پیڑکاٹنا حماقت،پیڑلگانا سُنت

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
ہر سال5جون کو عالمی یوم ماحولیات کا انعقادکیاجاتاہے اور اس دن مختلف تنظیموں واداروں کے ذریعے سے ماحول کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے پروگرام منعقدکئے جاتے ہیں،جس میں شجرکاری،پیڑپودوں کو اُگانا،بچوں میں بیداری لانے کیلئے مختلف پروگراموں کاانعقادکیاجاتاہے۔موجودہ حالات کاجائزہ لیاجائے تو اس وقت دُنیا بھرمیں ماحولیات کے تحفظ کے تعلق سے جو اقدامات اٹھائے جارہے ہیں وہ محض یوم ماحولیات کے دن ہی دکھائی دیتے ہیں،بقیہ دنوں میں ماحولیات کے تحفظ کیلئے کوئی کام نہیں ہورہاہے۔ایسے میں ہر شہری کی یہ ذمہ داری ہے کے ماحولیات کے تحفظ کیلئے عملی طورپر کام کیاجائے۔جہاں ترقی وتعمیراتی کاموں کے نام پرپیڑپودوں کوختم کیاجارہاہے وہیں لوگ تازہ ہوااور ماحول میں ٹھنڈی لانے کیلئے صرف باتیں ہی کررہے ہیں،اس تعلق سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایاجارہاہے۔ہر طرف اونچی عمارتیں ہیں،کشادہ سڑکیں ہیں،مگر دوردورتک پیڑپودے غائب ہوچکے ہیں،گھنے جنگلات اب صرف تصورات میں دکھائی دے رہے ہیں،درجۂ حرارت ہر دن بڑھ رہا ہے،گھروں کےسامنے ہرکوئی اپنی سواری کو سائے میں کھڑاکرنا چاہ رہاہے،لیکن سائے کیلئے کوئی بھی پیڑپودےاُگانا اپنی ذمہ داری نہیں سمجھ رہاہے۔اگر ایسے حالات رہے تووہ دن دورنہیں جب انسان آکسیجن خریدکر استعمال کریگا،بالکل اُس طرح سے جیسے کوروناکے دورمیں آکسیجن خریدرہے تھے۔کچھ دنوں میں مانسون کاآغازہونےوالاہے،اس مانسون کے دوران لوگ اگر اپنے گھروں کے سامنے،میدانوں میں،سڑکوں کے کنارے اگرپیڑپودے اُگاتے ہیں تو اس سے بہت بڑے پیمانے پر تبدیلی آسکتی ہے۔خصوصاً مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ماحول کے تحفظ کیلئے اہم اقدامات اٹھائیں،کیونکہ مسلمانوں کو ان کے دین نے پیڑپودے اُگانے کی تلقین دی ہے،یہ سُنت بھی ہے اور شریعت بھی۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ مسلمان ایسے سُنت کو نظراندازکرچکے ہیں،البتہ ان کے نزدیک سُنت صرف خوشبولگانا،اچھے کپڑے پہننا،اچھی دعوت کھانا،دعوت قبول کرنا ہی سُنت ہے۔جبکہ ماحول کے تحفظ کیلئے اللہ کے رسولﷺنے مسلمانوں کو ہدایت دی اور کہاہے کہ اگر قیامت کاقائم ہوجائے اور تم میں سے کسی شخص کے ہاتھ میں کھجورکا پوداہو اور اسے قیامت قائم ہونے سے پہلےپودا اُگانے کی مہلت مل جائے تو وہ اس پودے کو اُگادے،اسی طرح سے ایک اور حدیث ہے جس میں کہاگیاہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی درخت کا پودالگاتاہےاور اُس درخت سے کوئی انسان یا جانورکھاتاہے تودرخت لگانے کیلئے وہ صدقۂ جاریہ ہے،پھر ایک حدیث میں ہے کہ درخت لگانا ایسی نیکی ہے جو بندے کی موت کے بعد بھی جاری رہتی ہے،جبکہ وہ اپنی قبرمیں ہوتاہے۔ذرا سوچئے کہ اگر تمام درخت ختم ہوجائینگے اور ان درختوں کے ختم ہونے سے تمام جانور مرجائینگے،پینے کاپانی زہریلاہوجائیگا،سانس لینا مشکل ہوگا،اُس وقت نہ آپ کے ڈوپلکس عمارتیں کام آئینگی،نہ ہی بینک بیالنس کام آئیگا اورنہ پیسے کھا کر انسان زندہ رہے پائیگا۔اللہ کے نبی کریمﷺنے 1400 سال پہلے ہی مسلمانوں کو شجرکاری کی ہدایت دی تھی وہی بات آج سائنس کہہ رہاہے تو اندازہ لگائیں کہ مسلمان ان معاملات میں کتنے پیچھے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے گھروں کے سامنے کم ازکم ایک پیڑلگائیں ،جس سے نہ صرف ماحول کاتحفظ ہوگا بلکہ نبیﷺکی سُنت پر بھی عمل ہوگا۔