کرناٹک میں ’لو جہاد قانون‘ واپس لینے کا فیصلہ،  اسکولی نصاب سے ہیڈگیوار اورساورکر آؤٹ، نہرو اور امبیڈکر کی انٹری

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ کرناٹک کی کانگریس حکومت نے گزشتہ بی جے پی حکومت کے ذریعہ اٹھائے گئے کئی متنازعہ اقدام کو اب ٹھیک کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو گئی ہے۔ سدارمیا کابینہ نے آج فیصلہ لیا کہ کرناٹک میں لو جہاد قانون یعنی جبراً مذہب تبدیلی قانون کو واپس لیا جائے گا۔ کرناٹک کابینہ نے سابقہ ​​بی جے پی حکومت کے ذریعہ منظور کردہ تبدیلی مذہب مخالف قانون کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر قانون اور پارلیمانی امور ایچ کے پاٹل نے وزیر اعلیٰ سدارامیا کی قیادت میں 15 جون کو ہونے والی کابینہ کی میٹنگ کی قراردادوں کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کی۔ متنازعہ کرناٹک پروٹیکشن آف رائٹ ٹو فریڈم آف ریلجن ایکٹ، 2022، جسے مذہب کی تبدیلی مخالف بل کے نام سے جانا جاتا ہے کو ستمبر 2022 میں گورنر کی منظوری مل گئی تھی۔ اس پر کانگریس جیسی اپوزیشن جماعتوں، وکلاء اور کارکنوں نے یکساں طور پر تنقید کی تھی۔ سدارامیا حکومت تبدیلی مذہب مخالف قانون کو منسوخ کرنے کے لیے بل لا کر یا آرڈیننس جاری کر کے منسوخ کر سکتی ہے۔کرناٹک کے قانون میں کہا گیا ہے کہ جو کوئی بھی غیر قانونی تبدیلی کرتا ہے اسے تین سے 10 سال کی قید اور 50000 روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ یہ بین المذاہب شادیوں کو روکنے کے واضح ارادے کے ساتھ بھی منظور کیا گیا تھا۔جمعرات کے روز کرناٹک کابینہ نے اسکولی نصاب میں کئی تبدیلیوں کو منظوری دے دی ہے۔ سابقہ بی جے پی حکومت میں جن ابواب کو کتابوں میں شامل کیا گیا تھا، انھیں ہٹایا جائے گا۔ حکومت نے اسکولوں میں آئین کی تمہید کو پڑھنا بھی لازمی بنا دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کرناٹک کی اسکولی کتابوں میں تبدیلی کو لے کر کئی دنوں سے تبادلہ خیال ہو رہا تھا۔ کتابوں میں ہونے والی تبدیلی کی جانکاری ملنے کے بعد سے ہی بی جے پی ریاستی حکومت پر حملہ آور تھی۔ حالانکہ جمعرات کو سدارمیا حکومت نے یہ حتمی فیصلہ سنایا کہ کتابوں میں ضروری تبدیلیاں کی جائیں گی۔ اس تبدیلی کو لے کر کانگریس حکومت نے پانچ رکنی کمیٹی بنائی ہے جس کی قیادت راجپا دلاوائی کر رہے ہیں۔ کتابوں سے جہاں ہیڈگیوار اور ساورکر کو ہٹایا جائے گا، وہیں نہرو اور امبیڈکر کی انٹری ہوگی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چھٹی کلاس سے لے کر دسویں کلاس تک کے سوشل سائنس کی کتابوں میں کچھ ابواب تبدیل کیے جائیں گے۔ آر ایس ایس بانی کیشو ہیڈگیوار سے جڑا مضمون ہٹایا جائے گا اور ساورکر سے جڑے سبھی حصوں کو بھی حذف کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں رائٹ وِنگ لیڈر چکرورتی سلی بیلے کے ذریعہ لکھے گئے باب کو بھی ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ یہ بھی جانکاری ملی ہے کہ ساوتری بائی پھولے کو اسکولی کتاب میں جگہ دی جائے گی اور ساتھ ہی ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی چٹھی سے لے کر اندرا گاندھی تک کو شامل کیا جائے گا۔