کرناٹک مسلم ریزرویشن کیس:سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی: سپریم کورٹ نے کرناٹک میں مسلمانوں کے لیے چار فیصد ریزرویشن کو ہٹانے کے حکومت کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت 9 مئی تک ملتوی کر دی ہے۔ ساتھ ہی کرناٹک حکومت نے بھی سپریم کورٹ کو یقین دلایا ہے کہ حکومت کے نئے حکم کے مطابق 9 مئی تک کوئی نئی تقرری یا داخلہ نہیں کیا جائے گا۔آپ کو بتاتے چلیں کہ کرناٹک حکومت نے حال ہی میں کرناٹک میں مسلمانوں کو دیے گئے چار فیصد ریزرویشن کو ختم کرنے اور اسے لنگایت اور ووکلیگاوں میں دو دو فیصد اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئیں۔ جن پر سماعت 13 اپریل کو ہونی تھی لیکن ریاستی حکومت نے جواب داخل کرنے کے لیے عدالت سے وقت مانگا۔جس کے بعد جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس بی وی ناگرتنا کی بنچ نے کیس کی سماعت 25 اپریل تک ملتوی کر دی۔ اس دوران حکومت نے یقین دلایا کہ ریزرویشن کے نئے نظام کے تحت کوئی نئی تقرری یا داخلہ نہیں ہوگا۔ اب ایک بار پھر اس معاملے پر سماعت 9 مئی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔سپریم کورٹ نے 13 اپریل کو سماعت کے دوران کہا تھا کہ مسلمانوں کے لیے چار فیصد ریزرویشن کو ختم کرنے کا کرناٹک حکومت کا فیصلہ بنیادی طور پر ناقص معلوم ہوتا ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ 10 مئی کو ہونی ہے اور حکومت نے انتخابات کی تاریخوں کے اعلان سے چند دن قبل ہی مسلمانوں کے لیے ریزرویشن ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔