شیموگہ:۔کرناٹک میں اسمبلی انتخابات قریب ہوتے جارہے ہیں،اُسی رفتار سے سیاسی حلقوں میں تبدیلیاں بھی بڑی تیزی کے ساتھ آرہی ہیں۔اس دفعہ کرناٹک میں بی جے پی کا پکچر بہت ہی خراب ہوتا جارہا ہے،یہاں تک کہ بی جے پی کے نامی گرامی سیاسی لیڈران بی جے پی کو چھوڑکر کانگریس میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔بی جے پی میں کل تک جو قدآور اور طاقتورلیڈروں میں شمار ہواکرتے تھے وہ اب بی جے پی کو چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہورہے ہیں اور کانگریس اُنہیں بغیر کسی شک وشبہ کے عزت واحترام کے ساتھ ٹکٹ دے رہی ہے۔جگدیش شٹر،لکشمن سائودی،گوپال کرشنا،ننجنڈ سوامی،منوہر آئیناپور،موہن لمبیکائی،ایچ ڈی تمیاجیسے لیڈران کانگریس میں شامل ہونےوالے صفِ اول کے لیڈران ہیں،مانوکہ کانگریس پارٹی میں بی جے پی سے آنے والے لیڈروںکیلئے 4 فیصد ریزرویشن دے دیاگیا ہے ،بھلے ہی کانگریس پارٹی میں کپڑے پھاڑکر کام کرنے والے مسلم لیڈروں کو ٹکٹ نہیں دی جارہی ہے مگر بی جے پی سے آرہے لیڈروں کا پُرتپاک استقبال کیاجارہاہے اور اُنہیں ان کے من پسند حلقوں سے الیکشن لڑنے کی سہولت مہیاکی جارہی ہے۔ویسے بھی کانگریس میں پہلے ہی40 فیصد آر ایس ایس ذہنیت رکھنےو الے لیڈران ہیں،اب چالیس فیصد لیڈران راست طورپربی جے پی سے کانگریس جارہے ہیں،جن کی ذہنیت آر ایس ایس کی ہی ہے۔اب جملہ ملاکر کانگریس پارٹی کانگ آر ایس ایس بنتی جارہی ہے۔جس تیزی کے ساتھ کانگریس پارٹی میں بی جے پی لیڈروں کی شرکت ہورہی ہے اُ س سے ا س بات کا بھی انکارنہیں کیاجاسکتاکہ آنےوالے دنوں میں بی جے پی کے لیڈران ہی کانگریس پارٹی میں رہ کر ریاست میں حکومت کی تشکیل کرینگے اور اس حکومت کو بی جے پی کا پارٹ2 کہاجاسکتاہے۔کانگریس پارٹی میں یہ نہیں سوچا جارہاہے کہ آنےوالے دنوں میں جو لوگ بی جے پی کو چھوڑکر کانگریس آرہے ہیں وہ دوبارہ بی جے پی کو بھی جا سکتے ہیں۔موجودہ حالات کے مدِ نظر کانگریس پارٹی بی جے پی کی ان کمزوریوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنے لیڈروں کو مضبوط کرنے کے بجائے پُرانے گھروں کو ہی نیا رنگ دیکر اپنی شان بڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔یہ بھی جمہوریت کیلئے نقصاندہ ہوگا۔
