’’یادوں کے جھرونکو ں سے‘‘

مضامین
از؛۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا ۔ 9902672038
بات ہے تو 1966کی جب کہ میری عمر صرف چار سال تھی۔ تاہم مجھے یہ بات اچھی طرح یاد ہے کہ میں اپنی نانی جان کے ساتھ بیلگام ضلع کے شہر سنکیشور میں قیام پذیر اپنی خالہ کے گھر گیا تھا۔ اس زمانہ میں ان کا مکان ندّی گلی میں تھا۔ سنکیشور میں بہنے والی اس برساتی ندی سے متصل میدان میں کاشتکاری کی جاتی تھی اور عموماََ ندی میں آنے والے باڑ کے باعث فصلیں تباہ ہوجاتی تھیں۔ البتہ موسم باراں کے بعد جب باڑ کا خطرہ ٹل جاتا تو اس میدان میں دوبارہ کھیتی کی جاتی تھی۔ باڑ کے باعث ہی یہ میدان رہائش کے قابل نہ رہ کر صرف کھیتی باڑی کے لئے رہ گیا تھا۔ البتہ یہاں میدان سے لگا ہوا مشہور ’’شیو لنگ مٹھ‘‘ واقع ہے۔
میری خالہ جان کے مکان کی دوسری سمت ایک کافی بڑا مکان تھا جس کے عقب میں ایک باغیچہ تھا ۔ جس میں مختلف پھلوں کے درخت تھے۔ اس مکان ہی میں مجھ سے قریباََ چار سالہ بڑا لڑکا موہن اپنے والدین کے ساتھ رہا کرتا تھا۔ وہ مجھے کھیلنے باغیچہ میں لے جایا کرتا اور پھل توڑ کر دیا کرتا تھا۔ موہن سے میری یہ پہلی ملاقات ، کھیل کود اور باغ میں پھل کھانا میرے ذہن میں نقش ہوکے رہ گئے اور آج بھی یہ یادیں بالکل تازہ ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے کہ یہ کل ہی کا واقعہ ہو۔
اس کے بعد سنکیشور آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ والدہ صاحبہ ہر چھ ماہ بعد پندرہ دنوں کے لئے مجھے ساتھ لئے ہوئے سنکیشور چلی آتیں اور یہ پندرہ دن موہن کی رفاقت میں خوب گزرتے۔ رفتہ رفتہ میرے تئیں موہن کی محبت بڑھتی گئی اور موہن سے میری انسیت میں بھی اضافہ ہوتارہا۔ ہبلی میں موہن کی یاد سے دل بے قرار ہوجاتا اور خواہش ہوتی کہ والدہ جلد از جلد سنکیشور کاپروگرام بنائیں تاکہ میری موہن سے ملاقات ہوسکے۔ اس زمانہ میں والدہ کی طرح خالہ جان بھی پندرہ دنوں کے لئے ہمارے ہاں چلی آتیں۔ چار سال تک چلا یہ سلسلہ ہمارے بچپن کا سنہری دور رہا ہے۔
پھر ہوا یوں کہ 1970 خالہ جان نقلِ مکانی کرکے بس اسٹانڈ کے قریب جا بسیں۔جس کی وجہ سے میرا موہن سے رابطہ نہ رہا۔ تیس سال قبل خالہ اور خالو جان اللہ کو پیارے ہوگئے پھر تو سنکیشور جانے کا کوئی جواز ہی نہ رہا۔ زندگی کی بدلی کروٹ کے ساتھ وقت کا پہیہ چلتا رہا اور روز مرہ کے نشیب و فراز کی نہ تھکانے والی مصروفیات نے مجھے ایک طرح سے جکڑے رکھا۔
گزشتہ سال مہاراشٹر کے شہر’’کراڈ‘‘ میں قیام پذیر میرے چھوٹے بھائی پروفیسر جمیل احمد سے مل کر ہبلی واپس آرہا تھا تو قومی شاہرہ سے لگے ایک اور شہر ’’نیپانی‘‘ سے گزرنے کے بعد جب کار سنکیشور کی جانب بڑھنے لگی تو ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح آیا اور مجھے اپنے لڑکپن کے ساتھی موہن کی یاد آگئی جبکہ موہن سے ملے ہوئے پچاس سال سے زائد کا طویل زمانہ بیت چکا تھا۔میں نے کار ڈرائیو کررہے اپنے کزن سے کار بائی پاس سے شہر کے اندر لے جانے کے لئے کہا تو ان کے استفسار پر میں نے موہن سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے کہا کہ آپ بھی عجیب ہیں نصف صدی بعد آپ اپنے بچپن کے ساتھی سے ملنا چاہتے ہیں۔یہ تو سوچئے کہ سنکیشور جانے اور ملاقات کرنے میں تقریباََ دو گھنٹے ضائع ہوجائیں گے جبکہ ہم دو گھنٹوں میں ہبلی پہنچ سکتے ہیں۔ مگر میں اپنی بات پر اڑا رہا کہ مجھے موہن سے ملاقات کے لئے جانا ہی ہے۔ تو انہوں نے بادلِ نخواستہ گاڑی کا رخ سنکیشور کی سمت موڑ دیا۔
پچاس سال بعد بھی مجھے شہر کی وہ ندی گلی کی راہ یاد رہی تاہم گلی کی سمت مڑنے والے دو راہے پر مجھے الجھن ہوئی تو میں نے کار رکوائی اور میرے کزن نے ایک راہگیر سے ندی گلی کے لئے راستہ پوچھا اور ہم چل پڑے۔ میں نے دیکھا کہ ندی گلی تو جوں کی توں ہے البتہ کچھ پکے مکانات تعمیر ہوچکے ہیں۔ جب ہم ’’شنکر شیو لنگ مٹھ‘‘ کے قریب پہنچے تو اس غیر مسلم اکثریتی علاقہ میں میرے ساتھ موجود برقعہ پوش اہلیہ اور بیٹی کو دیکھتے ہوئے لوگوںکی حیرانی بڑھی کہ ایک مسلم فیملی موہن کا پتہ کیوں پوچھ رہی ہے؟ میں ان کی متجسس نگاہوں کی پرواہ کئے بغیر موہن سے ملنے کی خلش اور تشنگی لئے ہوئے ماضی کی یادوں میں کھویا ہوا تھا کہ ایک تیس پینتیس سالہ نوجوان قریب آیا اور کہا کہ میں موہن کا بیٹا امیت ہوں۔ اس نے میرا تعارف اور آنے کی وجہ دریافت کی۔ جب میں نے میرے اور موہن کے تعلقات سے اسے آگاہ کیا تو وہ تھوڑی دیر تو بت بنا گم سم کھڑا آبدید نگاہوں سے مجھے تکتا رہا اور رندھے گلے سے بتایا کہ بیس سال پہلے دل کا شدید دورہ پڑنے سے موہن چل بسا ہے۔ یہ دلسوز اطلاع ملتے ہی میرے دل کو بھی اک دھچکا سا لگا اور میں اپنے آنسووں پر قابو نہ رکھ سکا۔
امیت ہمیں لئے ہوئے اپنے مکان پہنچا۔ میں نے دیکھا کہ مکان کے پیچھے باغیچہ کی جگہ ایک بڑی عمارت تعمیر ہوچکی ہے۔ جبکہ میری خالہ جان کے مکان کی چھت ٹوٹی ہوئی تھی البتہ دروازے پر پرانا تالا موجود تھا۔ اس بوسیدہ مکان سے میرا ایک قلبی لگاو رہا ہے کیونکہ چار سے آٹھ سال کی عمر تک میرا وہاں وقفہ وقفہ سے قیام اور ساتھ میں موہن کی رفاقت بھی رہی ہے۔ میں کافی دیر تک دم بخود مکان کو تکتا رہا۔
ڈرائنگ روم میں ہم گزری باتیں شیئر کررہے تھے کہ تقریباََ 90 سالہ موہن کی ضعیف ماں بھی ہم سے ملنے تشریف لائیں۔ میری اہلیہ نے جب مراٹھی زبان میں انہیں اپنے کھنڈرنما مکان کی بابت بتایا کہ یہاں ان کی والدہ رہا کرتی تھیں جن کا نام یہ تھا ۔ نام سنتے ہی موہن کی والدہ کی پیشانی کی شکنیں غائب ہوگئیں اور آنکھوں سے آنسووں کی لڑی جاری ہوگئی۔ انہوںنے آگے بڑھ کر میری اہلیہ کو لپٹا لیا اور میری خالہ جان کو یاد کرکے کافی دیر تک روتی رہیں۔ برسوں پہلے جدا ہونے والے بیٹے کی یاد نے انہیں تڑپا دیا۔ موہن کی بیوی بھی اپنے شوہر کے تذکرہ پر جذباتی ہوگئی تھیں، امیت بھی باپ کی یاد سے غمزدہ ہوگیا تھا۔ آدھے گھنٹہ تک دکھائی دینے والا یہ جذباتی منظر بتاتا ہے کہ انسانی رشتہ مذہب، زبان، رنگ و نسل کے محتاج نہیں ہوتے۔ کیونکہ یہ معاملہ ہے دل کا اور دل پر تو کسی کا زور نہیں چلتا۔ چائے وغیر ہ سے فارغ ہونے کے بعد ہم نے اجازت لی اور موہن کی جاں گداز یاد کے ساتھ بوجھل قدمو ں سے واپسی ہبلی کے لئے روانہ ہوئے۔
اس واقعہ کو میں نے بنگلور سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ڈیکن ہیرالڈ کے ادارتی صفحہ RIGHT IN THE MIDDLE  کیلئے بعنوان OLD MEMORIES DIE HARD اشاعت کے لئے روانہ کیا۔ مضمون چونکہ انسانی رشتوں کی جذباتی عکاسی کرتا ہے اس لئے فوری طور پر شائع بھی ہوگیا۔ پچاس سال بعد لکھے گئے مضمون سے موہن کے تئیں میری محبت اور جذباتی لگاونے قارئین کو متاثر کیا اور بیشتر قارئین نے فون کے ذریعہ اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ مجھے خیال آیا کہ جب اخبار کے قارئین کو موہن سے روشناسی ہوگئی تو ایسے خوشی کے موقع پر موہن کی فیملی کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ میں نے سنکیشور میں مقیم اپنے ایک رشتہ دار سے رابطہ کیا اور موہن کے گھر کا پتہ بتا کر اس کے بیٹے امیت کا فون نمبر مجھے روانہ کرنے کے لئے کہا۔ ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا کہ امیت کا فون آیا اس نے خوش دلی کے ساتھ بتایا کہ میری ملاقات اس کے ذہن میں اب بھی تازہ ہے۔میں نے امیت کو بتایا کہ آج ڈیکن ہیرالڈ اخبار میں موہن کے تعلق سے میرا لکھا ہوا مضمون شائع ہوا ہے دیکھ لیں۔
دو گھنٹہ بعد امیت کا فون آیا۔ فون پر سنائی دینے والی اس کی لرزتی آواز سے بے انتہا خوشی ٹپکتی ہوئی محسوس ہوئی کہ اس کے آنجہانی باپ پر برسوں بعد انگریزی اخبار میں مضمون شائع ہوا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہاٹس ایپ کے ذریعہ اس نے اپنے رشتہ داروں ، دوستوں اورموہن کے دوستوں کے ساتھ آرٹیکل شیئر کیا ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ اسی رات دوبارہ امیت کا فون آیا کہا کہ شام سے اس کے گھر رشتہ داروں اور دوستوں کی آمد کا تانتا بندھا ہوا ہے۔اور موہن کے تئیں ہورہے تذکرہ سے یوں لگ رہا ہے کہ موہن ان کے درمیان موجود ہے اور ان لوگوں سے جیسے گفتگو کررہا ہے۔ جبکہ موہن کو اس دارِ فانی سے کوچ کئے ہوئے 20 سال سے زائدمدت گزرچکی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے انسان کو احساسات اور جذبات جیسی نعمتوں سے بھی نوازا ہے جو ساری انسانیت پر محیط ہوا کرتے ہیں۔