بنگلورو:۔:۔ کرناٹک میں بی جے پی حکومت میں ہونے والا ہنگامہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اب ایم ایل سی اے ایچ وشوناتھ بھی ان لوگوں میں شامل ہوگئے ہیں جنھوں نے وزیر اعلی بی ایس یڈی یورپا کی قیادت کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور پارٹی کے بارے میں عوامی رائے منفی ہوچکی ہے جسے اچھا نہیں کہا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی یدی یورپا کے بیٹے بی وائی وجیندر اور ان کے دوست یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم رقم جمع کرتے ہیں اور اسے دہلی بھیجا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یدی یورپا کی عمر اور صحت ایسی نہیں ہے کہ انہیں وزیر اعلی کی حیثیت سے حکومت چلانی چاہئے۔ اب کسی اور کو اس کی رہنمائی میں قیادت کی ذمہ داری دی جانی چاہئے۔انتظامیہ میں خاندانی مداخلت کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوگئی۔وشوناتھ نے کہا کہ ریاست میں انتظامیہ میں خاندانی مداخلت کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوتی جارہی ہے اور انہوں نے اس معاملے کے سلسلے میں بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری اور کرناٹک میں پارٹی امور کے انچارج ارون سنگھ سے بات کی ہے۔واضح ہو کہ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب بی جے پی کے نیشنل جنرل سکریٹری اور کرناٹک میں پارٹی امور کے انچارج ارون سنگھ بنگلور کے دورے پر ہیں اور اس دوران ان کی وزراء، ممبران اسمبلی اور پارٹی کارکنوں سے بات چیت ہورہی ہے۔ابھی دو دن پہلے ہی دیہی ترقی اور پنچایت راج کے وزیر ایشورپا نے بھی کہا تھا کہ پارٹی میں شامل کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ یڈی یورپا کو وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔
