اُترکنڑا پارلیمانی حلقہ : کانگریس کی فہرست  میں ہری پرساد، دیودت کامت اور انجلی نمبالکر کےنام شامل

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
کاروار:۔رواں سال 2023کے مئی میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے لئے کانگریس پارٹی نئے چہروں کی تلاش میں ہے۔ فی الحال اترکینرا پارلیمانی حلقہ سے تین امیدواروں کے نام فہرست میں درج ہیں۔ ودھان پریشد میں حزب مخالف لیڈربی کے ہری پرساد، سپریم کورٹ کے مشہور وکیل دیودت کامت اور خانہ پور کی سابق رکن اسمبلی انجلی نمبالکر کے نام فہرست میں  شامل ہیں۔ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق حالیہ اسمبلی انتخابات میں فتح کے جشن میں چور کانگریس اگلے لوک سبھا انتخابات  میں زیادہ حلقوں سے کامیابی حاصل کرنےمیں مصروف ہے  اور اس  کے لئے ابھی سے تیاریوں  میں جٹ گئی ہے۔ انتخابات میں جیت حاصل کرنے کےلئے امیدواروں کا انتخاب بہت ہی اہم ہوتاہے اور اسی کو پہلی ترجیح دی جاتی ہے۔ اسی لئے ممکنہ امیدواروں کی فہرست  تیار کی جارہی ہے۔ جس میں ان تین ناموں کو خصوصی اہمیت دی  گئی ہے۔کاروار سے تعلق رکھنے والے دیودت کامت سپریم کورٹ کے سنئیر وکیل ہیں، اس سے پہلے وہ سدرامیا کی حکومت کے دوران سپریم کورٹ میں ریاستی حکومت کے قانونی صلاح کار تھے اور کووڈ کے زمانےمیں  اُترکنڑا حلقہ میں موجود رہتے ہوئے متاثرین کی خدمت انجام دی تھی۔ خاص بات یہ ہے کہ جب بی جے پی کی ریاستی حکومت نے حجاب پر پابندی عائد کرتےہوئے سرکلر جاری کیاتو حجاب کی حمایت کو لے کر ہائی کورٹ  میں داخل ہونےو الی عرضی کی پیروی کی تھی ۔ دہلی میں ہائی کمان کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔ دیودت کامت اترکینرا پارلیمانی حلقہ سے کانگریس کے امیدوار ہوتےہیں تو کوئی تعجب نہیں ہوناچاہئے۔بی کے ہری پرساد کانگریس کےدگج لیڈر مانےجاتےہیں۔ ریاستی کابینہ میں بھی انہیں جگہ ملنے کا قیاس لگایا جارہاتھا لیکن وہ ممکن نہیں ہوا۔ پارٹی میں انہیں اگلے لوک سبھا انتخابات میں امیدوار بنانے کے متعلق غورکیاجارہاہے۔ دوسری طرف بی کے ہری پرساد کو دکشن کنڑا ضلع سے بھی امیدوار بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ سابق مرکزی وزیر جناردھن پجاری سیاست سے الگ ہونےکے بعد بھلوا(نامدھاری) طبقہ کی طرف سے ابھی تک کوئی مضبوط قیادت نہیں ابھری ہے۔ گذشتہ لوک سبھا انتخابات کے دوران کانگریس نے متھون رائی کو اپنا امیدوار بنایا لیکن وہ نلن کمار کٹیل سے ہارگئے۔ اسی وجہ سے دکشن کنڑا کےلئے ہری پرساد کو امیدوار بنایاجائے ، اترکینرا کےلئے کسی اور کوبھی امیدوار بنایاجائے۔ دیکھنا ہے کہ ہری پرساد دکشن کنڑا پارلیمانی حلقہ سےیا اترکنڑا حلقہ سے امیدوار بنتے ہیں۔اترکینرا پارلیمانی حلقہ میں اترکنڑا ضلع کے 6اور بیلگام ضلع کے کتور اور کھانا پور ودھان سبھا کے حلقہ بھی شامل ہیں۔ کھاناپور ودھان سبھا حلقہ کی سابق رکن اسمبلی اور آئی پی ایس افسر ہیمنت نمبالکر کی اہلیہ ڈاکٹر انجلی نمبالکر کا نام بھی کانگریس  کے امیدواروں کی فہرست میں ہے۔ حالیہ ودھان سبھا انتخابات میں انجلی نمبالکر ہار گئی ہیں اس کے باوجود انہیں لوک سبھا کےلئے میدان میں اتارنےکی کوشش جاری ہیں۔ممکنہ امیدواروں میں تین اہم ہیں:کانگریس اترکینرا پارلیمانی حلقہ سے لوک سبھا انتخابات میں امیدواروں کو میدان میں اتارنے کی تیار ی میں ہے۔ کانگریس کے ممکنہ امیدواروں میں بہت ہی اہم تین چہرے سامنے آرہے ہیں۔ انجلی نمبالکر خاص کر مراٹھا اور لنگائیت کے ووٹوں پر نظر رکھتے ہوئے میدان میں اترنے کے لئے تیار ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔ ہری پرساد نامدھاری اور مسلم ووٹوں پر نگاہ رکھے ہیں اور دیودت کامت برہمن اور دیگر طبقات کے ووٹوں کی حمایت حاصل کرسکنے کا حساب لگایاگیا ہے۔