بنگلورو:۔ریاست کے مختلف اسکولوں میں جانچ کے دوران پتہ چلا ہے کہ محکمہ تعلیمات عامہ کی ہدایت پر بچوں نے اپنی اپنی اسکولوں میں جو آدھار کارڈس جمع کروائیے ہیں، ان میں سے تقریباً 15لاکھ طلباء کے نام انہوں نے اسکولوں میں رجسٹریشن کے دوران جو نام دیئے ہیں اس سے میل نہیں کھارہے ہیں اس لئے حکام نے والدین کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ادھار کارڈس میں ناموں کو درست کروالیں۔17فروری کو جاری ایک سرکیولر میں مرکزی حکومت نے ہدایت دی ہے کہ تمام طلباء کے والدین جو مختلف اسکالر شپ اسکیموں سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے بچوں کے آدھار کارڈس اَ پ ڈیٹ کروالیں،اسکول کے نام اور آدھار کارڈ کے نام میں کچھ فرق ہے تو فوری ادھار کارڈ میں نام درست کرائیں۔ اسکولوں میں بچوں کے آدھار کارڈس جمع کروانا لازمی ہے۔ محکمہ کے افسروں نے جب اسکول ریکارڈس سے آدھار کارڈ کا موازنہ کیا تو لاکھوں بچوں کے نام اسکول ریکارڈس سے میل نہیں کھارہے ہیں۔ اس کے بعد محکمہ اسکول ایجوکیشن اور لٹریس نے جو انفارمیشن فراہم کیا۔اس کے مطابق ایک کروڑ سے زیادہ طلباء میں سے تقریباً78لاکھ طلباء کے آدھار کارڈس کی جانچ کی گئی ہے۔ اسکول ریکارڈ سے آدھار کارڈ کے نام کا میل نہ کھانا ایسے زیادہ معاملے وجئے پور،باگل کوٹ اور دھارواڑ اضلاع میں پائے گئے۔ اکثر بچوں کے نام تین الفاظ پر مشتمل ہیں۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق اسکول ریکارڈس میں بچوں کے نام تبدیل نہیں کئے جاسکتے جو کچھ بھی کرنا وہ آدھار کارڈ ہی میں کروانا ہے۔متعلقہ محکمہ نے ہدایت دی ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ناموں کی تصحیح کرکے دوبارہ متعلقہ اسکولوں میں آدھار کارڈ جمع کروائیں۔ ماہ فروری سے جانچ ہورہی ہے۔ تقریباً 14لاکھ طلباء نے اپنی اسکولوں میں آدھار کارڈس جمع نہیں کروائے ہیں جب محکمہ نے سوال کیا تو اسکولوں کے منتظمین نے جواب دیا ہے کہ اکثر والدین نے بچوں کی پیدائش سرٹی فکیٹ جمع کروائی ہے۔محکمہ نے کہا ہے کہ اسکولوں میں بچوں کے ناموں کیا اندراج کرواتے وقت والدین بہت زیادہ چوکنا رہیں۔ اکثر معاملات میں پیدائشی سرٹی فکیٹ کے نام آدھار کارڈ کے نام سے میل نہیں کھاتے۔ داخلہ کے دوران اسکول انتظامیہ برتھ سرٹی فکیٹ کے نام کا استعمال نہیں کرتے۔ اسکول سے جاری عرضی میں جو نام لکھے جاتے ہیں اس نام کااستعمال کرتے ہیں۔اس لئے جب اسکول میں عرضیاں بھرنے کے دوران بچوں کے صحیح نام لکھیں۔
