لاہور:۔پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیف عمران خان کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کی طرف سے جمعہ کے روز راحت بھری خبر ملی۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی گرفتاری سے قبل ضمانت کو منظوری دے دی ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق عمران کو 2 جون تک گرفتاری سے راحت دی گئی ہے اور ساتھ ہی 70 سالہ پی ٹی آئی چیف کو جانچ کے دوران تعاون دینے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ عمران خان کے خلاف درج معاملوں میں سے ایک لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ اس تعلق سے صحافیوں کو عدالت میں خطاب کرتے ہوئے عمران نے کہا کہ انھوں نے 35 سالوں میں ایسی کارروائی کبھی نہیں دیکھی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ایسا لگ رہا ہے جیسے سبھی شہری آزادیاں اور بنیادی حقوق ختم ہو گئے ہیں۔ اب صرف عدالتیں حقوق انسانی کی حفاظت کر رہی ہیں۔‘‘ اس دوران کرکٹ سے سیاسی لیڈر بنے عمران خان نے عزم ظاہر کیا کہ وہ آخری گیند تک لڑیں گے۔واضح رہے کہ نیم فوجی دستہ ’پاکستان رینجرس‘ نے اسلام آباد ہائی کورٹ احاطہ سے عمران خان کو 9 مئی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد پورے پاکستان میں بدامنی پھیل گئی تھی۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مظاہرین نے راولپنڈی میں واقع فوج کے ہیڈکوارٹر میں حملہ بول دیا اور لاہور میں ایک کور کمانڈر کے گھر میں آگ لگا دی۔ اس تشدد میں پولیس نے مہلوکین کی تعداد 10 بتائی تھی، جبکہ عمران خان کی پارٹی نے 40 لوگوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیکورٹی افسران کے ذریعہ کی گئی گولی باری میں ان کی پارٹی کے حامیوں کی بھی موت ہوئی ہے۔
