ٹماٹر کے بعد لہسن کی قیمت میں اضافہ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
ہاویری:۔ہاویری ضلع رانی بنور تعلقہ میں زیادہ تر علاقے میں لہسن کی کاشتکاری کی جاتی ہے ہلگیرہ  گاؤں لہسن کی کاشتکاری کے لئے بہت مقبول ہے اس مرتبہ اگائی گئی لہسن کی فصل 600-300 ایکٹر علاقے میں بارش کی کمی قحط سالی کی وجہ سے فصل کی گراوٹ آئی ہے۔ گزشتہ تین ماہ میں ٹماٹر کے قیمتوں میں دوگنااضافہ ہونے سے گاہکوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا،لیکن اس بار لہسن کا نمبر شر وع ہوا ہے ایک کلو لہسن کی قیمت 200 ₹ روپئے تک پہنچی ہے۔لہسن کی دوگنی قیمت پر گاہکوں کو بہت زیادہ پریشانی سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔چھوٹالہسن کی قیمت 15000 ہزار تک ہے حال ہی میں موٹے لہسن کی قیمت 10سے 12ہزار تک فروخت ہو رہی تھی۔ اب لہسن خریدنے کے لیے دور دراز علاقوں سے بیجاپور ،بلاری، داونگیرہ ،شیموگہ، بلگاوی، کوپل، باگلکوٹ سے تاجر آنے کی وجہ سےفی کنٹل لہسن کو 10 ہزار قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے بازار میںلہسن کو کلوگرام یعنی کے جی کے حساب سے خریدنےوالے گاہک اب صرف 100، 200 گرام خریدنے لگے ہیں۔ منڈیوں میں لہسن کی اچھی قیمت ملنے پر کسانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے،لیکن عوام کی جیب پر بھاری اثرپڑاہے۔ ہیرےکیرور ، بیاڑگی، رانی بنور، گتگل اور اس پاس  علاقے کے کسان کم مقدار میں اگاے ہوئے لہسن کی فصل کو حفاظتی طور پر گودام ، گھروں میں ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے اور بازاروں میں کسان لہسن کے اچھی سائز کے حساب سے قیمت طے کررہے ہیں اور چند علاقوں میں بارش کی کمی و خشک سالی کی وجہ سے کئی کسان خوفزدہ ہو کر  فصلوں کی  امدادی  حل  کیلئے حکومت سے توقع لگائے بیٹھے ہیں ۔منکور دیہات کے کسان گوندپا  اور ہرے کیرور کے محمد ابراہیم سے اس سلسلے میں کہاکہ ہمارے علاقے میں لہسن کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے اس بار بہت زیادہ خرچ کرنے کے باوجود بارش وقت مقررہ پر نہیں ہو پائی ہے اس کے علاوہ بورویل کا پانی بہا کر کم مقدار میں فصل آنے سے اور اچھی قیمت ملنے پرخوشی ملی ہے ۔