتی تھی جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا، آخری رمضان میں آپ بانسکنڈی(آسا م)میں گزارا، یہاں تراویح میں آپ کے منجھلے صاحب زادے حضرت مولانا سید ارشد مدنی مدظلہ العالی(صدر جمعیۃ العلماء ہند)نے پہلی مرتبہ قرآن پاک سنانے کی سعادت حاصل کی۔ خادم القرآن حضرت مولانا قاری صدیق احمد باندوی رحمۃاللہ علیہ کو بھی تلاوت قرآن سے بے حد شغف تھا، اسفار میں مسلسل تلاوت جاری رہتی اور دسیوں پارے تلاوت فرما لیتے، رمضان المبارک کے مہینے میں یہ اہتمام مزید بڑھ جاتا، آپ کے بعض سوانح نگاروں نے واقعہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ایک اہل بدعت کے علاقہ میں تراویح سنانے تشریف لے کئے، تو ایک ہی رات تراویح میں ۲۱ پاروں کی تلاوت فرمادی۔(تذکرہ الصدیق) بانی جماعت تبلیغ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمۃاللہ علیہ رمضان المبارک میں عبادت وریاضت اور تلاوت میں بہت اضافہ فرمادیتے، مغرب کے بعد اوابین اتنی طویل ادا فرماتے کہ اکثر عشاء کی اذان ہو جاتی، تراویح خود ہی پڑھاتے، اس کے بعد کچھ دیر آرام فرما کر تہجد کے لئے اٹھ جاتے اور سحری ختم ہونے تک درود وظائف میں مشغول رہتے، پھر قدرے آرام فرما کر تبلیغی جماعتوں کی ترتیب اور رخصتی وغیرہ میں مشغول رہتے، رمضان بھر عصر کے بعد سے مغرب تک ذکر جہری کا معمول رہتا، جبکہ غیر رمضان میں اخیر شب میں ذکر فرما تے تھے ۔محدث کبیر حضرت علامہ مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃاللہ علیہ خود فرماتے ہیں کہ ایک قاری صاحب جو میرے دوست تھے، میری ملاقات کیلئے تشریف لائے، رمضان شریف کے آخری ایام تھے، وہ بڑا نفیس قرآن پڑھتے تھے، میں نے کہا بجائے وقت گزارنے کے چلو نفل پڑھتے ہیں، چنانچہ ان قاری صاحب نے نفل کی نیت باندھ لی اور میں نے اقتدا کی، بس تو پھر کیا پوچھنا وہ تو پڑھتے چلے گئے اور میں لطف اٹھاتا چلا گیا، وہ اکسپریس گاڑی کی طر سورتوں کے اسٹیشن طے کرتے چلے گئے اور سحری سے پہلے پورے قرآن کریم دو رکعتوں میں ختم کر ڈالا۔(بینات،بنوری ٹاؤن) رہبر ملت حضرت مولانا سید نظام الدین رحمۃاللہ علیہ (امیر شریعت سادس امارت شرعیہ بہار اڈیشہ جھارکھنڈ و جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ) بھی رمضان المبارک مہینے کا خاص اہتمام فرماتے، آپ کو تلاوت قرآن سے بے حد شغف تھا، غیر رمضان میں ایک ایک پارہ روزانہ پڑھنے کا معمول رہتا، رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی اس میں اضافہ ہوجاتا اور دو، تین پارہ یومیہ پڑھنے کا معمول ہوتا، عمر کے ۹۰سال میں ضعف و نقاہت کے باوجود پابندی سے روزہ کا اہتمام فرماتے، نماز تراویح بھی متعلقین کے سہارے مسجد میں جا کر نہایت ہی خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرتے، پہلے تہجد کا اہتمام فرماتے لیکن زندگی کے آخری پڑاؤ میں کمزوری کی وجہ سے تہجد ادا نہیں کرتے تھے، کبھی کبھی صحت میں انشراح ہوتی تو تہجد بھی مزے لے کر پڑھتے، سحری میں چائے اور بسکٹ کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔
ان واقعات سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کا ایک پارہ ترتیل کے ساتھ ۲۰ منٹ میں اور قدرے تیزی کے ساتھ اوسطاََ ۱۵ منٹ میں پڑھا جاسکتا ہے، تو اگر ایک گھنٹہ میں فرض کیجئے کہ چار پارے بھی پڑھے گئے تو ساڑھے سات گھنٹہ میں قرآن کریم مکمل ختم کیا جاسکتا ہے اور زیادہ تیز پڑھنے والا ہو تو مسلسل پڑھنے پر چھ گھنٹے میں ختم کر سکتا ہے، عقلاََ یہ کسی طرح مستبعد نہیں ہے، اور رہ گئی یہ بات کہ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تین دن سے کم میں قرآن کریم ختم کرنے سے منع کیا ہے، تو جمہور علماء کے نزدیک یہ ممانعت مطلق نہیں ہے بلکہ اس صورت میں ہے جب کہ طبیعت میں نشاط نہ ہو یا قرآن کے پڑھنے میں حروف و مخارج کی رعایت نہ رکھی جائے، اگر یہ ممانعت مطلق ہوتی تو جلیل القدر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے تین دن سے کم میں ختم قرآن منقول نہ ہوتا جیسا کہ سیدنا حضرت عثمان غنی اور حضرت تمیم داری سے منقول ہے(دیکھئے امداد الفتاویٰ)
امت مسلمہ کے لئے رمضان المبارک کتنا بڑا انعام ہے کہ نماز تراویح اور نماز تہجد کے درمیان سونے کا وقفہ بھی شامل عبادت تصور کر لیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پوری امت مسلمہ کو اس کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے آمین.