مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
بھارت میں بی جے پی کے برسر اقتدارحکومت کا مقابلہ کرنے کیلئے ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں نے ایک محاذ تیارکیاہے اور اس محاذ کے ذریعے سے آنےوالے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں،اس محاذ کانام انڈیا رکھاگیاہے اور اس انڈیامیں ملک کی مختلف سیاسی جماعتیں موجودہیں جو کبھی یوپی اے محاذ میں شامل تھیں۔ایسانہیں ہے کہ انڈیا ایکدم سے پاکیزہ اور ایماندار سیاسی جماعتوں کا محاذہے،اس انڈیامیں بھی بدعنوانوں، رشوت خوروں اور مفادپرست سیاسی جماعتیں بھی ہیں،جو وقتاً فوقتاً حکومتوں پرفائزرہے اور اپنے اپنے طریقے سے عوام کا استحصال کرتے رہے۔لیکن اس وقت بھارت میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد جو حالات بدترین ہوچکے ہیں،ان حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے انڈیا نے جو پہل کی ہے وہ اُس کی تائید ضرورکرنی ہے،کیونکہ ڈاکوسے بہتر چورہےاور چور سے بہتر چندی چور ہے۔ایک طرف ان چندی چوروں کی بات ہے تو دوسری طرف بی جے پی کے ڈاکوئوں کا گروہ ہے،جو مسلسل ملک کو لوٹتاجارہاہے۔ایسےمیں وزیر اعظم نریندرمودی کو اچانک یہ خیال آیاہے کہ انڈیا لفظ بیرونی ممالک سے آنےوالے انگریزوں اور حملہ آواروں کی طرف سے دیاجانےوالانام ہے،اس لئے اس ملک کا نام بدل کر بھارت رکھنے کا فیصلہ لیاجارہاہے۔اس سمت میں انڈیاکی حکومت نے آہستہ آہستہ شوشے چھوڑنے کاکام شروع کردیاہے تاکہ ماحول بن سکے۔جس طرح سے وزیر اعظم نریندرمودی کی ہمیشہ سے عادت رہی ہے کہ وہ ایک جھوٹ کوسچ ثابت کرنے کیلئے اُس وقت تک جھوٹ بولتے رہتے ہیں جب تک کہ لوگ جھوٹ کو سچ نہ سمجھ لیں۔اب اپنے ہر سرکاری دستاویز میں بھارت لفظ استعمال کیاجارہاہے،تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ بھارت نام کو راتوں رات رکھ دیاگیاہے۔غورطلب بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندرمودی کو انڈیالفظ بیرونی حملہ آوروں کا دیاہواہے یہ سمجھنے کیلئے اُنہیں پورے دس سال کا عرصہ لگاہے۔گزشتہ دس سالوں سے وزیر اعظم نریندرمودی نے انڈیالفظ کا استعمال کرتے ہوئے مختلف اسکیموں کا آغاز کیاہے۔مثلاً میک ان انڈیا،جیتے گا انڈیا،اسٹارٹ اپ انڈیا،کھیلو انڈیا،اسٹانڈ اپ انڈیا،ڈیجیٹل انڈیا،کلین انڈیا،اسکل انڈیا جیسی اسکیموں کا اعلان کیاہے۔اس کے علاوہ وزیر اعظم مودی نے اپنے الیکشن میں لوگوں کو باربار کہاہے کہ بی جے پی کو جیتانا انڈیا کو جیتانے کے برابرہے اور انہوں نے انڈیا کو جیتانے کیلئے لوگوں سے اپیل بھی کی تھی۔اُس وقت مودی جی کو کبھی بھی یہ خیال نہیں آیاکہ یہ لفظ بیرونی حملہ آوروں کی طرف سے دیاجانےوالالفظ ہے،مگر اب اپوزیشن جماعتوں نے جب اپنے محاذ کا نام انڈیا رکھ دیاتو انہیں یہ خوف ستانے لگاکہ کہیں لوگ واقعی میں انڈیا محاذ کو جیتانے کیلئےپیش رفت نہ کردیں۔ مودی جی کو خوف کھائے جارہاہے کہ لوگ انڈیا اسکیموں کو اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے جاری کئے گئے اسکیم کو نہ سمجھ بیٹھیں۔اگر اپوزیشن جماعتیں اپنے محاذ کانام انڈیاکے بجائے بھارت رکھ لیتے تو ممکن ہے کہ مودی جی بھارت کا نام ہٹاکر انڈیاہی رکھنے کیلئے زور دیتے۔حقیقت یہ ہے کہ مودی اور بی جے پی کو عادت ہوگئی ہے کہ حقیقت کو چھپاکر مٹاکر جھوٹ کو عوام پر تھوپاجائے۔بچپن میں ہم نے ایک لطیفہ پڑھاتھاکہ،جاپان کے سائنسدانوں نے ایک انوکھا پین تیارکیاتو اسے دیکھ کر امریکہ کے سائنسدانوں نے پین کی ریفل تیارکی،پھرروس کے سائنسدانوں نے اس پین کو رکھنے کیلئے ایک ڈبہ تیارکیاتھا،جب بھارت کے سیاستدانوں کو اس بات کی خبرہوئی تو انہوں نے اس پین ،ریفل اور ڈبہ کو بھارت امپورٹ کروایا اور اس پر میڈ ان انڈیارلکھ دیا۔بالکل اسی طرح سے مودی جی بھی کسی کی محنت کو مٹانے کیلئے اپنی طرف سے کچھ نہیں کررہے ہیں تو حقیقت کو چھپاکرمٹاکر اپنا نام روشن کررہے ہیں۔
